دشت جاں میں سنوکہرام ھوئی ایک غزل
اے غم عشق تیرے نام ھوئی ایک غزل
لہو انکھوں میں اتر آتا ھے یہ سوچ کے اب
اس کی باتوں میں تھا ابہام ھوئی ایک غزل
ایک عرصے سے کوئی شعر نہیں لکھا تھا
اس چاہت کا یوں پیغام ہوئی ایک غزل
میری ہر ایک غزل اس کو پسند آئی ہے
جانے کیوں بے وجہ بدنام ہوئی ایک غزل
یوں تو غزلوں کو مری کتنے ہی لوگوں نے پڑھا
اس نے جو پڑھ دی وہی عام ہوئی ایک غزل
وہ غزل جس میں اشارہ تھا تری آنکھوں کا
عمر بھر کا میرا انعام ہوئی ایک غزل
یوں تو شاہین ہوا کرتا ہے شب میں الہام
کیا ہوا آج سر شام ہوئی ایک غزل
شاہین اشرف علی۔













