پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کے بعد تیس چالیس لوگوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے جبکہ انھوں نے چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ جمشید دستی کے خلاف انتقامی کارروائی کی جارہی ہےلہذا وہ اس کا نوٹس لیں۔
ملتان ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ جمشید دستی ضمیر کا قیدی ہے، حکومت بتائے دستی کو ڈیرہ غازیخان سے سرگودھا جیل کیوں منتقل کیا گیا ہے، لیگی ایم پی اے نے پولیس اہلکار کو گاڑی کے نیچے دیکر مارڈالا اوراسے وی آئی پی پروٹوکول دیا جارہا ہے جبکہ جمشید دستی کو غریبوں کےلئے پانی کھولنے کی سزادی جارہی ہے۔
بابر اعوان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو انکے ابا جی کے بیان کے بعد جے آئی ٹی میں طلب کیا گیا، حکمران سن لیں اس مرتبہ معافی کا موقع نہیں ملے گا ، جے آئی ٹی کے بعد تیس چالیس لوگوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔
بابر اعوان نے الزام لگایا کہ حکومت بجٹ کا پیسہ دوستوں کو نوازنے پرلگا رہی ہے جبکہ حکمران جنوبی پنجاب کے عوام کے دوست نہیں ہیں آئل ٹینکر حادثے میں دوسو کے قریب افراد لقمہ اجل بن گئے اگر برن یونٹ ہوتے تو ہلاکتیں کم ہوتیں۔
ان کا کہناتھا کہ ملک میں پانی کی قلت ہے اور حکمران میٹرو بسز جیسے منصوبے بنارہے ہیں،آئندہ الیکشن میں وزیراعظم عمران خان ہوں گے












