یوں تو شاہین ہوا کرتا ہے شب میں الہام

0
1387

دشت جاں میں سنوکہرام ھوئی ایک غزل
اے غم عشق تیرے نام ھوئی ایک غزل

لہو انکھوں میں اتر آتا ھے یہ سوچ کے اب
اس کی باتوں میں تھا ابہام ھوئی ایک غزل

ایک عرصے سے کوئی شعر نہیں لکھا تھا
اس چاہت کا یوں پیغام ہوئی ایک غزل

میری ہر ایک غزل اس کو پسند آئی ہے
جانے کیوں بے وجہ بدنام ہوئی ایک غزل

یوں تو غزلوں کو مری کتنے ہی لوگوں نے پڑھا
اس نے جو پڑھ دی وہی عام ہوئی ایک غزل

وہ غزل جس میں اشارہ تھا تری آنکھوں کا
عمر بھر کا میرا انعام ہوئی ایک غزل

یوں تو شاہین ہوا کرتا ہے شب میں الہام
کیا ہوا آج سر شام ہوئی ایک غزل

شاہین اشرف علی۔

SHARE

LEAVE A REPLY