برصغیر کے نامور عالم دین مولانا وحید الدین خان انتقال کر گئے

0
1029

برصغیر کے نامور عالم دین مولانا وحید الدین خان نئی دلی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 96 بر س تھی۔

حال ہی میں ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، انہیں 12 اپریل کو کورونا کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

انہوں نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا، قرآن کی تفسیر بھی لکھی۔

مولانا وحید الدین کو سن دو ہزار میں پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا، اس کے علاوہ بھی مولانا وحید الدین کو کئی انٹر نیشنل ایوارڈز مل چکے ہیں۔

وحیدالدین خاں،اسلامک سکالر،کی ولادت یکم جنوری، 1925ء کو بڈھریا اعظم گڑھ، اتر پردیش بھارت میں ہوئی۔ مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ کے فارغ التحصیل عالم دین، مصنف، مقرر اورمفکر جو اسلامی مرکز نئی دہلی کے چیرمین، ماہ نامہ الرسالہ کے مدیر تھے اور1967ء سے 1974ء تک الجمعیۃ ویکلی(دہلی) کے مدیر رہ چکے تھے۔ آپ کی تحریریں بلا تفریق مذہب و نسل مطالعہ کی جاتی تھے۔ خان صاحب، پانچ زبانیں جانتے تھے، (اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی) ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی دیتے تھے، ٹی وی چینلوں میں آپ کے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ مولانا وحیدالدین خاں، عام طور پر دانشور طبقہ میں امن پسند مانے جاتے ہیں۔ ان کا مشن ہے مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا۔ اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا۔ مسلمانوں میں مدعو قوم (غیر مسلموں) کی ایذا وتکلیف پر یک طرفہ طور پرصبر اور اعراض کی تعلیم کو عام کرنا ہے جو ان کی رائے میں دعوت دین کے لیے ضروری ہے

آپ کے سفر نامے کافی مشہور ہیں۔ جیسے سفرنامہ غیر ملکی اسفار جلد اول ودوم، سفرنامہ اسپین وفلسطین، اسفار ہند وغیرہ۔

خان صاحب لکھتے ہیں کہ:(میری پوری زندگی پڑھنے،سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گذری ہے۔ فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی۔ مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتاہے۔ میری اس تفکیری زندگی کا ایک حصہ وہ ہے جو الرسالہ یا کتب میں شائع ہوتا رہاہے۔ اس کا دوسرا،نسبتاً غیر منظم حصہ ڈائریوں کے صفحات میں اکھٹا ہوتا رہاہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میری تمام تحریریں حقیقتاً میری ڈائری کے صفحات ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ لمبی تحریروں نے مضمون یا کتاب کی صورت اختیار کرلی۔ اور چھوٹی تحریریں ڈائریوں کا جزء بن گئیں۔

ان سب کے باوجود مولانا کی کچھ تحریریں اور ونظریات ایسے ہیں جن کی وجہ سے اہل علم ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اختلاف معمولی نہیں ہے بہت سی باتوں میں یہ جمہور علما اسلام سے الگ رائے رکھتے ہیں۔ جیسے انسان کامل، جہاد، دجال، مہدی، ختم نبوت کا مفہوم، ظلم کو برداشت کرنا اور جوابی کارروائی سے گریز کی تلقین، تقلید شخصی، وغیرہ

SHARE

LEAVE A REPLY