خانہ فرہنگ ایران لاہور اور ادبی تنظیم راستی کی محفلِ مسالمہ ۔ تاثیر نقوی

0
1243

یومِ عاشور کے خیریت سے اختتام پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ جلوسوں اور مجالس کے منتظین نے خُدا کا شکر بجا لایا کہ ملکِ خداداد پاکستان میں ہر جگہ محرم کا عشرہ خیریت سے مکمل ہوا لیکن دراصل محرم کا آغاز تو اب ہوا ہے اور یہ سلسلہ 8 ربیع الاول تک چلے گا اس دوران ہم سب مکاتب فکر پر یہ ذمہ داری ہے کہ شر پسند عناصر پہ کڑی نظر رکھتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں اور انتظامیہ کی طرف سے بھی اسی تعاون کی اُمید ہے۔ مجالسِ سوئم امامِ ؑعالی مقام ہر امام باگاہ اور عزاخانوں میں منعقد ہو رہی ہیں ہم بھی موچی دروازہ میں امام بارگاہ خواجہ احمد علی وایئں متصل نثار حویلی سے ادریس حیدر خواجہ متولی امام بارگاہ کی دعوت پر مجلس میں شرکت کے بعد گھر پہنچے اور تھکاوٹ سے چور آرام کر رہے تھے کہ فون کی گھنٹی نے اُٹھا دیا یہ فون ہماری بہت ہی قابلِ صد احترام بہن آپا نیلما ناہید دُرانی کا تھا اور وہ بروز جمعہ خانہء فرہنگ ایران لاہور میں ادبی تنظیم راستی کے تعاون سے منعقد کیئے جانے والی محفلِ مسالمہ میں شرکت کی دعوت دے رہی تھیں ۔ اتنے پیار اور محبت سے بلاوے پر انکار یا معذرت کی کوئی گنجائش نہیں تھی یہ اعزاز اور ثواب کی بات تھی سو صُبح 9 بجے شرکت کا وعدہ کر لیا اب جلد اٹھنا مسئلہ تھا لیکن حسبِ عادت جلد اٹھ کر سوا نو بجے خانہء فرہنگ پہنچ گیا۔ گیٹ پر پولیس گارڈ کو تعارف کروایا جس نے استقبالیہ میں داخلے کے لیئے دروازہ کھول دیا جہاں سے سیکیورٹی سرچ کے بعد گایئڈ کی ہدایت کے مطابق اندر بلڈنگ میں قائم لایئبریری میں پہنچ گیا جہاں ہم سے پہلے آپا نیلما، طارق واصفی، زبیدہ حیدر زیبی اور آغا علی مزمل موجود تھے۔ پھر آہستہ آہستہ شعراء وہاں پہنچنا شروع ہوئے جن میں ثمینہ سید، ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ، افتخار شوکت چوہدری، عرفان صادق اور دیگر شعراء بھی تشریف لا چکے۔ محفل کے دیر سے شروع ہونے کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ صاحبِ صدارت پروفیسر حسن عسکری کاظمی کا انتظار ہے جو بزرگی کی وجہ سے سواری کے منتظر تھے اور اسی سہارے اُنھیں خانہ فرہنگ پہنچنا تھا ۔ آپ ادبی دنیا میں ممتاز مقام رکھتے ہیں شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ دانشور و ماہرِ تعلیم اور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ آج کی محفل کی خاص بات یہ بھی تھی کہ موجودہ قونصل جنرل خانہ فرہنگ آقائے علی اکبر رضائی فرد کی کاوشوں سے قائم کی گئی لایئبریری میں اس بابرکت محفل کا انعقاد کیا جا رہا تھا اور اس طرح اس لایئبریری کا افتتاح بھی ہو گیا۔
صاحبِ صدارت کی آمد پر محفلِ مسالمہ کا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوا اور اس کے بعد نعتِ رسولِ مقبولؐ کا نذرانہء پیش کیا گیا ۔ اس محفلِ مسالمہ کی نظامت آپا نیلما خود انجام دے رہی تھیں اور محفل کے آغاز میں ہی آپ نے حفظِ مراتب سے دعوتِ کلام دینے پر اونچ نیچ سے معذرت کر لی تھی ۔ اس طرح سب سے پہلے اپنا کلام سنانے کے بعد آغا علی مزمل، زبیدہ حیدر زیبی، عفت علوی، افتخار شوکت چوہدری ایڈوکیٹ، مدثر اعظمی، عالیہ بخاری ہالہ، شبہ طراز، شاہان مظفر و ہمنوا برائے فارسی کلام علامہ اقبال، ثمینہ سید، ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ، نیلما ناہید درانی( دوبارہ)، خانم فاطمہ( زوجہ قونصل جنرل) ، عرفان صادق، تاثیر نقوی، طارق واصفی اور صاحبِ صدارت جناب پروفیسر حسن عسکری کاظمی کو دعوتِ کلام دی جو سب شعراء نے اپنا اپنا خوبصورت کلام سنا کر امامِؑ عالی مقام کے حضور نذرانہء عقیدت پیش کیا۔ ان کے بعد آخر میں قونصل جنرل خانہءفرہنگ ایران لاہور آقائے علی اکبر رضائی فرد نے تمام شعراء کا شکریہ ادا کیا اور لایئبریری اور اس میں قائم کئے گئے مختلف شعبہء ہائے کے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا اور مہمانوں کی ہائی ٹی سے تواضع کی۔
یہاں پر شعراء کا مکمل کلام پیش کرنے کی بجائے ان کے کلام میں سے انتخاب پیشِ خدمت ہے۔

