تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کیخلاف بھی گھیرا تنگ کردیا گیا۔
سوات پولیس نے پی ٹی آئی سوات کے قائدین کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا۔ ایف آئی آر ایس ایچ او تھانہ سیدو شریف کی مدعیت میں درج کی گئی۔
ایف آئی آر میں سابق ایم پی اے فضل حکیم، سٹی میئر شاہد علی اور سابق ایم این اے سلیم الرحمان سمیت 250 افراد بھی نامز د کئے گئے ہیں۔ ایف آئی آر میں بغاوت ،اشتعال انگیزی اور دھمکی کی دفعات بھی شامل ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق پی ٹی آئی قائدین نے حکومت اور پاک فوج کے خلاف بیان بازی کی۔
دوسری جانب 9 مئی کو سوات ایکسپریس وے ٹول پلازہ میں توڑ پوڑجلاؤ گھیراؤ کے الزام میں گرفتار 13 ملزمان کو انسداد دہشت گردی مالاکنڈ کی خصوصی عدالت میں پیش کیاگیا جس میں 9 ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر لیویز کے حوالے کیاگیا جبکہ 4 ملزمان کو جوڈیشل کر کے جیل بھیج دیا گیا۔
انتظامیہ ٹول پلازہ کیس کا ریکارڈ عدالت میں پیش نہ کر سکے جس پر اے ٹی سی جج نے لیویزفورس کو دو جون کو ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا۔ سوات ایکسپریس وے ٹول پلازہ کیس میں ٹوٹل 55 افراد گرفتار ہیں جبکہ مقدمہ میں نامزد112 ملزمان روپوش ہیں۔











