کیا خواب تھا کہ جس کی ہے تعبیر کربلا

0
1308

تفہیم کربلا
کیا خواب تھا کہ جس کی ہے تعبیر کربلا
رمز من الحسین کی تفسیر کربلا

سجدے کو ثبت کر گیا لوح زماں پہ جو
اس نفس مطمعنہ کی تصویر کربلا

سوکھی زباں پہ ذکر تھا اصحاب کہف کا
نوک سناں پہ جرأت تقریر کربلا

جو کٹ گیا ہے خنجر خونخوار شمر سے
ہے اس گلے کے خون کی تاثیر کربلا

مارے گیے جو پیاس کے صحرا میں بے خطا
ان کے لیے ہے أج بھی دلگیر کربلا

سورج تو ڈوب جاتا ہے ہر شام کو مگر
ہر دم جو ضو فشاں ہے وہ تنویر کربلا

عباس ہے علی کاوہ فرزند ارجمند
جس کےبریدہ ہاتھ میں شمشیر کربلا

ہرلفظ دل دریدہ تھا ہر سطر خوں میں تر
نوک قلم پہ تھی دم تحریر کربلا

ظالم کے ساتھ جینا بھی اک ظلم ہے نوید
اس نکتۀ حیات کی تشہیر کربلا

سلام گزار: زاہد حسین  نوید

SHARE

LEAVE A REPLY