کنفیوژڈ جنریشن ۔ ذمہ دار کون؟ سلیم کاوش

0
124

لیڈر، رہنما اور مصلح صرف چند لوگ ہوتے ہیں وہی معاشرتی اور مذہبی اقدار کی حفاظت ، ترجمانی اور تشریح کے ذمہ دار ہوتے ہیں.

ہجوم کو قوم بنانا اور قعم کیلیے منزل کا تعین کرنا انہی رہنماوں کا کام ہوتا ہے. کیونکہ انہیں بلا شبہ امتیازی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور لوگ ان کی بات کو سنتے بهی ہیں، تسلیم بهی کرتے ہیں اور اس پر عمل بهی کرتے ہیں.

قوم میں کتنے بهی صالحین ہوں وہ قرآن کی رو سے اطیعواللہ و اطیعوالرسول و اولوالامر منکم کی رو سے ان حاکموں کی پیروی کرتے ہیں.
یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں

– پہلاسوال:
کیا حاکم خود اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرتے ہیں؟ تاکہ ان کی پیروی کی جاسکے

– دوسرا سوال:

دیکهنا یہ ہے کہ کیا یہ حاکم واقعی “منکم” کی شرط پر پورے اترتے ہیں؟

جب حاکموں کا طرز زندگی اللہ اور رسول کی اطاعت میں نہیں اور نہ ہی وہ اپنا محکوموں میں سے ہونا ثابت کر سکتے ہیں تو پهر کہاں تک ان کے اس رویے کو مشعل راہ بنا کر چلا جائے؟ ایسے میں صالحین کا ایک اور طبقہ سامنے آتا ہے جو علما دین کا ہے. وہ اللہ اور رسول کی پیروی تو کرتے ہیں لیکن حکمران نہیں ہوتے.

اگر یہ علماء لوگ اصلاح معاشرہ کا کام کریں تو یہ قوم کے مصلح کہلاتے ہیں.اب حکمرانوں کا کام عدل و انصاف اور جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دینا ہے اور علما دین کا کام حکمرانوں اور محکوموں کے درمیان پل کا کام کرنا ہوتا ہے. اس کے ساتهہ ساتهہ حکمرانوں کو “اولوالامر منکم” کی شرائط کا اعادہ کروانا ہے.

افسوس کہ آج حکمران اور علماء دین کی ترجیحات ” اطیعواللہ و اطیعوالرسول” سے ہٹ کر دنیوی مفاد پر مرتکز ہیں. ایسے میں قوم کے گمراہ اور نئی نسل کا “کنفیوژڈ جنریشن” ہونا قطعی فطری ہے.

قوم کی دینی اور دنیوی بهلائی کیلیے حکمرانوں اور علماء کو اس کی ذمہ داری کهلے دل سے قبول کرنا ہو گی اور اس منفی صورت حال کیلیے ٹهوس حکمت عملی بنانا ہو گی ورنہ “توہین رسالت” اور اس کے نتیجے میں “قتل و غارت” کا سلسلہ کبهی نہیں رک سکے گا.

SHARE

LEAVE A REPLY