نیلما ناہید درانی۔

. احمدؐ کے گھرانے کی عزادار ہوں لوگو
میں فاطمہؑ زہرا کی طرفدار ہوں لوگو۔

آغا علی مزمل۔

خیر البشرؐ کی گود کا پالا حسینؑ ہے
کیا شان ہے کیا مرتبے والا حسینؑ ہے۔

زبیدہ حیدر زیبی۔

حسینؑ تیرا چرچا گھر گھر گلی گلی ہے
ہر دل میں ہے محمدؐ زباں پر علیؑ علیؑ ہے۔

عفت علوی۔

ازانِ صبح سے پہلے نمازِ شام سے پہلے
میں اُن کا نام لیتی ہوں کسی بھی کام سے پہلے۔

افتخار شوکت چوہدری

حسنؑ حسینؑ علیؑ فاطمہؑ پہ لاکھوں سلام
میں اس گھرانے کا شوکت ہوں ادنئ غلام۔

عالیہ بخاری ہالہ۔

حسینؑ کرب و بلا میں ہے پیاس ہونٹوں پر
ہے وردِ نامِ خدا بن کے آس ہونٹوں پر۔

شبہ طراز۔

نظم ۔ شہادت گُل رنگ۔

ثمینہ سید۔

دنیا میں نامِ نامی ہے اونچا حسینؑ کا
لکھے گا ہر زمانہ قصیدہ حسینؑ کا۔

ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ۔

ہر دل پہ نقش نام ہے پیہم حسن کا
ہوتا رہے گا دہر میں ماتم حسینؑ کا۔

عرفان صادق۔

چراغ اِس لیئے شب کو بجھانے والا ہوں
میں روشنی کو نئی سمت لانے والا ہوں

تاثیر نقوی۔

تھے کربلا میں حیدرِؑ کرار یاد کر
کیسے کٹے تھے بازو، وہ یلغار یاد کر
میدانِ کربلا میں بڑی جنگ کے لیئے
بے شیرؑ جب ہوئے تھے نمودار یاد کر۔

طارق واصفی۔

اسلام۔کی بقاء ہے عنایت حسینؑ کی
ہم پر کھلی کہاں ہے حقیقت حسینؑ کی
ہر دور اُن کا دور ہے تاجدار ِ کائنات
ہر دور کے لیئے ہے امامت حسینؑ کی

پروفیسر حسن عسکری کاظمی۔

ایک شہرہ ہے میرا طرفہ کلامی کے لیئے
زندگی وقف ہے شبیرؑ کی غلامی کے لیئے۔

ؑ میں نے جب گھر پہ کیا علمِ عباسؑ بلند
آئے افلاک سے جبریئل سلامی کے لیئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY