روس نے یوکرین کی بندرگاہوں سے اناج کی برآمد کا معاہدہ معطل کردیا، جس سے دنیا میں گندم کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق رواں برس جولائی میں روس اور یوکرین نے اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی میں اناج اور کھاد کی برآمدات کے لیے بحیرہ اسود کی یوکرینی بندرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

روس اور یوکرین کے مابین ہونے والے معاہدے کے بعد عالمی سطح پر گندم کی قیمت میں پہلی مرتبہ کمی آئی تھی۔ تاہم اب خبر ہے کہ روس نے یوکرین کی بندرگاہ سے اناج برآمد کرنے کا معاہدہ معطل کردیا ہے، جس سے گندم کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

روس کے مطابق یوکرین کی جانب سے ہفتے کے روز بحیرہ اسود میں موجود روسی بحرے بیڑے پر 16 ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا، اور اس حملے میں برطانوی نیوی کے ماہرین نے بھی یوکرین کی مدد کی تھی۔

روس نے اپنے بحری بیڑے پر حملے کے ردعمل میں اناج کی برآمد کا معاہدہ معطل کردیا ہے، جس کے بعد بحیرہ اسود میں یوکرینی بندرگاہوں سے اناج کی برآمد بھی معطل ہو جائے گی۔

دوسری جانب امریکی صدر صدر جو بائیدن کا کہنا ہے کہ یوکرین اور روس کے مابین ہونے والے معاہدے میں اقوام متحدہ ثالث تھا،اور روس کے معاہدہ معطل کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس کا یہ اقدام اشتعال انگیزی ہے جس سے دنیا بھر میں بھوک کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

روس نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتریس کو خط لکھ کر آگاہ کردیا ہے کہ روس یوکرین سے غیر معینہ معدت کے لیے معاہدہ معطل کر رہا ہے، کیونکہ اس کے تجارتی جہاز محفوظ نہیں۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں درآمد ہونے والی گندم کا 30 فیصد روس اور یوکرین پیدا کرتا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY