قسط انتیسویں
عصر کے وقت
امام حسین(ع) نے اپنے اصحاب سے فرمایا
کہ
روانگی کی تیاری کریں
اور پھر نماز عصر کے وقت
امام علیہ السلام اپنے خیمے سے باہر آئے
اور مؤذن کو اذان عصر دینے کو کہا
نماز عصر ادا کرنے کے بعد لوگوں سے مخاطب ہوئے
حمد و ثنائے پروردگار کے بعد فرمایا
” اے لوگو!
خدا سے ڈروگے
اور حق کو اہل حق کے لئے قرار دوگے
تو خداوند متعال کی خوشنودی کا سبب فراہم کرو گے
ہم اہل بیتِ
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
منصب خلافت
ولایت و امامت کے کہیں زیادہ حقدار ہیں
ان غیر حقی دعویداروں کی نسبت
جن سے اس منصب کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے
اور تمہارے ساتھ ان کا رویہ غیر منصفانہ ہے
اور وہ تمہاری نسبت ظلم و جفا روا رکھتے ہیں
اس کے باوجود
اگر تم ہمارا حق تسلیم نہیں کرتے ہو
اور ہمارے اطاعت کی طرف مائل نہیں ہو
اور تمہاری رائے
تمہارے خطوط میں لکھے ہوئے مضمون سے ہم آہنگ نہیں ہے
تو میں یہیں سے واپس چلا جاتا ہوں”
حر بن یزید ریاحی نے کہا
“مجھے ان خطوط و مراسلات کا کوئی علم نہيں ہے
جن کی طرف آپ کا اشارہ ہے
اور مزید کہا
ہم ان خطوط کے لکھنے والوں میں سے نہیں تھے
ہمیں حکم ہے
کہ
آپ کا سامنا کرتے ہی آپ کو ابن زياد کے پاس لے جائیں”
امام حسین علیہ السلام نے
اپنے قافلے سے مخاطب ہوکر فرمایا
“واپس لوٹو!”
جب وہ واپس جانے لگے تو
حر اور اس کے ساتھی سدّ راہ بن گئے
اور حر نے کہا
“مجھے آپ کو ابن زیاد کے پاس لے جانا ہے”
امام(ع) نے فرمایا
“خدا کی قسم!
میں تمہارے پیچھے نہیں چلوں گا”
حر نے کہا
“میں آپ کے ساتھ جنگ و جدل پر مامور نہیں ہوں
لیکن مجھے حکم ہے
کہ
آپ سے جدا نہ ہوں حتی کہ آپ کو کوفہ نہ لے جاؤں
اگر آپ میرے ساتھ آنے سے اجتناب کرتے ہيں
تو
ایسے راستے پر چلیں
جو
کوفہ کی طرف جارہا ہو
نہ
کہ
مدینہ کی طرف
تا کہ
میں خط میں
عبید اللہ بن زیاد کے لئے روانہ کروں اور بتاؤں
کہ
آپ اور آپ کے اصحاب ساتھ ہیں
آپ بھی
اگر چاہيں تو ایک خط یزید کے لئے لکھیں
شاید
یہ امر عافیت اور امن و آشتی پر منتج ہوجائے
میرے نزدیک یہ عمل
اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے
کہ
میں آپ کے ساتھ جنگ و جدل میں آلودہ ہوجاؤں “
امام حسین علیہ السلام نے
کچھ نہ کہا
اور
“عذیب” اور “قادسیہ” کے بائیں جانب سے روانہ ہوئے
جو عذیب سے 38 میل کے فاصلے پر تھے
جہاں حر آپ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا
پو پھٹتے وقت
امام حسین(ع) البیضہ کی منزل پر رک گئے
اور نماز صبح ادا کی
اور پھر اپنے اصحاب اور اہل خاندان کے ساتھ روانہ ہوئے
حتی کہ ظہر کے وقت
سرزمین “نیوا “ میں پہنچے
ابن زياد کے قاصد نے خط حر بن یزید ریاحی کے حوالے کیا
جس میں اس نے لکھا تھا
” جونہی میرا خط تم تک پہنچے اور میرا قاصد تمہارے پاس آئے
تو
حسین ع پر سختی کرو
اور ۔۔ انہیں
لق و دق اور بےآب و گیاہ زمین پر اترنے پر مجبور کرو!
میں نے اپنے ایلچی کو حکم دیا ہے
کہ
تم سے جدا نہ ہو
تاکہ
وہ میرے فرمان پر عملدرآمد کی خبر مجھے پہنچا دے “
حر نے ابن زياد کا خط امام حسین(ع) کو پڑھ کر سنایا
امام(ع) نے فرمایا
“ہمیں “غاضریہ” میں اترنے دو”
حر نے کہا
“یہ ممکن نہیں ہے
کیونکہ
عبید اللہ
یہ خط پہنچانے والا قاصد
ابن زیاد کی طرف سے مجھ پر جاسوس ہے!”
امام حسین علیہ السلام کے ایک ساتھی
زہیر بن قین نے کہا
“خدا کی قسم!
مجھے محسوس ہورہا ہے
کہ
اس کے بعد
ہمیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا
؛ یابن رسولِ اللہ!
اس وقت اس گروہ (حر اور اس کے ساتھیوں) کے ساتھ لڑنا زیادہ آسان ہے
ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی نسبت
جو ان کے پیچھے آرہے ہیں
میری جان کی قسم!
ان کے پیچھے ایسے افراد آرہے ہیں
جن کے ساتھ لڑنے کی طاقت ہمارے پاس نہيں ہے
“امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
“درست کہہ رہے ہو اے زہیر
لیکن میں جنگ شروع کرنے والا نہ ہونگا”
زہیر نے کہا
فرات کے کنارے ایک بستی ہے
جہاں حفاظت کے لئے قدرتی انتظام موجود ہے
اور اس کو ایک طرف کے ساتھ تمام اطراف سے فرات نے گھیر لیا ہے
امام حسین(ع) نے پوچھا
اس بستی کا نام کیا ہے؟
عرض کیا
اس کا نام “عقر (کربلا کا ایک ٹکڑا ) ” ہے
۔امام (ع) نے فرمایا:
“خدا کی پناہ مانگتا ہوں عقر سے!”
پس ساتھ ساتھ چلتے رہے حتی کہ “کربلا” پہنچ گئے
جاری ہے













