ممتاز قلم کار سلمیٰ اعوان کا سفر نامہ ،،،عراق اشک بار ہیں ہم،،، عالمی اخبار میں ہربدھ کو قسط وار

0
44

عالمی اخبار کا اعزاز ہے سلمیٰ اعوان کا یہاں شائع ہونا

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

عراق اشک بار ہیں ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلمیٰ اعوان کا سفر نامہ مسلسل اقساط میں

عالمی اخبار کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے میں، صفدر ہمدانی، پاکستان کی عالمی سطح پر معروف اور ممتاز قلم کار سلمیٰ اعوان صاحبہ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں۔

یہ ہمارے لیے باعثِ فخر اور اعزاز ہے کہ انہوں نے اپنے موقر سفرنامے کی قسط وار اشاعت کے لیے عالمی اخبار پر اعتماد کیا۔ میں اپنی جانب سے، ادارتی بورڈ اور تمام قارئین کی طرف سے ان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس اعتماد کو ہمارے لیے ایک قابلِ قدر اعزاز سمجھتا ہوں۔

مجھے یقین ہے کہ ان کا یہ شاندار سفرنامہ اپنی منفرد طرزِ بیان، مشاہدات اور فکری گہرائی کے باعث قارئین کی بھرپور توجہ حاصل کرے گا اور ہر قسط ایک نئی ادبی اور فکری لذت سے آشنا کرے گی۔

اس سفرنامے کی نئی قسط ہر بدھ کو اسی صفحے پر شائع کی جائے گی۔

صفدر ہمدانی
مدیرِ اعلیٰ، عالمی اخبار

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

تعارف
سلمیٰ اعوان جالندھر کے مضافاتی گاؤں سمّی پور میں 1943میں پیدا
ہوئیں۔ پنجاب اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے تعلیمی مراحل طے کیئے۔ فضائیہ بیس
لاہور سکول کی پرنسپل، اخبار خواتین، اردو ڈائجسٹ ،ہفت روزہ زندگی،
جنگ، نوائے وقت اور خبریں میں فری لانس صحافی، اور پھر اپنے اسکول کا
قیام اور انتظام پیشہ ورانہ زندگی کے چند گوشے ہیں۔
1967 سے2026تک قلم کارشتہ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ ناول، افسانے،
سفرنامے اور کالم سب ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ اس وقت تک 29 کتابیں چھپ
چکی ہیں اور الحمدُ اللہ سب مارکیٹ میں موجود ہیں۔
2025میں ستارہ امتیاز سے نوازی گئی۔اللہ کا یہ بڑا احسان ہے کہ سینئر
اور جونیر سبھی ادیبوں نے اس ایوارڈ پر مسرت کا اظہار کیا کہ یہ جینوئن
ادیب کو دیا گیا ہے۔
میرے لیئے یہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ میں صفدر ھمدانی جیسے
عظیم شاعر اور بڑے انسان کے اخبار میں چھپنے جا رہی ہوں۔اللہ پاک انہیںاپنی سلامتی میں رکھے سدا۔ وہ اردو ادب کا مان ہیں۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

قسط نمبر :1

”عراق اشک بار ہیں ہم “

سلمیٰ اعوان
سچ تو یہ تھا کہ ایک کہانی کی تخلیق کے لیے میں اپنے بھیجے کا تیل نکالنے میں کسی کولہو
کے بیل کی طرح آنکھوں پر کھوپے چڑھائے چوبی ہل کے ساتھ جُتی دن رات چکر پر چکر
کاٹے چلی جا رہی تھی۔
بات تو اتنی سی تھی کہ سفرِ روس کے دوران روس کی صحافتی زندگی کے ایک بے باک پر
مقتول کردار نے مجھے جپّھی ڈال لی تھی۔ یوں تو وہ ایک لفظ بھی نہیں بولی تھی پر پتہ نہیں
کیوں اُس کا متین سا سچائی کی لو سے دمکتا چہرہ میری آنکھوں میں رچ گیا۔ دل میں بس گیا۔
میرے سنگ سنگ رہنے لگا۔ ایک دن میں نے اپنے آپ سے کہا تھا۔
”بھئی اب اُردو پڑھنے والوں سے اُس کا ملانا بہت ضروری ہو گیا ہے۔“
پھر کہانی بُنی جانے لگی۔
جب میں نے اُس کے بالوں کو سنوار کر اُن میں پھول چٹریاں سجا لیں۔ سک مسّی لالی سے
ہونٹوں سُرمے کاجل سے آنکھوں ماتمی پوشاک اور حُزن و یاس میں ڈوبے گیتوں سے اُسے
رخصت کر بیٹھی تو احساس ہوا کہ اب کیا کروں؟
اُچھل پیڑے یوں بھی ٹکنے نہیں دیتے۔ ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں بھاگی پھروں۔
خجل ہوتی رہوں۔
اب خود سے پوچھتی ہوں۔ کہاں چلنا ہے؟ کہیں بھی سوائے ٹامیوں اور سامیوں کے دیس کے۔
باقی سب جگہیں قبول ہیں۔ پر مصیبت ساتھی کی۔ ہمیشہ ساتھ چلنے والی نے مہم جوئی دکھا دی
تھی۔ نازک سی نئی نویلی گاڑی کا دیو جیسے ٹرک سے پیچا لڑا دیا۔ اُس نے وہ پٹخنیاں دیں کہ
یقیناً چھٹی کا دودھ یاد آ گیا ہوگا۔ وہیں اُسے یہ بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ بچی کیسے؟ کسی
بڑی نیکی نے جیسے دروازہ کھٹ سے کھول کر اُسے فٹ پاتھ پر لُڑھکا دیا۔
دھان پان سی مہر النساء کو گاڑی کے سُرمہ بننے کے ملال کے ساتھ ساتھ خود پر اوپر والے
کی نظرِ عنایت کا بھی پورا احساس تھا۔ شکر گزاری کے سجدوں کی مدت کم از کم سال بھر تو
ٹھہری۔
”بھئی سر نہیں اٹھانا مجھے تو۔“
اب ایسے میں میں کیا کرتی؟ ایک دن شیریں مسعود کا ایس ایم ایس پر ایران جانے کا پیغام ملا۔
”ایران“ میں نے پکوڑا سی ناک سکیڑی اور لمبی سانس بھری۔

”ہائے کہیں عراق چلی جاؤں نا۔ ایک کہانی جنگ کے زمانے سے بلا رہی ہے۔ جائے بغیر
اُسے پیرہن کیسے پہناؤں؟ یوں بھی میرے خوابوں کے بغداد کا ظالموں نے حشر کر دیا ہے۔
دیکھنا چاہتی ہوں۔“
یونہی کہیں بچوں کے سامنے ذکر کر بیٹھی۔ انہوں نے تو وہ لتّے لیے کہ بولتی کو جیسے
سانپ سونگھ گیا۔ بڑے والے نے ماں کی ایسی بے سُری خواہشوں کا ذکر بہن سے کر دیا۔ اُس
نے پل نہیں لگایا۔ بڑی ہیجلی بو بو نے فون کھڑکھڑا دیا۔
”بس بس باز رہیں ایسی مہم جوئیوں سے۔ ہماری تو جان آپ میں ہی پھنسی رہے گی۔“
تپ چڑھی۔
”لو اِن کی محتاج ہوں نا میں۔ میرے نان نفقے کا بوجھ اُٹھاتے ہیں نا یہ۔ رُعب تو دیکھو۔ ساری
زندگی اِن کے پیچھے گال دی۔ ابھی بھی رجّے نہیں۔“
پر چھوٹے والے نے تو حد ہی کر دی۔ اُس کی تو منطق ہی عجیب تھی۔
”جیسی ٹٹ پنجھی (شکستہ غریب سی) خود ہیں ویسے ہی مُلکوں میں جاتی ہیں۔ کبھی سری
لنکا جا وڑھیں گی کبھی رنگون۔ ارے امریکہ انگلینڈ جاتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کیا؟ چلو
کسی یار دوست کے سامنے بندہ ڈھینگ ہی مار لیتا ہے۔ بے نیازی اور خاندانی رجّے پجّے
ہونے کا تاثر دیتا ہے۔
”یار امّاں تو آج کل ذرا امریکہ گئی ہوئی ہیں۔ واپسی پر انہیں انگلینڈ بھی رُکنا ہے۔ بہت مِس کر
رہا ہوں۔“
”چلو امریکہ انگلینڈ سے الرجک ہیں تو آسٹریلیا چلی جائیں۔ عائشہ باجی نے ہزار بار کہا ہے۔
شو بازی کے لیے وہ بھی کچھ اتنا بُرا نہیں۔“
وہ اگر چھوٹا سا ہوتا تو میں نے کھینچ کر جُوتا اُس کے جباڑے پر مارنا تھا جیسے میں اُس
کے بچپن میں اکثر مارا کرتی تھی۔ مگر اُس وقت وہ پانچ فٹ دس انچ کا لوہاری دروازے کے
ماجھے ساجھے جیسے تن و توش رکھنے والوں جیسا بنا ہوا تھا۔
میں نے ”حرام زادہ“ منہ بھر کر کہا تھا۔
ایسا کرنے اور کہنے میں اُس کی فضولیات پر میرے غصے اور کھولاؤ دونوں کی یقیناً تسکین
تھی۔
”میں تو وہ کروں گی جو میرا من چاہے گا۔“
اِن ہی بھول بھلیّوں میں کچھ یاد آیا تھا جو ذہن سے اوجھل ہوا پڑا تھا۔
مصر پر ایک کتاب لکھی تھی۔ ”مصر میرا خواب“۔ کتاب لکھ کر اُس کی رونمائی کروانا بھی
اب بیٹی کو بیاہنے کی طرح ایک مجبوری بن گئی ہے۔ سوچا کہ بھئی مصر پر لکھا ہے تو
مصر والوں کو بھی خبر کرو۔ یہ کیا کہ سوتے ہوئے بچے کا منہ چوم رہی ہوں نہ ماں کو خبر
نہ پیو کو پتہ۔ تھوڑی سی ہل جل کرو۔
سفیر صاحب کو لاہور بُلانے کا سَدا بھیجا۔ جواب آیا۔ بڑے مشکور ہیں ہم کہ آپ نے ہمارے
دیس پر لکھا۔ اب حق تو ہمارا بنتا ہے۔ پچاس لوگوں کی بارات لے کر جولائی کے پہلے ہفتے
ہمارے گھر اسلام آباد تشریف لے آئیں۔ اب اس البیلی داستان کی روئیداد کی تفصیل کا کیا ذکر
کہ من آنم و من دانم۔ بہرحال سفارت خانے کی اِس نوازش کا بہت شکریہ کہ بہتیری عزت دے
ڈالی جس کا ہمیں گمان تک نہ تھا۔

یہیں سفارت خانے میں تقریب کے اختتام پر ایک اُونچے لمبے نوجوان نے اپنا تعارف ابو شینب
الہیثم سفیرِ فلسطین کی حیثیت سے کرواتے ہوئے کہا۔
”ہمارے ملک فلسطین پر لکھیے۔“
”لو میاں۔ ہمارے تو نتھنے پُھولے۔ جی باغ باغ ہوا۔ سالوں پُرانی خواہش کی تکمیل کے آثار
نمودار ہوئے۔
فلسطین پر بھلا کس کافر کا جی لکھنے کو نہ چاہے گا اور فلسطین کی سرزمین پر اُترنے کی
تمنا کون نہ کرے گا؟
پر ایک مصیبت تھی۔ میں اس وقت سفرنامۂ روس کے کھلارے میں تن من سمیت ڈوبی پڑی
تھی۔ ایسا بڑا میدان کہ جس نے میرے کس بل نکال دیے تھے۔
درمیان میں یہ ایک اور نازک گہرا اور گھمبیر سا پنگا۔
گھر آ کر سوچا کہ پہلے ایک سے تو نپٹوں۔ کہیں دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا والی بات ہو
جائے۔ دو کشتیوں کا سوار بالعموم غڑاپ سے پانیوں میں لڑھک جاتا ہے۔ بچتا بچاتا کہیں نہیں
سیدھا ڈوبتا ہے۔ کوئی بخت ور اور قسمت والا ہو تو دوسری بات۔
اور میں جتنی بخت ور اور قسمت کی دھنی ہوں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

SHARE

LEAVE A REPLY