اسلام اورحقوق العباد (10)۔شمس جیلانی

0
770

ہم گزشتہ قسط میں یہاں آنے کے بعد پیدا ہونے والے مسائل پر بات کرتے ہوئے یہاں تک پہونچے تھےکہ آپ قلعہِ واحد میں یعنی گھر میں پوری طرح پہلے دن سے اسلام کو قائم کرلیں کیونکہ ابھی نہ کیا توآگے چل کر آپ کچھ نہ کرسکیں گے کیونکہ آگے رکاوٹیں بڑھتی جائیں گی ؟اور اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ پہلے خود عامل ہوجائیں اور پھر بچوں ا ور دوسرے گھروالوں کو کہیں ۔مگرانتہائی نرمی سے کیونکہ سختی یہاں ناقاابلِ معافی ہے؟ یعنی ایسا نہ کریں کہ نمازِ فجر کے لیے انہیں زبردستی ا ٹھا کر کھڑاکردیں ۔جیسا کہ بہت سے وہاں کرنے عادی تھے اور کرتے آئے تھے۔کہ یہاں اس معاملے میں زمینی حقائق بھی ساتھ نہیں اور قوانین اور معاشرہ بھی۔ کیونکہ ہر طرح سے یہاں اور وہاں میں دن اور رات کا فرق ہے۔ مثلاً وینکور میں جوکنیڈا کے انتہائی مغرب میں ہے، جب دن کے آٹھ بجے ہوں گے تو پاکستان میں رات کے آٹھ بجے ہوتے ہیں۔ جبکہ سردیوں میں یہاں ایک گھنٹہ گھڑیوں کو پیچھے کر دیتے ہیں تو فرق تیرہ گھنٹے کا ہوجاتا ، اسی طرح ٹورنٹو جوکہ مرکز میں واقع ہے اس کےوقت میں ونکور سے تین گھنٹے کافرق ہےاور جو علاقہ کنیڈ ا کےا نتہائی مشرق میں ہے اس کے وقت میں وینکور سے ساڑھے چار گھنٹے کا فرق ہے۔ اس کا خیال ہر وقت رکھنا ہوگا دوسرے شہروں کے لوگوں سے رابطہ وغیرہ کرنے میں ۔ دوسرے یہ فرق جسمِ انسانی پر بہت بری طرح اثر انداز ہوتا ہے اور اسے مقامی نظام الاوقا ت پر لانے کے لیے چند دن لگیں گے۔

یہاں نئے آنے والوں کو ایک مشکل اور آتی ہے ، وہ ہے پاکستان کا کلچر کہ اس کے مطابق رات کو دیرتک جاگنے اور دن میں کم ازکم نو دس بجے تک سونے کی عادی ہوتے ہیں، جبکہ موسم کے حساب سے یہاں کبھی اندھیرے میں اٹھ کر جانا ہوتا ہے، توکبھی دھوپ چڑھے کیونکہ سردیوں کے دن بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور گرمیوں کے بہت بڑے ۔لہذا ہر جگہ کامقامی نظام ِ او قات دیکھ کر خود کو وقت کی ضرورت کے مطابق اسی صورت میں ڈھالنا ہو تا ہے۔اس سلسلہ میں بھی اگر حضور(ص) کے اسوہ حسنہ سے رجوع کریں گے تو رکن اول یعنی نمازوں کے لیے ہدایت آپ کو مل جائے گی کہ آپ یہاں نماز کیسے اد کریں۔ میں یہاں یہ بحث چھیڑ کر آپ کو الجھن میں نہیں ڈالناچاہتا۔ اس کو مزید کوبچوں مزید سمجھانا چاہیں تو آپ کو بچوں کو سمجھانے کے لیے انٹر نیٹ پر مفت بہت سے ماہر دماغ مل جائیں گے جو تفصیل سے بات سمجھا دیں گے کہ دن میں بہت زیادہ سو نا انسان کے دماغ پر کتنے برے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اور یہااں اس کی سائنس سے بھی تصدیق ہو جائے گی کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دن کو کام کے لیئے اور رات کو آرام کے لیے کیوں بنایا۔

اسی طرح کھانے میں اگر ماہرین غذائیات کو پڑھیں گے تو وہاں سے اسلام کی حقانیت کی تصدیق ہوجائے گی وہ کیوں پورک کا گوشت کھانے کو منع کرتا ہے۔ یا تمام نشے والی چیزوں کا استعمال منع ہے۔ یہاں یہ آیت ہمارے لیئے مشعل ِ راہ ہے کہ“ جو کوئی کچھ کرتا ہے وہ اپنے لیئے کرتا ہے“ یعنی اسکا فائدہ اسی کو ہے۔ بندے کام یہ ہے کہ آج کی طرح دنیا میں ہم جیسےکہ کسی مشینری کے استعمال سے پہلے اس کی تفصیلات سے واقف ہونا چاہتے ہیں۔ پھر اسی پر عمل پیرا ہوتے اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ یہاں کیوں طریقہ کار اس سے مختلف اختیار کرتے ہیں کہ خالق اللہ کو مانیں بھی اور اپنے سلسلہ میں ا س کلیہ پر عمل نہ کریں ؟ ہونا یہ چاہیئے تھاکہ جس کو اس نے حلال کہدیا حلال مانتے ااور حرام کہدیا اس سے رک جاتے۔ یہ کوئی عقلمندی کی بات تو نہیں ہے کہ یہاں اس کے برعکس کریں؟ا گر اپنے لیے وہی کلیہ نہیں استعمال کریںگے تو نقصان آپکا ہو گا بنانے والے کا نہیں، جبکہ یہاں بنانے والا علیم ،عزیز اور حکیم بھی ہے جس میں کوئی اس کا ثانی نہیں ہے۔ چونکہ یہاں نئے آنے والوں کے لیے یہ تفصیلات جاننا ضروری تھیں جو ہم نے بیان کردیں، اس لیے کہ اسلام کا پہلارکن نماز ہے۔ اب پھر وہیں آتے ہیں“ عدل اور حسن“ پر کہ ان دو لفظوں کی خوبیاں کیا ہیں جو گھر سے لیکر باہر تک ایک انسان کو کارآمد بنا ئے رکھنے میں کتنا مدگار اور معاون ثابت ہوتے ہیں۔ باقی آئندہ

SHARE

LEAVE A REPLY