پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم کی جانب سے افغانستان میں طالبان حکومت پر الزامات اور افغان طالبان کے سخت ردِعمل کے بعد ماہرین دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید سرد مہری کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

بعض ماہرین کہتے ہیں کہ فریقین کے بیانات پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان تناؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔ کچھ مبصرین کہتے ہیں کہ افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی روکنے میں ناکامی پر ہی پاکستان نے غیر قانونی مہاجرین کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے بدھ کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ دہشت گرد افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہیں اور اس حوالے سے معلومات بھی طالبان حکومت کو فراہم کی گئی ہیں۔ امید ہے افغان حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’گزشتہ دو سال کے دوران افغان سرزمین سے دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ ہوا جن میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔‘‘

نگراں وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا کہ افغانستان نے پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔ پاکستان میں بد امنی پھیلانے والوں میں غیر قانونی تارکینِ وطن ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک چھوڑنے کے لیے یکم نومبر تک کی مہلت دی تھی۔ یہ فیصلہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں پاکستان کے سول و فوجی حکام پر مشتمل اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا تھا جس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی شریک تھے۔

پاکستان نے الزام لگایا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں افغان شہری ملوث ہیں، لہذٰا غیر قانونی تارکینِ وطن کو یکم نومبر کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔

طالبان حکومت نے پاکستان کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کے فیصلے پر تنقید کی تھی جب کہ افغان شہریوں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات کو بھی مسترد کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY