نقیب اللہ ہلاکت، ایس ایس پی راو انوار کی گرفتاری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے

0
264

نقیب اللہ ہلاکت کیس میں ایس ایس پی راو انوار اور انکے ساتھ اس کاروائی میں شامل دیگر پولیس والوں کی گرفتاری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اس ضمن میں باوثوق ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ مقتول کے والدین کراچی آ رہے ہیں جسکے بعد انکی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی

اس سے قبل کی اطلاعات کے مطابق

امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کراچی میں جنگل کا قانون ہے، اگر نقیب اللہ محسود کے قتل پر کارروائی نہیں کی گئی تو ہم وزیر اعلیٰ سندھ کو نقیب اللہ کا قاتل سمجھیں گے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کو معطل کرنا کوئی سزا نہیں ہے یہ تو معمول کی کارروائی ہے، جس شخص کے دامن پر 424 افراد کے قتل کے دھبے ہیں، انہیں ہم عدالتوں میں دیکھنا چاہتے ہیں اور سندھ حکومت اور آصف زرداری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کیس پر کارروائی کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا ہر شہری راؤ انوار کو ظالم کہتا ہے اور یہ ایک ایسے پولیس افسر ہیں جو عدالتوں کے ماورا لوگوں کو قتل کرنا اپنا مشغلہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں بہادر ہوں۔

سراج الحق نے کہا کہ اگر راؤ انوار اتنے ہی بہادر ہیں تو انہیں پاک بھارت سرحد پر بھیجا جائے یا ان کو کسی جنگی محاذ پر بھیجا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں جو نظام ہے اس میں بوڑھا، جوان، بچہ کوئی محفوظ نہیں، کراچی میں 118 پولیس مقابلوں میں 424 افراد کو قتل کیا گیا، اگر یہ سب مجرم تھے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ پولیس شہریوں کو گرفتار کرے اور ویرانے میں جا کر قتل کردے، ہم حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ نقیب اللہ کا جرم کیا تھا۔

شاہ لطیف ٹائون میں مبینہ پولیس مقابلے میں نقیب اللہ کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر ایس ایس پی رائو انوار کو عہدے سے برطرف کرتے ہوئے سی پی او رپورٹ کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد کراچی پولیس میں اکھاڑ پھاڑ شروع ہو گئی۔آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی ملیر راؤ انور احمد خان کو عہدے سے ہٹا کر انہیں سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ ایس پی انویسٹی گیشن ٹو ایسٹ زون اور راؤ انوار کے قریبی سمجھے جانے والے افسر محمد الطاف سرور ملک کو بھی سی پی او رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY