وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا , آج اس خوبصورت غزل کے خالق کی برسی ہے۔
اطہر نفیس کی اس غزل میں جو کیفیت موجود ہے اس کی تفسیر بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ ان کے غزلیات میں کوئی مشکل لفظ کم ہی آتا ہے۔ جو ترسیل میں دشواری پیدا کرے۔ اس لیے اطہر نفیس کا ہر شعر اپنی کیفیت خود بیان کر دیتا ہے۔
اطہر نفیس جس دور میں شاعری کر رہے تھے اس زمانے میں کئی ایسے شعرا موجود تھے جو اپنے اسلوب کے لحاظ سے منفرد انداز رکھتے تھے۔ ان میں فیض احمد فیض، منیر نیازی، حبیب جالب وغیرہ تھے تو ہم عصروں میں ابن انشا،مصطفیٰ زیدی، شکیب جلالی، اقبال ساجد اور عزیز حامدمدنی وغیرہ تھے۔ لیکن اطہر نفیس نے ان کے درمیان سے ایک نئی راہ نکالی۔ ان کے یہاں بہت سادگی ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام اہم گلوکاروں نے ان کی غزلوں کو اپنی آواز دی ہے۔ کیوں کہ یہ اشعار بہت آسانی سے سامعین کے ذہن میں اتر جاتے ہیں اور دل پر اثر کرتے ہیں۔
اکیس نومبر 1980کو صرف 47سال کی عمر میں اطہر نفیس نے ذات کی تنہائی سے نجات پالی۔ انٹرنیٹ اور فیس بک کو دعا دیجیے کہ اس کی بدولت دوست احباب ان کی سالگرہ اور یوم وفات پہ انھیں یاد کرلیتے ہیں۔ ورنہ تو شاید ہی کبھی کسی آرٹس کونسل، انجمن ترقی اردو یا کسی اور ادارے نے انھیں یاد کیا ہو ۔
انتخاب، زاہد حسین












