کیوں میری سانس ہچکی بن گئی ہے۔
نظر کس طرح برچھی بن گئی ہے

وہ ہجرت کو بھی قربت کہہ رہا ہے
یہ خامی اسکی خوبی بن گئی ہے

ہتھیلی میں میری اعجاز کیا ہے
یہ مٹی کیسے تتلی بن گئی ہے

سمجھتی تھی خراش ابتک جسے میں
وہی اب چوٹ گہری بن گئی ہے

جسے سب لوگ عاقی جانتے تھے
وہ لڑکی آج پاگل بن گئی ہے

مزاج شہر تو بدلا ہے لیکن
ہوا بھی اب تو آندھی بن گئی ہے

وہ عینی جب بھی چاہے چھوڑ جائے
جدائی اُسکی مرضی بن گئی ہے

سیدہ قرۃ العین نقوی

SHARE

LEAVE A REPLY