قسط 106
آپ رسول (ص) کے فرزند ہیں، قرآن کے لئے سند ہیں
امت کے لئے دست و بازو ہیں
طاعت خدا میں تعب اٹھانے والے
عہد وپیمان کی حفاظت کرنے والے
بدکاروں کے راستوں سے الگ تھلگ
مصیبت زدہ کو عطا کرنے والے
طولانی رکوع وسجدہ کرنے والے
دنیا کو اس طرح چھوڑ دینے والے
جیسے دنیا سے رخصت ہونے والے دنیا سے سیر ہوتا ہے
دنیا کو آپ نے ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھا
آپ کی آرزوئیں دنیا سے ہٹی ہوئی تھیں
دنیا کی آرائش سے آپ کوسوں دور تھے
رونق دنیا سے آپ کی نگاہیں پھری ہوئی تھیں
اور دنیا جانتی ہے
کہ
آپ کا میلان خاطر بس آخرت کی طرف تھا
یہاں تک
کہ
جب ظلم وجور اپنے ہاتھ بہت بڑھانے لگا
ظلم کے چہرے پر جو ہلکا سا پردہ تھا وہ بھی نہ رہا
گمراہی نے اپنے چیلوں کو ہر طرف سے بلا لیا
اس وقت
آپ اپنے جد امجد کے حرم میں مقیم تھے
ظالموں سے دور تھے، گوشہ نشین تھے
محرابِ عبادت میں محوِ عبادت تھے
دنیا کی لذتوں اور خواہشوں سے کنارہ کش تھے
اور
اپنی طاقت کے مطابق اور امکان کی حد تک
اپنے دل وزبان سے حرام سے بچنے کی ہدایت بھی کرتے رہے تھے
آپ امام حسین علیہ السلام سے بیعت یزید کا مطالبہ ہوا
اور
آپ کے حقیقت شناس علم نے طے کرلیا
کہ اب
یعت سے انکار ہو
اور
بیعت نہ کرنے کی وجہ سے
جو لوگ قتال کریں ان فاجروں سے جہاد کریں
فوراً آپ
اپنی اولاد اہلِ خاندان اپنی فرمانبردار جماعت کو لے کر چلے
آپ نے حق اور روشن دلائل کو واضح کر دیا
اور
خلق خدا کو حکمت اور پسندیدہ موعظہ کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دی
حدود شریعت کے قائم کرنے کا
معبود کی فرمانبرداری کا
محرمات سے بچنے اور سرکشی سے باز رہنے کا حکم دیا
لیکن
ستمگاروں نے ظلم وعداوت سے آپ کا مقابلہ کیا
آپ نے پہلے تو ان کو غضب خدا سے ڈرایا اور حجت ہدایت کی مضبوطی کی
پھر ان سے جہاد کیا
آخرکار
جب انہوں نے
آپ کے بارے میں ہر عہد کو توڑدیا
ہر حکم خدا کو پسِ پشت ڈال دیا
اور
آپ کی بیعت سے بھی پھر گئے
اور اپنی شقاوت سے
انہوں نے آپ کے خدا اور آپ کے جد امجد کو غضبناک کیا
اور
آپ سے لڑنے کی پہل اپنی طرف سے کی
تو
پھر آپ بھی ضرب نیزہ وشمشیر لئے میدان میں آگئے
اور
بدکاروں کے لشکروں کو پیس ڈالا
جاری ہے













