شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی

0
289

آجکل عجیب ماجرا ہے جوکہ ہماری چھیاسی(86) سالہ صحافتی زندگی میں پہلے کبھی نہیں پیش آیا کہ ہم نے اپنے کالم کے لیے عنوان تلاش کیا ہو اور وہ ہمیں نہ ملا ہو۔ مگر آجکل یہ اکثرہورہا ہے کہ ڈھونتے ہیں اور جب ڈھونے سے نہیں ملتا تو ہمیں ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ یاتو ہم لکھنا چھوڑ دیں یا اور لوگوں کی طرح ایک ہی موضوع کو لیے چلتے رہیں؟ کیونکہ وہاں کوئی نہ شرماتا ہے نہ برا مناتا ہےموضوع ملے تو ملے کہاں سے؟ لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ سالوں سے ہم نے ا پناایک وقت مقرر کر رکھا اسی پر لکھتے رہے ہیں ۔ صرف ایک دفعہ کمپوٹر کی خرابی سے کالم کچھ لیٹ ہوگیا تو ہمارے پڑھنے والے یہ سمجھے کہ بڑے میاں انتقال کر گئے اور تعزیت کے لیےفون آنے لگے۔ مگر ہم نے اس پر بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔کہ شکرانے کا ہمیں یہ پہلو نظر آیا کہ اس نے ہماری زندگی میں ہی ہمیں یہ دکھادیا کہ ہمارے پڑھنے ہمیں کتنا پیار کرتے ہیں ۔

آج بھی جب ہم رات کوا ٹھے تو پریشان تھے کہ عنوان کیا ہو گا؟ جب ہمیں کوئی امید کی کرن نظر نہیں آئی تو اللہ سبحانہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ تو مدد فر ما! اس نے فور اً مدد فرمائی اور غالبؔ مرحوم کایہ شعر ذہن میں ڈالدیا کہ ع “ کعبے کس منہ سے جاؤگے غالبؔ شرم تم کو مگر نہیں آتی “ جیسے ہی ہمیں عنوان ملا بس پھر کیا تھا کہ واقعات کاایک ریلا ہمارے ذہن میں آگیا اور اب اس کی دین کے آگے شکر گزار تھے ۔مگر پریشان بھی کہ اس میں سے کیا لکھیں اور کیا چھوڑیں اور کچھ چھوڑتے ہوئے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ ہم کہیں کفران نعمت کے مرتکب نہ ہوجائیں؟ بخدا اس میں قطعی لفاظی نہیں ہے یہ حقیقت ہے کیونکہ ہم جھوٹ نہں بولتے۔ جبکہ ماڈرن مسلمان اس کو ہماری توہم پرستی کہیں گے ؟مگر ہم ایسا کرتے ہوئے ہمیشہ ہی اس سے ڈرتے رہےہیں اور اسے راضی رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ چونکہ اخبار میں ہمارے لیے جگہ محدود ہے۔ لہذا اس دعا کےبعد کہ تو مجھے معاف کردے میری اس مجبوری کو دیکھتے ہوئے اور اپنی رحمت سے اس خطا پر رخصت سے نوازے جو تو نے اپنے سارے بندوں کے لیے رکھی ہوئے کہ جہاں تک ہوسکے اتباع کرو؟ جہاں مجبوری حائل ہو وہاں رخصت ہے جیسے کہ پانی نہ ملے تو مٹی سے تیمم وغیرہ وغیرہ۔

آئیے !اب آگے بڑھتے ہیں۔ پھر یہ ہوا کہ ہمارے ذہن میں ایک ٹی وی پر کچھ دن پہلے کا منظر آگیا ایک صاحب کی تصویر تھی جو جانی پہچانی تھی ان کے ہمراہ ایک بزرگ خاتون بھی تھیں۔ وہ حرم شریف میں اور حالتِ احرام میں تھے ،ان کے چہرے سے پریشانی ظاہر ہورہی تھی چونکہ ہمیں معلوم تھا کہ ا ن کی زوجہ محترمہ مہلک مرض میں مبتلا ہیں اور دوسرے حالات بھی کچھ سازگار نہیں ہیں ایسے مواقعوں پر دل اللہ طرف جھک جاتا ہے؟ دوسرے ہمیں حکم بھی یہ ہی ہے کہ اپنے تمام مسلمان بھائیوں سے خوش گمانی رکھو؟ ہم نے اسے رقت ِ قلب سمجھا ۔ اور سمجھے کہ وہ توبہ کر کے آئیں ہیں اور والدہ صاحبہ کو اس لیے ساتھ لائے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اولاد کے لیے ماں کی دعا سب سے زیادہ سنتا ہے۔ بلکہ حضور (ص)کی ایک صحیح حدیث کے مطابق اس کے لیے وعید بھی ہے کہ “وہ ہلاک ہوا جس نے اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک یادونوں کوپایا اس نے ان کے ذریعہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے مغفرت نہیں کرالی؟ اور یہ ہی سبق ہم نے حضرت یوسف (ع)کے قصے میں بھی قرآن میں پڑھا ہوا تھا کہ انکے بھائیوں نے بھی یہ ہی ہے کیاتھا کہ جب وہ تائب ہوگئے تو انہوں نے اپنے والد اور والدہ سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے دعا ئے مغفرت فر مائیے تا کہ ہمارے ان گناہوں کو اللہ سبحانہ تعالیٰ معاف فرمادے جو ہم سے سرزد ہوئے ہیں“ تو انہوں نے وقت مقر ر فرمادیا کہ تم فجر کے وقت آجانا ہم صبح کے وقت تمہارے لیے دعا کریں گے۔ ہم اپنی خوش گمانی میں یہاں تک پڑھ گئے کہ وہ توبہ کرنے کرکےاب اللہ گھر میں والدہ محترمہ کو بخشش کرانے کے لیے ساتھ لائے ہیں اور جو توبہ کی شرائط ہیں وہ پوری کر کے آئیں ہیں لہذا آئے بھی اپنے حلال پیسے سے ہونگے؟ کیونکہ توبہ کی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ مومن بندہ یابندی جو بھی تو بہ کرے، پکی توبہ کرے اور وہ آئندہ نہ کرنے کا عہد بھی کرے؟ا ور اگر اس میں کسی قسم کے حقوق العباد بھی شامل ہوں تو پہلے ان کو ادا کرے ،جس کا بھی نقصان کیا ہو وہ اس کو واپس کرے یا اس سے معاف کرا ئے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے گناہ تو معاف کردیتا ہے مگر حقوق العباد معاف نہیں کرتا؟ یہ سب کرنے کے بعد حضور (ص) کی ایک حدیث کے مطابق تو بہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے ،جیسے کہ ابھی ماں کے پیٹ سےوہ پیدا ہوا ہو؟ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کی واپسی پر اتنا خوش ہو تا ہے جیسے کہ کسی مسافر کا سامان سے لدا ہوا اونٹ کسی بیابان میں گم ہوگیا ہو اور وہ اچانک واپس آجائے۔ “یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ وہ خالق ہونے کی وجہ سے اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اورقرآن میں فر ماتا ہے کہ “ میں کسی کو سزادیکر خوش نہیں ہوتا۔ بس تم میری بات مان لیاکرو“
ہماری خوش گمانی یہاں تک بڑھی کہ ہم نے سوچا کہ وہ وطن واپس جاکر نہ صرف خود بد عنوانیوں کے خلاف مہم چلائیں گے۔ بلکہ باہر جو لوگ پیسے لے کر گئے ہیں وہ بھی ان کی دیکھا دیکھی واپس آجا ئے گااور ملک کا خزانہ بھر جائے گا، قرضے اتر جائیں گے، لوگ تمام برا ئیاں چھوڑ دیں گے۔ مگر ہماری ساری خوش گمانی اس وقت دم توڑ گئی جب وہ وطنِ عزیز پہونچے اور ان کو ہم نے ٹی وی پر دوبارہ ویسا ہی کا ویسا دیکھا۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ تمام دنیا کے زیادہ تر لوگ مالِ طیب کے بجا ئے مالِ خبیث خرچ کرکے وہاں پہونچتے ہیں اور کورے کہ کورے واپس آجاتے ہیں؟ کیونکہ وہ مالِ طیب پسند کرتا ہے مال ِ حرام پسند نہیں کرتا ایک حدیث کے مطابق منہ پر ماردیتا ہے ۔ عمل میں خلوص پسند کرتا ہے ۔ ریاکاری با لکل پسند نہیں کرتا۔ا للہ ہم سب کو توبہ پر قائم رہنے ، حلال کمانے ا ور حلال کھانے اور حلال مال خرچ کرکے وہاں جانے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ توبہ، حج اور عمرہِ مبرور عطا ہو( آمین) جس کی پہچان حضور (ص) نے یہ بتائی ہے کہ جو برائیاں اس میں پہلے تھیں وہ بعدمیں نہ رہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY