صرف انکار، انکار، انکار ھے۔شاہجہاں جعفری حجاب

0
880

انکار نامہ
سر جھکا کے ہراک حکم میں مان لوں؟
حق کے بدلے میں خیرات اور دان لوں؟
اک تڑی پار کا کوئی فرمان لوں؟
ایک فرعون کو میں خدا جان لوں؟
مجھ کو انکار ھے، صاف انکارھے
ملک میں نفرتوں کا جو آئین ھے
یہ تو باپو کے خوابوں کی توہین ھے
ایسی گندی ذہنیت پہ نفرین ھے
چپ رہوں زیرِ کرگس جو شاہین ھے؟
مجھ کو انکارھے، صاف انکار ھے
کیب، این آر سی کو میں سمّان دوں؟
اندھے قانون کو کس طرح مان دوں؟
دیش بھکتی کا میں تم کو پرمان دوں؟
کیاکہا اپنے آباء کی پہچان دوں؟
مجھ کوانکار ھے، صاف انکار ھے
اس کی ضد ھے کہیں سب وہ بھگوان ھے
سر سے پاؤں تلک جو کہ شیطان ھے
جھوٹ، دھوکہ دہی جس کا ایمان ھے
اس لٹیرے کو کہہ دوں دیاوان ھے؟
مجھ کو انکارھے، صاف انکار ھے
خودکشی پہ جو مجبور دہقان ھے
قبر ہر سو، ہراک سمت شمشان ھے
اب یہ بھارت نہیں، ہندو استھان ھے
کیا یہ اقبال کا وہ گلستان ھے؟
مجھ کو انکار ھے، صاف انکار ھے
کس لئے ہم پہ دہشت کی بہتان ھے؟
ہم ہیں غدّار کیوں کہ مسلمان ہیں؟
ہم کو باہر بھگانے کے ارمان ہیں؟
وہ نکالیں گے جو خود ہی مہمان ہیں؟
مجھ کو انکار ھے، صاف انکارھے
اِن کے جھوٹے سبھی عہدو پیمان ہیں
یہ تو این آر سی کے ہی سامان ہیں
سچ تمھارے خطا سارے اوسان ہیں
چھین کے حق یہ کہتے ہو احسان ھے؟
مجھ کو انکار ھے، صاف انکار ھے
صرف انکار، انکار، انکار ھے۔۔

شاہجہاں جعفری حجاب

SHARE

LEAVE A REPLY