سیّد آفتاب علی کاظمی ( 1915 – 1981 ) کا شمار پاکستان کے نامور اور صفِ اول کے سوز خوانوں میں ہوتا ہے۔ابتدائی زندگی، تعلیم اور ملازمت
سیّد آفتاب علی کاظمی کی پیدائش دِہلی میں 9 مارچ 1915ء کو ہوئی۔ والد کا نام سیّد ظفریاب علی کاظمی تھا۔ سید آفتاب علی کاظمی نے ابتدئی تعلیم دہلی سے ہی حاصل کی۔ قیامِ پاکِستان کے بعد اپنے والدین اور اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کر کے کراچی میں رِہائِش اِختیار کی۔ اپنی عملی زندگی کا آغاز سِوِل ڈیفنس کے شعبے میں مُلازمت سے کیا۔ وہ ابتدا میں سینٹرل آرڈیننس ڈپو اور پھرسوئیٹزلینڈ کی ایک فرم والکرٹ برادرز کی پاکستانی شاخ میں مُلازم ہوئے۔ اس کے بعد کارکُن ایجینسیز کے نام سے کلیئرنگ فارورڈنگ کا کام شروع کیا۔

فنِ سوز خوانی
سید آفتاب علی کاظمی کے خاندان میں ذاکری پشتوں سے چلی آ رہی تھی تاہم خاندان میں سوز خوانی کی ابتدا سید آفتاب علی کاظمی نے ہی کی اوراسے کمال تک پہنچادیا۔ آزادی سے قبل آل انڈیا ریڈیو سے سوزخوانی، غزلیات و اقبالیات کے پروگرام بھی کیے۔ تاہم بعد میں اپنے آپ کو صِرف اور صِرف سوزخوانی ہی کے لیے وقف کردِیا۔ اور اپنے فن کو مزید جِلا بخشنے کے لیے اپنے وقت کے مشہوُر سارنگی نواز ُستاد حامِد علی خان سے مزید تربیّت حاصِل کی ۔

شعر و سخن
سید آفتاب کاظمی باقاعدگی سے تو شاعری نہیں کرتے تھے۔ تاہم چند ایک سلام اور قطعات کہے ۔

یہ سارے نام صفدر و حیدر، علیؑ کے ہیں

جلوے کہاں کہاں نہ مُنوّر، علیؑ کے ہیں

ہیں مَدحِ شِہہؑ میں اِس طرح مصروُف آفتابؔ

بس یوُں سمجھیئے جس طرح قنبرؓ، علیؑ کے ہیں

انجمنِ سوزخوانان کراچی میں شرکت
1949علّامہ رشید تُرابی کی زیرِ سرپرستی سوزخوانی کی ترویج و فروغ کے لیے انجمنِ سوزخوانان کراچی کی بُنیاد رکھی گئی تو سیّد آفتاب علی کاظمی پہلے جنرل سیکریٹری مُنتخِب ہوئے۔ سید آفتاب کاظمی بھی دبستانِ دِہلی کے نُمائِندہ تسلیم کیے جاتے ہیں۔ جناب نسیمؔ امروہوی کے مرثیوں کا پہلا مجموُعہ آپ ہی کے دورِ صدارت میں انجمن کے پلیٹ فارم سے شائع کیا گیا۔ مملکتِ پاکستان میں روایتی سوزخوانی کی بقاء اس انجُمن ہی کی بدولت مُمکِن ہوئی۔

ریڈیو ٹیلی وژن پرسوز و سلام
ریڈیو پاکستان کراچی اور پاکستان ٹیلی ویژن پر ماہِ محرّم میں سوزخوانی کے پروگراموں کا آغاز بھی آفتاب علی کاظمی ہی کی کوششوں سے ہوا۔ خود انکی آواز میں بھی سوز خوانی ریڈیو پاکستان اور پی، ٹی، وی سے ماہِ محرم کی ٹرانسمشن میں پیش کی جاتی رہی ہے ۔

سیّد آفتاب علی کاظمی صاحِب نے اپنے فن کو نئی نسل تک مُنتقل کرنے میں کبھی بُخل سے کام نہیں لیا اور سوزخوانی کا شوق رکھنے والے کسی بھی فرد کی کبھی حوصلہ شکنی نہیں کی۔ اِن کے خاندان کی خواتین میں بھی باقاعِدہ سوزخوانی کا رجحان ہے۔ اور ان کی اولاد نے بھی اس فن کو ان سے ورثہ میں پایا ہے ۔ان کے فرزند علی اصغر کاظمی اور سیّد علی نعمان کاظمی نے اس فن سے وابستگی کو قائم رکھا ہوا ہے ۔

وفات
سید آفتاب کاظمی نے 29 جون 1981 کو وفات پائ اور وہ سخی حسن قبرستان، نارتھ ناظم آباد، کراچی میں دفن ہوئے۔

تاثرات
پروفیسر سبطِ جعفر زیدی نے اپنی کتاب صوتی علوم و فنونِ اسلامی میں دبستانِ دہلوی کے سوز خواں گھرانوں میں سے سید آفتاب کاظمی کے فنِ سوز خوانی کو ان الفاظ میں سراہا ہے ۔

” جناب آفتاب علی کاظمی جو ایک خلیق اور منکسرالمزاج وضعدار انسان اور صاحبِ کمال سوز خوان تھے… . . . .آپ کی انتھک محنت کے نتیجے میں کراچی میں سوز خوانی کو فروغ و مقبولیت حاصل ہوئی ۔
میٹھے ، ٹھنڈے سروں میں دھیمے لہجے اور ٹھہراؤ کے ساتھ آپ سوز خوانی کیا کرتے تھے ۔ خاندان کے دوسرے افراد آپ کے بازواور ساتھی ہوا کرتے تھے ۔ سوز و رباعیات و قطعات اور سلام کی

بعض بندشیں بڑی پر اثر اور پر سوز تھیں ۔

وکیپیڈیا

SHARE

LEAVE A REPLY