9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے مقدمات میں گرفتار خواتین نے جیل میں زیادتی کی خبروں کی تردیدکردی۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر خواتین نے تصدیق کی کہ ان سے کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں جیل میں رکھنا ہی زیادتی ہے، کچھ کیا ہی نہیں تو جیل میں رکھنا ہی نہیں چاہیے تھا۔

ایک خاتون نے کہا سب سے بڑی تذلیل یہ ہے کہ عورتوں کو راتوں میں گھروں سے اٹھا کر لایا جاتا ہے اور خواتین کو اس طرح کے مقدمات کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

…………………………………….

پنجاب حکومت نے پرپی ٹی آئی کے پرتشدد مظاہروں کے بعد گرفتار خواتین سے ناروا سلوک کا پروپیگنڈا مسترد کردیا۔

نگران وزیر اطلاعات عامر میرنے گرفتارخواتین سے ناروا سلوک کے پروپیگنڈے کو سراسر جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے شرپسند حملوں میں ملوث خواتین کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی جا رہی،ایک نام نہاد سیاسی پارٹی اپنے مذموم مقاصد کے لیے خواتین بارے زہریلا پروپیگنڈہ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی جیلوں میں قید 9 مئی کے واقعات میں ملوث خواتین سے قانون کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے، قیدی خواتین خود بھی اس چیز کی گواہی دے رہی ہیں، پولیس جیلوں میں قید خواتین کو قانون کے مطابق شائستگی سے ڈیل کر رہی ہے۔

نگران وزیر نے کہا کہ 9 مئی کی شرپسندی کی منصوبہ بندی کرنے والا شخص حسب سابق عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے،جھوٹے پروپیگنڈے سے سستی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی یے۔

عامرمیر نے کہا کہ عوام شرپسندوں کی سرپرستی کرنے والے کا اصل چہرہ دیکھ چکے ہیں،جھوٹ کی دوکان چلانے والے بلوائی کو شرم کرنی چاہئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY