منٹو کا انتقال 18جنوری 1955ء کو صرف بیالیس سال کی عمر میں ہوا۔..آفتاب احمد‎

0
2647

لے دے کے اپنے پاس فقط ایک نظر تو ہے

کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم

آنکھوں سے بڑی کوئی ترازو نہیں ہوتی

تلتا ہے بشر جس میں وہ میزان ہیں آنکھیں

“میں تہذیب و تمدن کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی۔اور میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا کہ یہ میرا نہیں درزیوں کا کام ہے۔”یہ جملے اس عظیم افسانہ نگار کے ہیں جسے دنیا سعادت حسن منٹو کے نام سے جانتی ہے۔سعادت حسن منٹو 11 مئی1912 کو ضلع لدھیانہ کے موضع سمبرانہ کے گاوں پپروڈی میں کشمیری مسلمان غلام حسن منٹو کے گھر پیدا ہوئے۔ سعادت حسن منٹو ایک سہما ہوا بچہ تھاجسے دوست ٹامی کے نام سے پکارتے تھے۔منٹو کو 1921میں ایم اے او مڈل سکول امرتسر میں داخل کروا دیا گیا میٹر ک کے امتحان میں دو تین بار فیل ہونے کے بعد 1931میں منٹو یہ معرکہ سر کرنے میں کامیاب ہوئے منٹو کے قریبی دوست کہتے ہیں کہ وہ امتحانات کے دنوں میں ایک مشہور انگریزی ناول کے مطالعہ میں مصروف تھے جو انہوں نے امرتسر ریلوے اسٹیشن کے بک سٹال سے چوری کی تھی۔امریکی شاعرہ مرئیل رکائسر نے کہا ہے کہ یہ کائنات ایٹم سے نہیں بلکہ کہانیوں سے بنی ہوئی ہے۔

کہانیاں یا افسانے ہمیں نہ صرف معاشرے میں رائج رجحانات کے بارے میں بتاتے ہیں بلکہ یہ تاریخی واقعات اور حالات کو بیان کرنے کے لیے ایک ایسی بہترین صنف ہے جس کے ذریعے ایک افسانہ نگار اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایسی ایسی شاہکار تحریروں کو جنم دیتا ہے جن کا اثر صدیوں تک جاری رہتا ہے۔کبھی یہی افسانے تمثیل میں لکھے جاتے ہیں تو کبھی تلخ حقائق کو نرم الفاظ کا لبادہ پہنا کر بیان کیا جاتا ہے اور ایک شاہکار افسانہ قاری پر سحر طاری کر دیتا ہے۔

بیسویں صدی کے اردو ادب کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس میں پریم چند‘ کرشن چندر‘ عصمت چغتائی ،خواجہ احمد عباس ،راجندر سنگھ بیدی ،انتظار حسین جیسے لکھاریوں کے ساتھ ایک ایسا افسانہ نگار بھی ہے ،جس کی تحریروں کو بے حد پذیرائی ملی اور اس پر سب سے زیادہ لکھا بھی گیا بلکہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے

آج کم و بیش دنیا کی ہر زبان کے ادب میں ہمیں شاہکار کہانیاں ملتی ہیں۔ اردو ادب کی خوش قسمتی رہی ہے کہ اسے اپنی کہانیوں کے ذریعے ایک طلسم کدہ تعمیر کرنے والا کرشن چندر، امرتا پریتم جیسی حقیقت نگار اور راجندر سنگھ بیدی جیسے بہترین افسانہ نگار بھی ملے۔اسی ادب نے عصمت چغتائی کے دیوانے پیدا کیے اور احمد ندیم قاسمی سے لے کر ابدال بیلا تک ایسے معتبر افسانہ نگار دیے جنہیں آج بھی بڑے احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ مگر اردو افسانے کا ذکر تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس میں سعادت حسن منٹو کو شامل نہ کیا جائے۔

سعادت حسن منٹو اپنےگھر میں ایک سہما ہوا بچہ سمجھے جاتے تھے۔ سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے وہ اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتے تھے البتہ ان کی والدہ ان کی طرفداری کرتی تھیں۔ ان حالات میں سعادت حسن منٹو کو اپنی اصل شخصیت کے اظہار کا موقع اپنے علاقے کے گلی کوچوں میں ملتا۔ وہ ابتدا ہی سے تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ اسی لیے ان کا تعلیمی کیریئر بھی حوصلہ افزا نہیں تھا۔

کہانیاں یا افسانے ہمیں نہ صرف معاشرے میں رائج رجحانات کے بارے میں بتاتے ہیں، بلکہ یہ تاریخی واقعات اور حالات کو بیان کرنے کے لیے ایک ایسی بہترین صنف ہے جس کے ذریعے ایک افسانہ نگار اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایسی ایسی شاہکار تحریروں کو جنم دیتا ہے جن کا اثر صدیوں تک جاری رہتا ہے۔ماضی کی روایات سے بغاوت ، معاشرے کی تلخ تصویر کشی ،انسانی فطرت کےمتنازع پہلوؤں پر جراتمندانہ اظہار ،ہر لفظ ، ہر جملے میں نشتر سی کاٹ ، ایک تصویر ابھرے گی، ٹھنڈا گوشت ، حج اکبر اور ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے ادبی شاہکاروں کے خالق سعادت حسن منٹو ہی ہیں۔

انہوں نے ڈھائی سوسے زائدافسانے ، کہانیاں اور خاکے لکھےجن میں سےپانچ افسانوں کو فحش قرار دے کر تعزیربھی لگا ئی گئی ۔سعادت حسن منٹو نے بہترین کہانیاں لکھیں، بے شمار ریڈیو سیریز لکھے، فلم انڈسٹری میں بھی کام کیا اور فلمی ہستیوں پر ان کے سوانحی خاکے لاجواب ہیں۔ یہ سوانحی خاکے زیادہ پڑھے نہیں گئے ہیں لیکن منٹو شاید ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے فلم اداکاروں اور اداکاراؤں کے بارے میں بہت بے باکی اور بغیر کسی خوف کے لکھا ہے۔ ان کی تحریر کی یہی ایک خوبی ہے۔ وہ انسانی تنگ دلی، عیاری، سطحیت اور سماج کے اندھیرے و غلیظ گلیاروں کے بارے میں بغیر کسی تبدیلی کے ویسے ہی لکھتے ہیں جیسا کہ وہ ہے۔ یہی چیز ان کی کہانیوں کو مزید حقیقی بنا دیتے ہیں۔

مثلاً اپنے بارے میں لکھتے ہیں

’’مجھ سے کوئی پوچھے منٹو تم کس جماعت میں سے ہو تو میں عرض کروں گا کہ میں اکیلا ہوں ، جس دن میرا کوئی ثانی پیدا ہوگا میں لکھنا چھوڑ دوں گا‘‘۔

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں

جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

منٹو انسانی زندگی اور نفسیات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں انسانی زندگی کی بہیمانہ حقیقت نگاری کے نادر نمونے ملتے ہیں جس میں گناہوں کی آماجگاہیں بھی ہیں ،طوائفوں کے کوٹھے بھی، قحبہ خانوں میں پلنے والی غلیظ زندگی کی عکاسی بھی ہے اور اس سماج میں پیدا شدہ بھڑووں کی استحصالی کارروائیاں بھی منظرِ عام پر آتی ہیں ۔ منٹو کے افسانوں میں اخلاقی بے راہ روی اور جنسی تشدد کے مختلف پہلو اُبھر کر سامنے آتے ہیں اس سلسلے میں منٹو نے فرائڈ کے فلسفۂ زندگی سے استفادہ کیا ہے اور اس کے نظریات کوافسانوی شکل میں پیش کیا ہے۔

منٹو پر اپنی بے باک کہانیوں کے لیے چھ مرتبہ فحاش نگاری کا مقدمہ چلا۔ تین مرتبہ ہندوستان میں اور تین مرتبہ پاکستان میں۔ لیکن ہر بار انھیں باعزت بری کیا گیا۔ اردو کی ایک معروف مصنفہ عصمت چغتائی نے اپنی یادداشت ’کاغذی ہے پیرہن‘ میں منٹو کی تصنیفات کے بارے میں بہت واضح طور پر لکھا تھا کہ منٹو اگر (اپنی تصنیفات میں) کیچڑ اچھالتے ہیں تو اس سے وہ گندگی دکھائی دیتی ہے اور ساتھ ہی اس گندگی کو صاف کرنے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔کبھی یہی افسانے تمثیل میں لکھے جاتے ہیں تو کبھی تلخ حقائق کو نرم الفاظ کا لبادہ پہنا کر بیان کیا جاتا ہے، اور ایک شاہکار افسانہ قاری پر سحر طاری کر دیتا ہے۔

آج کم و بیش دنیا کی ہر زبان کے ادب میں ہمیں شاہکار کہانیاں ملتی ہیں۔ اردو ادب کی خوش قسمتی رہی ہے کہ اسے اپنی کہانیوں کے ذریعے ایک طلسم کدہ تعمیر کرنے والا کرشن چندر، امرتا پریتم جیسی حقیقت نگار اور راجندر سنگھ بیدی جیسے بہترین افسانہ نگار بھی ملے۔اسی ادب نے عصمت چغتائی کے دیوانے پیدا کیے اور احمد ندیم قاسمی سے لے کر ابدال بیلا تک ایسے معتبر افسانہ نگار دیے جنہیں آج بھی بڑے احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔مگر اردو افسانے کا ذکر تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس میں سعادت حسن منٹو کو شامل نہ کیا جائے، جن کی زندگی تو تمام ہوگئی مگر ان کے قلم کی سیاہی کبھی ختم نہ ہوئی اور وہ تک تب افسانے لکھتے رہے جب تک انہوں نے اپنے بستر پر ہی ہمشہ کے لیے آنکھیں بند نہ کیں۔

مگر اردو افسانے کا ذکر تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس میں سعادت حسن منٹو کو شامل نہ کیا جائے، جن کی زندگی تو تمام ہوگئی مگر ان کے قلم کی سیاہی کبھی ختم نہ ہوئی اور وہ تک تب افسانے لکھتے رہے جب تک انہوں نے اپنے بستر پر ہی ہمشہ کے لیے آنکھیں بند نہ کیں۔شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں منٹو نے کہا تھا کہ معاشرے کے تاریک پہلوؤں سے پردہ اٹھاتی میری تلخ کہانیوں میں اگر آپ کو جنسی لذت نظر آتی ہے تو یقیناً آپ ذہنی طور پر بیمار ہیں۔وہ شراب پیتے، پان چباتے اور سگریٹ سلگاتے تھے، مگر ان کے افسانے نہ تو پان چباتے ہیں اور نہ ہی شراب پیتے ہیں، بلکہ وہ ایسا سچ بیان کرتے ہیں جو ہم سے ہضم نہیں ہوتا۔مگر انہیں کیا پڑی تھی ایسے ایسے کڑوے سچ لکھنے کی کہ جسے پڑھنے کے بعد لوگ اپنے دانت پیسنے لگیں اور منہ بسور کر منٹو پر گالیوں کی بوچھاڑ کردیں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی لکھاری یا ادیب کا دل اس کے معاشرے میں ہونے والے ظلم و ستم، ناانصافی اور دوغلے رویوں پر بھی حرکت میں نہیں آتا تو اس سے بہتر ہے کہ وہ کوئی کاروبار کر لے.جو ادب لوگوں کو خوش کرنے کے لیے لکھا جائے، وہ ادب ادب نہیں بلکہ صرف لفاظی ہوتی ہے، جو کہ کوئی بھی الفاظ کا جادوگر آسانی سے کر سکتا ہے، لیکن معاشرے کو ناراض کر کے حقائق لکھنا ہی ایک حقیقی ادیب کا کام ہے۔انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ “مجھے آپ افسانہ نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں، اور عدالتیں ایک فحش نگار کی حیثیت سے، حکومت مجھے کمیونسٹ کہتی ہے اور کبھی ملک کا بہت بڑا ادیب۔ کبھی میرے لیے روزی کے دروازے بند کیے جاتے ہیں اور کبھی کھولے جاتے ہیں۔ میں پہلے بھی سوچتا تھا اور اب بھی سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سعادت حسن منٹو اپنے افسانوں میں عورتوں کے کپڑے اتارتا ہے، مگر سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے ان ہی عورتوں کے بارے میں لکھا ہے جن کے کپڑے حالات اور ہمارے معاشرے نے اتارے ہیں۔ ‘ہتک’ کی سوگندھی ہو، ‘کھول دو’ کی سکینہ، ‘کالی شلوار’ کی سلطانہ، یا پھر ‘ٹھنڈا گوشت۔ افسانے کی کلونت کور ہو، یہ منٹو کے وہ کردار ہیں جو حالات کے مارے ہوئے ہیں۔

اگر انہوں نے ان تمام لوگوں کو اپنا کردار بنایا ہے تو کیا انہوں نے کوئی گناہ کیا ہے؟ انہوں نے وہ لکھا ہے جو معاشرے نے انہیں دکھایا ہے۔ ان کے پاس خوبصورت الفاظ نہیں ہیں، نہ ہی ایسی تشبیہات اور استعارے جنہیں پڑھ کر ہم کھو سے جائیں۔ وہ ایسے افسانوں میں خوبصورت الفاظ کہاں سے لاتے جب ان کے کرداروں کی زندگی ہی زہر بھری تھی؟

اپنے ایک مضمون ‘بقلمِ خود’ میں انہوں نے اسی بات کا اعتراف کیا ہے کہ “اب لوگ کہتے ہیں کہ سعادت حسن منٹو اردو کا بڑا ادیب ہے، اور میں یہ سن کر ہنستا ہوں، اس لیے کہ اردو اب بھی اسے نہیں آتی۔ وہ لفظوں کے پیچھے یوں بھاگتا ہے جیسے کوئی جال والا شکاری تتلیوں کے پیچھے، وہ اس کے ہاتھ نہ آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تحریروں میں خوبصورت الفاظ کی کمی ہے۔ وہ لٹھ مار ہے، لیکن جتنے لٹھ اس کی گردن پر پڑے ہیں، اس نے بڑی خوشی سے برداشت کیے ہیں۔”

یہ بات بلاخوف و تردید کہی جاسکتی ہے کہ اردو افسانے کی تاریخ سعادت حسن منٹو کے ذکر کے بغیر کسی صورت مکمل نہیں ہوسکتی۔ عالمی سطح پر منٹو ہماری ادبی شناخت کے معتبر حوالوں میں ہمیشہ شامل ہیں۔ انھوں نے افسانوں کے بائیس مجموعے، ایک ناول، ریڈیو کے لیے پانچ ڈرامے، مضامین کے تین مجموعے، شخصی کردار نگاری کے دو مجموعے اور متعدد فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے، ایک فلم ’’آٹھ دن‘‘ میں انھوں نے اداکاری بھی کی۔ انھیں اردو نشریاتی ڈرامے کی تاریخ میں بھی پیش رو کی حیثیت حاصل ہے، جب کہ تراجم (اردو) مضمون نویسی، فیچر نگاری، خاکہ نویسی اور تنقید نگاری جیسے میدانوں میں بھی سعادت حسن منٹو نے اپنی امتیازی شناخت قائم کی۔

انھوں نے افسانوں کے بائیس مجموعوں میں ایک قدر ہمیشہ مشترک چھوڑی اور وہ یہ کہ انھوں نے انسانی اقدار کی سربلندی ، سرخروئی، احترام آدمیت، انسان کی عزت نفس اور معاشرے کی ناہمواریوں کو موضوع بناکر اجتماعی اور انفرادی انسانی صورتحال کے جس قدر حقیقت پسندانہ تجزیے کیے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔سعادت حسن منٹو نے ہمیشہ انسانی نفسیات کو ہی اپنا موضوع بنایا اور 1936ء میں ’’ماہنامہ عالمگیر‘‘ کا ’’روسی ادب‘‘ مرتب کرکے تو منٹو اہل وطن کی نگاہوں کے مرکز بن گئے تھے۔ منٹو کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’آتش پارے‘‘ بھی 1936ء میں منظر عام پر آیا۔ برہنہ گفتاری کے عادی منٹو کا قلم ہمیشہ سماجی حدود و قیود کی پابندیوں کو روندتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔ وہ جس سماجی یا معاشرتی برائی یا مسئلے کو بے نقاب کرتے اس کی پاداش میں انھیں عدالتوں کا سامنا کرنا پڑتا۔

ان کے افسانوں کو صرف فحاشی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے مگر وہ درحقیقت انسان کے سماجی، نفسیاتی اور جنسیاتی مسائل کے بارے میں ہمیں بتانا چاہتے ہیں جو انسان کی پیدائش سے لے کر مرنے تک اس کے ساتھ لپٹے رہتے ہیں۔ یہ سب مسائل توجہ طلب ہونے کے ساتھ ساتھ حل طلب بھی ہیں، مگر ہمارا رویہ ان تمام مسائل کے حوالے سے منفی رہا ہے۔ہمیں اس سماج میں عورت بحیثیت ایک طوائف تو قبول ہے، مگر اگر وہ کوئی ایماندارانہ پیشہ اپنا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنا چاہتی ہے تو کتنے ہی لوگوں کے دلوں میں برسوں سے سوئی ہوئی غیرت جاگ جاتی ہے۔

اگر منٹو ایسے کرداروں پر افسانے لکھتے ہیں تو ہمارا معاشرہ اسے سازشی قرار دیتا ہے۔ مگر کیا ادب زندگی کی کوکھ سے جنم نہیں لیتا؟ کیا انسانی زندگی ان تمام مسائل میں گھری ہوئی نہیں جن کا سامنا کرتے کرتے عمر بیت جاتی ہے؟منٹو کی تحریروں میں بھی وہی گرمی محسوس کی جاسکتی ہے جو فرانسیسی ادیب موپاساں کی تحریروں میں تھی۔ منٹو وہ بے رحم افسانہ نگار تھے، جنہیں لوگوں کے دکھوں اور تکالیف کو حسین کر کے پیش کرنے کا فن نہیں آتا تھا، بلکہ وہ اس کرب کو محسوس کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ اس ملک کی اشرافیہ بھی ان کے دکھوں کو محسوس کرے۔ مگر انہیں نفرت کے سوا کچھ نہیں ملا۔

کسی بھی فنکار کے فن پر تنقید کرنا، اس پر تبصرے کرنا اس حد تک تو جائز جب تک اس کا دائرہ کار صرف اس کی تحریروں تک محدود رہے، مگر جب اس کا دائرہ اس کی ذاتی زندگی تک پھیل جائے تو یہ کردار کشی بن جاتی ہے۔ منٹو کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا ہے۔

ان کی تحریریں آج بھی دنیا کو اس عظیم مصنف کی باریک بین آنکھ اور ان کے خیالات و مشاہدات سے متعارف کراتی ہیں۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک دنیا میں اردو زبان لکھی، پڑھی اور بولی جاتی رہے گی۔

اردو نثر میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی صنف افسانہ ہے ۔ آج بھی اردو افسانے کی اہمیت ‘ افادیت اور ضرورت میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔اخبار ہو کہ رسائل ‘ ریڈیو ہو کہ ٹیلی ویـژن یا انٹرنیٹ ہو کہ سوشیل میڈیا ہر جگہ افسانے موجود ہیں ۔ اردو افسانہ کا ایک اہم ستون سعادت حسن منٹو ہے

افسانہ کہنے کے جس خوبصورت اسلوب اور حیرت انگیزانداز سے منٹو واقف تھے ، اس ہنر سے منٹو کے کئی ہم عصر اور حریف افسانہ نگار محروم نظر آتے ہیں اور جہاں تک عام قاری کا سوال ہے ، تو وہ منٹو کو ان کے جنسی اور بعض ناقدین ادب کے مطابق فحش افسانوں مثلاً ’’بو‘‘ ’’دھواں‘‘ ’’کالی شلوار‘‘ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ وغیرہ کی وجہ سے جانتے ہیں ، اور کسی حد تک حقیقت بھی یہی ہے کہ منٹو ان ہی افسانوں کی بنا پر مشہور اور معتوب ہوئے ۔لیکن منٹو اپنی شہرت پر کبھی اِترائے اور نہ ہی معتوب ہونے پر گھبرائے، بلکہ دونوں ہی حالات میں نارمل رہتے ہوئے اپنے افسانوں میں اس مخصوص ماحول کو زندہ رکھا ، جس سے وہ خاص طور پرمتاثر ہوئے تھے۔ پیشہ ور داشتائیں، طوائفیں اور ان کے گرد ان کے دلال اور چاہنے والے ، سب کے سب منٹو کے افسانوں میں متحرک نظر آتے ہیں ۔ ان کے افسانوں میں شاید ہی کوئی کردار ایسا ہو ،جس میں زندگی کی جھلک موجود نہ ہو۔

ان کی کہانیوں میں بظاہر فحش الفاظ کے پیچھے موجود دل سوز پیغام کو سمجھے بغیر ہم نے ان پر بے ہودہ، فحش نگار اور سنکی ہونے کا الزام اس قدر شدت سے لگایا ہے کہ ان کی وفات کی 6 دہائیوں بعد بھی منٹو کی کتاب ہاتھ میں دیکھنے پر لوگ ٹیڑھی اور مشکوک نظروں سے ایسے دیکھتے ہیں جیسے کہ ہاتھ میں اردو ادب کے مایہ ناز افسانوں و مضامین کے بجائے پلے بوائے میگزین اٹھایا ہوا ہو۔

آج اگر منٹو زندہ ہوتے تب بھی وہ اسی سچ کو لکھنے کے لیے اپنے قلم کی سیاہی خرچ کرتے جسے ہمارے معاشرے کے نام نہاد پارسا برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ادب کی دنیا میں صرف خوبصورت الفاظ لکھ کر بھی ایک بہتر زندگی گزاری جاسکتی ہے، پر اگر کسی افسانہ نگار کو اس بات کا اندازہ ہو کہ اس کی لکھی ہوئی تحریر انہیں جیل کی ہوا کھلا سکتی ہے، عدالت کے کٹہرے میں بِنا وکیل کے مقدمہ لڑنے پر مجبور کرسکتی ہے، اور پھر بھی وہ لکھتا جائے، لکھتا جائے، تو کیا یہ بہادری نہیں ہے؟

کہانی کب پیدا ہوئی اور کب تک جاری و ساری رہے گی، اس کا جواب اب تک کوئی نہیں دے سکا ہے، مگر دنیا میں جب تک کہانی موجود رہے گی اس وقت تک سعادت حسن منٹو کا نام زندہ رہے گا، کیوں کہ اس وقت تک منٹو کی کہانی بامعنی رہے گی۔ بلکہ اس میں نئے زاویے پیدا ہو تے رہیں گے۔

یہی سب کچھ سعادت حسن منٹو نے کیا ہے۔ وہ سنگِ دشنام برداشت کرنے کے لیے تیار تھے، مگر انہوں نے معاشرے کی غلاظت کو دیکھ کر ناک پر رومال رکھنا اور منہ موڑ لینا گوارا نہیں کیا۔ آج یورپ اردو کے کسی حقیقت نگار کو جانتا ہے اور پڑھتا ہے تو وہ منٹو ہے۔

سعادت حسن منٹو نے اپنے جذبات اور احساسات کو لفظوں کے سمندر میں ڈبو کر ہمیشہ کے لئے امر کر دیا.ان کے افسانوں میں آتش پارے ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، دھواں اور ٹھنڈا گوشت بے حد مقبول ہوئے۔ان کے افسانے آج بھی اس سماج کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ وہی سسکتی اور بلکتی صورتیں ہمارے ارد گرد گھومتی نظر آتیں ہیں، مگر پھر بھی ہم منٹو کو برا کہتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں ایک نشہ لگ چکا ہے، ہر چیز میں صرف حسین پہلو تلاش کرنے کا نشہ۔

سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو قوم اور ذات کے کشمیری امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جس کے افسانہ مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-افسانہ مجھے لکھتا ہے منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود ناداری انسانی جدوجہد بیماری اور ناقدری کی ایک المیہ کہانی تھی جسے اردو افسانے نے لکھا۔ منٹو نے دیکھی پہچانی دنیا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا گمراہ لوگوں کی تھی۔ جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہیں ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ معاشرے کے تضادات کی داستان موجود ہے۔

ابتداء میں انہوں نے لاہور کے رسالوں میں کام کیا پھر آل انڈیا ریڈیو دہلی سے وابستہ ہوگئے جہاں انہوں نے بعض نہایت کامیاب ڈرامے اور فیچر لکھے۔ بعدازاں بمبئی منتقل ہوگئے جہاں متعدد فلمی رسالوں کی ادارت کی اس دوران متعدد فلموں کی کہانیاں اور مکالمے بھی تحریر کئے۔

سعادت حسن منٹو اپنے پہلے افسانے تماشا میں جو 1931میں سانحہ جلیانوالہ باغ کے پس منظر میں لکھا گیا تھایوں رقمطراز ہیں۔دو تین روز سے طیارے سیاہ عقابوں کی طرح پر پھیلائے خاموش فضا میں منڈلا رہے تھے جیسے وہ کسی شکار کی جستجو میں ہوں سرخ آندھیاں وقتافوقتاکسی آنیوالے خونی حادثے کا پیغام لا رہی تھیں سنسان بازاروں میں مسلح پولیس کی گشت ایک عجیب ہولناک سماں پیش کر رہی تھی۔1934میں سعادت حسن منٹو نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں ان کی ملاقات ہندوستان کے نامور ادیب جنابِ علی سردار جعفری اور ترقی پسندمصنف جنابِ عبدلباری علیگ سے ہوئی جن کی صحبت میں سعادت حسن منٹو نے نامور مغربی ادباءکے تراجم تحریر کیے جن میں وکٹر ہیوگو.لارڈلٹن.میکسم گورکی.چیخوف ،آسکروائلڈ اور ماوزے تُنگ شامل ہیں۔ 1935میں منٹو کا دوسرا افسانہ انقلاب پسند شائع ہوااور 26اپریل 1939کو سعادت حسن منٹو کی صفیہ خاتون کے ساتھ شادی کر دی جاتی ہے.سعادت حسن منٹو گھر گرہستی چلانے کے لیے ہندی فلموں کےا سکرپٹ لکھتے ہیں اور آل انڈیا ریڈیو اردو سروس کے لیے ڈرامے بھی تحریر کرتے ہیں اور افسانہ تو سعادت حسن منٹو ہر وقت تراشتے ہی رہتے تھے. 1943میں سعادت حسن منٹوکی دو کتابیں منٹو کی مضامین اور ڈرامے اور افسانے چھپتی ہیں ان میں شامل متنازعہ افسانے کالی شلوار ،دھواں اور بو کی وجہ سے سعادت حسن منٹو پر فحش نگاری کے مقدمات بھی چلتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو نے ہجرت کے ایام میں وحشت اور بربریت ،انسان کی سفاکیت اور اخلاقی گراوٹ کے جو مناظر دیکھے لاہور پہنچتے ہی انہیں افسانے کی شکل دیکر صفحہ قرطاس پر بکھیرنا شروع کر دیا جو اس دور کی اشرافیہ کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں تھے اسی لیے سعادت حسن منٹو کے خلاف ٹھنڈا گوشت جیسے افسانے لکھنے پر مقدمات بھی درج ہوئے او ران میگزینز کے ایڈیٹرز اور پبلشرز جن میں احمد ندیم قاسمی،ہاجرہ مسرور اور عارف عبدالمتین شامل تھے کو بھی نوٹس جاری کیے گئے اور آئندہ کے لیے سعادت حسن منٹو کی تحریروں پر پابندی عائد کر دی گئی شاید اسی لیے سعادت حسن منٹو کے بارے میں لکھی گئی تحریریں آج بھی قابلِ گردن ذدنی ٹھہرتی ہیں۔

منٹو کی شادی 1939 میں ہوگئی ۔مصور اور سماج کے بعد ہفت روزہ کاروان بمبئی میں باقائدہ ملازمت سے قبل بھی وہ ریڈیو کے لئے لکھ چکے تھے ۔ اس لیے اس شعبہ میں انہیں کوئی خاص دقت پیش نہ آئی اور انہوں نے بڑی باقاعدگی اور تیزی سے ریڈیو کیلئے ڈرامے اور فیچر لکھنے شروع کر دئیے۔ ان دنوں منٹو کی زود نویسی کا یہ عالم تھا کہ پروڈیوسر ڈرامے کا عنوان دیتے اور منٹو کی انگلیاں ٹائپ رائٹر پر انتہائی مختصر وقت میں ڈرامہ مکمل کر دیتیں۔ جنگ عظیم دوم کے دوران ریڈیو پر جنگ کے موضوعات پر سب سے پہلے منٹو نے ڈرامے اور فیچر لکھے۔ دلی میں قیام کا زمانہ ان کی زندگی کا پرمسرت دور تھا۔ یہاں پر ان کے رفقاء میں کرشن چندر‘ اوپندر ناتھ اشک‘ ن۔م راشد‘ رفیع پیر اور بہزاد لکھنوی شامل تھے۔ منٹو نے اپنی زندگی کے بہترین افسانے اور ڈرامے اسی دور میں لکھے۔

