اسلام اورحقوق العباد (11) از ۔۔۔شمس جیلانی

0
976

ہم گزشتہ کالم میں بات کرتے ہوئے واپس عدل اور احسان پر آگئے تھے۔ یہ دو صفات ایسی ہیں کہ جو انسان کو انتہائی کار آمد بنانے اور تقوے کے حصول میں انتہائی معاون ثابت ہوتی ہیں اسی لیئے ا سلام نے انہیں قرآن میں بار بار دہرا یا ہے۔جبکہ عدل تو اتنا ضروری ہے کہ حضور (ص) نے ایک غیر مسلم ملک کو ہجرت کرکے جانےکاحکم صرف اس وجہ دیا کہ وہاں کا حکمراں عادل ہے ۔جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ“ ا نسان بغیر غذا کے زندہ رہ سکتا ہے مگر بغیر عدل کے نہیں “ جبکہ عدل کا دائرہ بہت وسیع لیکن غلطی سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عدل کرنا صرف عدالتوں اور ججوں کا کام ہےہمارا نہں۔ جبکہ اگر ہر مسلمان اپنی ذاتی زندگی میں عادل ہو جائے تو عدالتیں اور وکیل مقدمات کو ترسیں ؟ کیونکہ بات یہاں شروع ہوتی ہے کہ اسقدر تاکید کے باوجود بھی ہماری اکثریت عادل نہیں ہے۔ اگرہمارا شخص عادل ہو ااور بے انصافی نہ کرے تو کسی کو شکایت ہی نہیں پیدا ہوگی۔ پھر عدالت سے رجوع کوئی کیوں کریگا اور کس لیے کریگا۔
سب سے پہلے تو یہ کہ اگر ہم مسلمان واقعی اللہ پرا یمان لے آئیں، بمع تمام اس کی صفات کے جن میں اس کا دانا بینا اور سب پر ہر وقت نگہبان ہو نا شامل ہے تو کیا ایسے میں کوئی مومن کسی کے ساتھ نا انصافی کر سکے گا؟ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔ اس کا مطلب بہت واضح ہے کہ بقول اللہ سبحانہ تعالیٰ کہ “یہ منھ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے مگر دراصل یہ ا سلام لائے ہیں ، ایمان نہیں لائے “ شروع میں ایسا کیوں تھا جو یہ آیت نازل ہوئی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے نبی (ص) ہم میں موجود تھے۔ اور جو کلمہ پڑھ لیتا تھا وہ خود بخود اسلامی صفوں میں داخل ہو جاتا تھا اور نہ صرف تمام مراعات حاصل کرلیتا تھا بلکہ صحابیکا درجہ بھی حاصل کرلیتا تھا۔ جوکہ غیر مسلم رہنے کی شکل میں حاصل نہیں ہوسکتا تھا ۔ لہذا اچھی خاصی تعداد مسلمانوں میں منافقین کی بھی شامل تھی۔ جو جب موقعہ پاتےا پنی اصلیت ظاہر کرتے رہتے تھے، اس کے باوجود حضور(ص) ان سے عفو اور در گزر سے کام لیتے تھے۔ا ب آپ سوال یہ کریں گے آج کیوں ایسا ہے کہ ہم غالب نہیں مغلوب ہیں پھر بھی مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں ۔ جواب یہ ہے کہ اب ان کے سامنے آبائی جاائیداد ،اپنوں سے تعلقات اور معاشرہ مجبور کرتا ہے کہ وہ ااسلام پر پوری طرح عمل کریں یا نہ کریں مگر خود کو مسلمان کہلائیں ؟ ورنہ وہ اپنے گھر سے کٹ جائیں گے خاندان سے کٹ جائیں گے۔ اس لیے آج بھی پیدائشی مسلمانوں کی اکثریت ویسا ایمان نہیں رکھتی ہےجیسا کہ ابتدائی دور کے صحابہ کرام (رض)رکھتے تھے۔ جن کے بارے میں حضور (ص) نے فرمایا کہ گر تم ان کاا تباع کروگے جو آج میرے راستے پر ہیں تو فلاح پا جاؤگے۔ اور ان کی پہچان بزرگوں نے یہ بتائی تھی کہ اگر ان کا ایک فعل بھی خلاف سنت ہو تو وہ ان میں شامل نہیں ہیں۔ لہذ ا اس کانتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان کی تعریف یہ بن گئی کہ جس نے کلمہ پڑھ لیاتو وہ مسلمان ہے چاہیں وہ دین پر عمل کرے یا نہ کرے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ کہ مسلمان تو الحمد للہ بہت ہیں مگر جواس پر پوری طرح عمل بھی کرتے ہوں؟ ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب کہ انہیں کے ا فعال کی وجہ سے بدنام اسلام ہو رہا ۔ جیسے کہ آج کے دور میں شدت پسند دنیابھر میں اسلام کو بدنام کرنے کاباعث ہورہے ہیں ۔
اگر اس مفروضہ کوا ور آگے جھانک دیکھا جا ئے تو بے عمل ہو نے کی وجہ سے مسلمانوں بڑی اکثریت اسلام کی بدنامی کاباعث اور تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ اس میں ہمارے حکمراں سب سے آگے ہیں جن کی اسلام نافذ کرنے کے نام سے جان نکلتی ہے۔ نتیجہ کے طور پر وہ اپنے دروزے داعش کے لیئے کھولنے کو تیار ہیں، شدت پسندوں کے لیئے تیار ہیں مگر اسلام کے نفاذ کے لیئے تیار نہیں ہیں ۔ جبکہ یہ صورت حال ہے کہ دعوے دعوےلمبے کرتے ہیں مگر اس پر عمل کرنے کو کہو تو ان کی جان نکلتی ہے ان ہی کے لیےقرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہ“ اے نبی تم ا نہیں ان کے چہروں کے تغیر سے پہچان سکتے ہو “ ۔ یہ ہی معاملہ احسان کےساتھ ہے کہ اس کاتقاضہ یہ ہے کہ مومن کی دو صورتیں ہیں ایک سب سے بہتر یہ ہے کہ وہ نماز میں للہ کو دیکھ رہا ہے ،اور اس سے کمتر ہے کہ اللہ ا سے دیکھ رہا ہے“ گوکہ یہ نماز کے لیئے ہے مگر درصل ا یمان تقاضہ یہ ہی اور اس کا خیال نہ رکھنا تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ مثلاً کوئی اگر اس پر یقین رکھتا ہو کہ اللہ مجھے دیکھ رہا تو کیا وہ گناہ یا کسی کے ساتھ زیادتی کرسکے گا۔ جس کرسی بیٹھ کر وہ قوم کامال اور وقت ضائع کر رہا ہے ، کرسکے گا رشوت لے سکے گا۔ کمیشن کھا سکے گا۔ جھوٹ بول سکے گا۔ اور جھوٹ نہ بولے تو کوئی برائی ممکن ہے۔ ہر عادل ہر محسن کا جواب یہ ہی ہوگا کہ نہیں! پھر آگے کیا بچتا ہے۔ وہ باپ ہے تو بچوں پر ظلم کرے گا ، فضول خرچی کریگا؟ کیونکہ حضور(ص) نے فرمایا کہ“ ہر چیز کاحساب دینا پڑیگا قیامت کے دن سوائے تین چیزوں کے ایک سر چھپانے کے لیے جگہ دوسرے تن ڈھاپنے کے لیئے کپڑا ور تیسرے زندہ رہنے کے لیے غذا ۔ ان کے علاوہ ہر چیز کا حساب دینا ہو گا۔ پھرباپ ہو یا بیٹا ، فضول جلتی ہوئی لائٹ دیکھے گا تو گل کر دے گا۔ بلا ضرورت گھر محض دکھانے کے لیئےبقعہ نور نہیں بنائے گا نہ اتنا بڑا بنائے گا کہ لوگوں پر رعب پڑے ۔ وغیرہ ، وغیرہ ۔تب اس کی حلال کمائی کا زیادہ تر حصہ راہ ِخدا میں صرف ہوگا جو کہ عاقبت بنا نے کے لیے ہو گا وہ دوسروں کے کام آئے گا۔ یہاں سےاپنے بھجے جانے کے مقصد کے مطابق عقبیٰ بنا کر لے جائے گا تاکہ وہں جاکر اللہ کے سامنے شرندگی نہ اٹھنا پڑے۔ باقی آئندہ

SHARE

LEAVE A REPLY