لاہور کے تاریخی پاک ٹی ہاؤس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب کسی رانداہ درگاہ ادیب،شاعر یا صحافی پر پابندی عائد کر دی جاتی اور گھریلو پریشانیوں کا بوجھ اسے گھر چھوڑنے پر مجبور کرتا تب پاک ٹی ہاؤس ان قلم مزدوروں کو گلے سے لگاتا اور گرما گرم چائے سے ان کی بھوک ماری کرتااور مغز ماری کا ماحول مہیا کرتاایسے حالات میں پاک ٹی ہاؤس کا دوبارہ کھلنا ادب دوستوں کے لیے یقیناًایک خوشگوار اور گرم احساس ہے۔پاک سر زمین کی عدالتوں میں سعادت حسن منٹو کے خلاف مقدمات چل رہے تھے منٹو اپنے نحیف کاندھوں پرمالی پریشانیوں، بیوی اور تین بیٹیوں کا بوجھ اٹھائے پا ک ٹی ہاؤس آیا کرتے آنیوالی پیشی کا جواب دعویٰ داخل کروانے کے بارے میں دوستوں سے صلاح مشورہ کرتے اور اپنی قبر کے کتبے کے تحریر پر غور کرتے۔مقدمات ابھی چل رہے تھے لیکن قبر کا کتبہ تحریر ہو چکا تھا کہ بلاوا آگیا اور برِصغیر پاک و ہند کا یہ عظیم افسانہ نگاراپنی موت کا قصہ بھی متنازعہ چھوڑ کر عاقبت سدھار گیا۔محترم قاریٗن کتبے کی تحریر اس کالم سے قصداَ حذف کی جاتی ہے کیونکہ وہ تحریر منٹو کے افسانوں سے بھی زیادہ متنازعہ ہے اور اسی لیے سعادت حسن منٹو کی قبر سے اصل اتار کر اب وہاں ایک ڈپلومیٹک کتبہ لگادیا گیا ہے تاکہ آئندہ کسی مقدمہ کا سامنہ نہ کرنا پڑے۔

کہانی کب پید ا ہوئی اور کب تک جاری اور ساری رہے گی،اِس کا جواب اب تک کوئی نہیں دے سکاہے مگر دنیا میں جب تک کہانی موجود رہے گی اُس وقت تک منٹو کا نام زندہ رہے گا ۔کیوں کہ اس وقت تک منٹو کی کہانی بامعنی رہے گی بلکہ اس میں نئے زاوئے پیدا ہوتے رہیں گے ۔

سعادت حسن منٹو اپنےگھر میں ایک سہما ہوا بچہ سمجھے جاتے تھے۔ سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے وہ اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتے تھے البتہ ان کی والدہ ان کی طرفداری کرتی تھیں۔ ان حالات میں سعادت حسن منٹو کو اپنی اصل شخصیت کے اظہار کا موقع اپنے علاقے کے گلی کوچوں میں ملتا۔ وہ ابتدا ہی سے تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ اسی لیے ان کا تعلیمی کیریئر بھی حوصلہ افزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے بعد انھوں نے 1931ء میں یہ امتحان پاس کیا۔ ان کی سوچ اور زندگی میں ایک نیا باب اس وقت شروع ہوا جب 1933ء میں اکیس برس کی عمر میں امرتسر میں ہی ان کی ملاقات عبدالباری علیگ سے ہوئی جو اس وقت کے ایک معروف سکالر اور رائٹر تھے۔ عبدالباری علیگ نے منٹو کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اپنے اندر کے ادیب کو پہچاننے اور روسی اور فرانسیسی ادیبوں کو پڑھنے کا مشورہ دیا۔

ان کے مشاہدے کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی آنکھیں ، کبوتر کی آنکھوں کی طرح مردہ بیل کے کھُر میں پڑے سرسوں کے دانہ کو بھی دیکھنے سے نہیں چوکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں افسانوں کے موضوعات کی کمی نہیں اور ساتھ ہی ساتھ طبیعت بھی ایسی اچھوتی پائی تھی کہ اپنی ہر بات کو اچھوتے ، لیکن منفرد انداز و بیان اور حسین و دلچسپ پیر ا یہ میں پیش کرتے اور اگر کبھی ضرورت سمجھی تو مزاحیہ طنز کا بھی سہارا لیا ۔

افسانہ کہنے کے جس خوبصورت اسلوب اور حیرت انگیزانداز سے منٹو واقف تھے ، اس ہنر سے منٹو کے کئی ہم عصر اور حریف افسانہ نگار محروم نظر آتے ہیں

ان کے افسانے آج بھی اس سماج کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ وہی سسکتی اور بلکتی صورتیں ہمارے ارد گرد گھومتی نظر آتیں ہیں، مگر پھر بھی ہم منٹو کو برا کہتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں ایک نشہ لگ چکا ہے، ہر چیز میں صرف حسین پہلو تلاش کرنے کا نشہ۔

منٹو نے شروع میں ترقی پسند نظریات کے حامل افسانے لکھے جس کے بعد ان کے اسلوب اور تخلیق میں مسلسل نکھار آتا گیا اور پھر ان کی ہر تحریر آنے والے وقت کا ادبی معیار بنتی گئی۔ منٹو کے شہرہٴ آفاق افسانوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں اور کالی شلوار جیسی بہت سی تخلیقات شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کے کئی مجموعے، خاکے اور ڈرامے بھی شائع ہو چکے ہیں۔

“منٹو کی خانگی زندگی نہایت خوش گوار تھی۔ وہ ایک شریف بیوی کا وفا دار شوہر تھا اور تین بچیوں کا شفیق باپ۔ اس کو بیوی کی رضا مندی کا بہت خیال تھا۔ دوستوں کے یہاں جاتا تو اکثر اپنے ساتھ لے جاتا۔ منٹو کو اپنی بیوی سے محبت ہی نہیں تھی اسے اس کی دلجوئی کا خیال بھی تھا اور اس کی خاطر داری کرنے سے چوکتا نہیں تھا۔ اپنی بیوی کے جذبات کا کافی احترام کرتا تھا۔ اکثر یہ جانتے ہوئے بھی کسی خاص معاملہ میں صفیہ کا خیال درست نہیں تھا، منٹو ا س سے بحث میں نہیں پڑتا تھا حالانکہ وہ بہت نازک مزاج تھا اور بحث میں پڑنا اس کی عادت تھی، ہمیشہ اپنی بات کی پخ رکھنا چاہتا تھا۔”

منٹو کے افسانے نہ صرف اردو ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں بلکہ ان کی سبھی تحریریں بشمول افسانے، مضامین اور خاکے اردو ادب میں بےمثال حیثیت کے حامل ہیں۔ منٹو کی ادبی تخلیقات کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے دیکھی بھالی اور جانی پہچانی دنیا میں ہی ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ درخوراعتناء نہیں سمجھتے تھے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ گمراہ لوگوں کی دنیا ہے۔ ایسے لوگ جومروجہ اخلاقی نظام سے ماورا اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے۔ ان میں اچھےلوگ بھی تھے اور برے بھی۔

یہی لوگ منٹو کی تخلیقات کا موضوع بھی تھے۔ اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جسے نئی طرز کی افسانہ نگاری میں دیوار کی پہلی اینٹ قرار دیا گیا۔ سعادت حسن منٹو کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہوتے تھے بلکہ ان افسانوں کےماحول اورکرداروں میں تیسری دنیا کے پسماندہ معاشروں کے تضادات کی داستانیں بھی ہوتی تھیں۔

منٹو بر صغیر کی تقسیم کے بعد بھارت میں بمبئی سے پاکستان آ کر لاہور میں قیام پذیر ہو گئے تھے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال گذارے۔ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے لاہور ہی میں ان کا انتقال 18جنوری 1955ء کو صرف بیالیس سال کی عمر میں ہوا۔۔ ان کی تحریریں آج بھی دنیا کو اس عظیم مصنف کی باریک بین آنکھ اور ان کے خیالات و مشاہدات سے متعارف کراتی ہیں۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک دنیا میں اردو زبان لکھی، پڑھی اور بولی جاتی رہے گی۔

عظیم افسانہ نگار منٹو کی آخری آرام گاہ علاقہ بڑا مکان‘ حضرت طاہر بندگی روڈ ملحق بہاولپور روڈ قبرستان میانی صاحب لاہور میں واقع ہے۔

منٹو ماضی کی روایات سے بغاوت،معاشرے کی تلخ تصویر کشی اور انسانی فطرت کے متنازع پہلوؤں پر جرات مندانہ اظہار ان کی تحریروں کی خاصیت تھی۔

یہی سب کچھ سعادت حسن منٹو نے کیا ہے۔ وہ سنگِ دشنام برداشت کرنے کے لیے تیار تھے، مگر انہوں نے معاشرے کی غلاظت کو دیکھ کر ناک پر رومال رکھنا اور منہ موڑ لینا گوارا نہیں کیا۔ آج یورپ اردو کے کسی حقیقت نگار کو جانتا ہے اور پڑھتا ہے تو وہ منٹو ہے۔

آج اگر منٹو زندہ ہوتے تب بھی وہ اسی سچ کو لکھنے کے لیے اپنے قلم کی سیاہی خرچ کرتے جسے ہمارے معاشرے کے نام نہاد پارسا برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

سعادت حسن منٹو نے اپنے بارے میں لکھا ہے

’’میَں جانتا ہوں سعادت حسن ایک دن مر جائے گا، مگر منٹو کبھی نہیں مر سکتا‘‘۔

اس کے سینے میں فن افسانہ نگاری کے سارے اسرار و رموز دفن ہیں۔ وہ اب بھی منوں مٹی کے نیچے سوچ رہا ہے کہ وہ بڑا افسانہ نگار ہے یا خدا۔

منٹو نے اپنی قبر کا قطبہ بھی خود ہی تحریر کیا تھا کہ یہ سعادت حسن منٹو کی قبر ہے جو اب بھی سمجھتا ہے کہ اس کا نام لوح جہاں میں حرف مقرر نہیں تھا۔

منٹو کی موت کے بعد جتنا ان کے فن اور شخصیت پر لکھا گیا شایدکسی دوسرے کہانی کار پر نہ لکھا گیاہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ منٹو نے خود اپنے بارے میں جو کچھ لکھ دیا وہی بہت ہے۔ یہاں تک کہ انکی کی قبر کا کتبہ بھی ایک نہ ختم ہونے والی کہانی میں سے ایک ہے جوکہ انہوں نے خود لکھاہے کہ ’’یہ سعادت حسن منٹو کی قبر ہے،جو اب بھی سمجھتا ہے کہ اس کا نام لوحِ جہاں پر حرفِ مکرر نہیں‘‘۔

تحریر آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY