میں ایک طویل عرصے اپنے دوست ساتھی ہم عصر شریک کار خالد اصغر کے بارے میں لکھنا چاہتا تھا لیکن شعر سمیت چونکہ کوئی چیز بھی زبردستی لکھنے کا قائل نہیں اس لیئے خالد اصغر کا وہ رخ تلاش کرتا رہا جو میری دسترس میں بھی آ سکے اور میں اس سےانصاف بھی کر سکوں
اب جو اسکی زندگی کا یہ سخن گوئی کا رخ بلکہ رخ روشن سامنے آیا تو قلم نے کان میں سرگوشی کی یہی مناسب وقت اور موضوع ہے کہ خلاد پر کچھ لکھ ڈالوں
ابھی خالد اصغر نے اپنا ایک نیا شعر فیس بک پر لگایا ہے
عشق گر جسم ہی کی خاطر ہو
معتبر سلسلہ نہیں بنتا
اس شعر کو پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ چند ہی ماہ پہلے خالد اصغر کے اندر شعر گوئی کا جو پودا پھوٹا تھا وہ اب پھول پتوں سمیت جوان ہو کر پھل دینے کے قریب ہے۔ خالدچند ماہ سے ایک ایک شعر کہہ رہا تھا،کچے پکے، وزن بے وزن، لیکن فنی نزاکتوں سے قطع نطر مجھے اسمیں ہمیشہ منفرد خیال کی پختگی نظر آئی ۔ میں ایک ہمدم دیرینہ کی مناسبت سے اسکی حوصلہ افزائی کی۔ اسکا اصرار ہوا کہ میں اسکے اشعار کی اصلاح کر دیا کروں باوجود اس کے کہ میں خود ابھی نہ تو شعر گو ہوں اور نہ ہی نام نہاد ادبی مجاور اور ٹھیکیدار مجھے تسلیم کرتے ہیں
میں نے خالد کے ساتھ شرط رکھی کہ وہ اپنے شعر رومن میں نہیں اردو رسم الخط میں اگر لکھے گا تو میں اسکے اشعار دیکھونگا۔ خالد نے اس چیلنج کو قبول کیا اور صرف دو تین ہفتے میں باقاعدہ بہترین اردو لکھنی شروع کر دی اور اب ماشااللہ وہ اپنے اشعار بلکہ چند غزلیں بھی خود ہی اردو میں لکھ چکا ہے
خالد اصغر کے جس شعر نے مجھے خالد کے بارے میں لکھنے پر مجبور کیا ۔۔۔۔۔ عشق گر جسم ہی کی خاطر ہو۔۔۔۔ اس میں کمال شعر جسم ہی کی ۔۔ہے۔ اگر فقط جسم کی خاطر کہا ہوتا تو شعر تشنہ رہتا لیکن جسم ہی کی ٍخاطر نے شعر کو توانا بنا دیا ہے۔
شاعری دراصل ہے کیا؟ شاعر شعر کہنا نہیں ہے اور قافیہ پیمائی بھی نہیں ہے۔ شاعری دراصل خیال ہے اور ایک خیال سے جنم لیتی ہے اور اچھا سخن گو وہ ہے جو اس خیال کے لیئے ظرف سانچا یا فارمیٹ منتخب کرتا ہے کہ اس نے جو سوچا ہے اسے غزل کا روپ دے،نظم لکھے،آزاد شاعری کرے،نثری نظم بنائے، قطعے میں بات مکمل کر دے یا اسے رباعی کی شکل دے دے۔ سخن گو دراصل چاک پہ بیٹھا وہ ہنر مند ہے جو گندھی مٹی کو ظرف کا روپ دیتا ہے۔ غزل کو ایک بڑی تعداد آسان صنف سمجھتی ہے جبکہ غزل کا ہر ایک شعر اپنی جگہ پر ایک مکمل تخلیق ہوتا ہے اور ایک غزل کے پانچ سات اشعار میں آپ درجن بھر موضوعات کو مقید کر سکتے ہیں۔ غزل قافیے ردیف کا نام نہیں کہ روتا کھوتا سوتا بوتا کر کے غزل مکمل ہو جائے۔ غزل شعریت اور غزلیت کا امتزاج ہے اور یہی اسکا مشکل ترین حصہ ہے۔
خالد اصغر میرے اپنے خیال میں شاعری میں نووارد بالکل نہیں ہے۔ وہ برسوں سے شعر کی فضا میں سانس لے رہا تھا۔ میں نے اپنے بہت سے مقالات میں لکھا ہوا ہے کہ خالق کونین نے روئے زمین پر ہر ایک بشر کے اندر شعر گوئی کا وصف رکھا ہوا ہے بس اسکے منکشف ہونے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ زندگی کے سفر میں لوگوں کی غالب اکثریت پر دوسرے شعبے حاوی ہو جاتے ہیں اور سخن گوئی اس میں مفقود یا پھر ناپید ہو جاتی ہے لیکن ایک بڑی تعداد عوام کی ایسی ہے کہ انکو زندگی کے متاخر حصے میں اپنے اس وصف کا ادراک ہوتا ہے۔ خالد نے اپنی ریڈیو پاکستان کی ملازمت کے دوران غالب حصہ موسیقی کے شعبے میں گزارا اور بڑا نام بھی پیدا کیا۔وہ صرف پروڈیوسر ہی نہیں رہا گلوکار بھی ہے موسیقار بھی اور آرکسٹرا کی ضروریات سے بھی آگاہ۔ مجھے خالد اصغر نے میوزک کی ریکارڈنگ سکھائی اور اس حوالے سے وہ میرا استاد بھی ہے۔ مجھے برسوں سے علم ہے کہ خٍالد کے اندر ایک شاعر چھپا ہوا تھا کیونکہ دوران ملازمت وہ موسیقی کے شعبے میں شاید واحد آدمی تھا جو شعر ٍآشنا تھا اور شعر کی جزئیات پر مسلسل بحث بھی کرتا تھا۔کئی سال پہلے میری غزل۔۔۔۔سارے دکھ سہہ گئیں آنکھیں میری۔۔۔۔۔۔۔ جب اس نے گائی اور اس غزل کو آج تک مقبولیت حاصل ہے تو ۔۔اسکی ریکارڈنگ کے مراحل کے دوران وہ جس باریک بینی سے شعر پر اسکی ساخت پر اسکے الفاظ پر باقاعدہ بحث کرتا تھا تو مجھے حیرانگی کے ساتھ پریشانی بھی ہوتی تھی۔
چلیں آج اس راز سے بھی پردہ اٹھا دیتا ہوں۔ خالد نے یہ دُھن مرحوم خالد احمد کی غزل کے لیئے تیار کی تھی۔۔ اس طرح پھوٹ کے رویا کوئی۔۔۔ اسکے دوسرے مصرعے میں قافیہ ردیف تھا۔۔ گویا کوئی۔۔۔۔ خالد کی شعری نفاست کی حد دیکھیں کہ اسے ۔۔۔گویا۔۔۔ کے لفظ نے جیسے آف کر دیا۔ پنجابی کو گویا گوبر کو اور اسکے اُپلے کو کہتے ہیں۔ لاہور ریڈیو کے ڈیوٹی روم کے سامنے اسٹوڈیو سے نکلتے ہوئے خالد مجھے کہنے لگا کہ یار صفدر اندر چل میوزک اسٹوڈیو میں۔۔۔ میں اور خالد جب وہاں پہنچے تو اس نے مجھے دُھن سنا کر کہا کہ اس دھن پر غزل لکھو۔ خیر غزل تو چند منٹ میں ہو گئی جس کے بعد خالد نے مجھے بتایا کہ دراصل اس دھن کے لیئے خالد احمد کی غزل تھی۔ اس غزل میں کوئی کمال نہیں لیکن گائیکی کے اعتبار سے ایک امتحان اور مشکل تھی جسے خالد نے اپنی مہارت اور سخن فہمی کی وجہ سے آسانی سے طے کر لیا۔ سہہ ،رہ،بہہ۔۔۔ اس قافیے میں آخری ہ ساکت و ساکن نہیں بلکہ بولتی اور متحرک ہے اور یہی گلوکار کی آزمائش ہے اور خالد اصغر اس آزمائش میں پورا بھی اُترا
یاد رکھیں میرا بہت پرانا شعری ایمان اور فلسفہ ہے کہ شاعر وہ نہیں ہوتا جو قافیے ردیف کے زور پر دو مصرعوں کا شعر کہتا ہو بلکہ خیال کی جدت و ندرت اچھے شعر کو جنم دیتی ہےاور خالد اصغر کے پاس خیال کی یہ دولت موجود ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اس دولت میں اضافہ کرے گا
خالد اصغر اب یہ منکشف ہو چکا کہ تم سخن گو ہو۔ اس سخن گوئی کو جاری رکھو روایتی شاعروں کی طرح نہیں بلکہ خود رو پھول کی طرح جو کسی نرسری میں نہیں ملتا اور جسکے رنگ اور خوشبو بالکل جدا ہوتی ہے
خالد اصغر کی پہلی مکمل غزل
ہم مسافر ہیں ترے در سے گزر آئے ہیں
اور سمجھتے ہیں کہ کچھ اور سنور آئے ہیں
ہم کو یہ زعم کہ ہم مسکنِ قاتل میں مقیم
اُسکو یہ فکر کہ ہم خاک بسر آئے ہیں
پہلے تاریکیاں رہتی تھیں مری ہمراہی
اب کے ہمراہ مرے شمس و قمر آئے ہیں
تم سے پہلے تو مجھے حرف شناسی ہی نہ تھی۔
اب ملے ھو تو مجھے کتنے ھنر آئے ہیں
تو نے دیکھا ہی نہیں مُڑ کے ھمیں جانِ جہاں
صبح سے شام تلک بار دگر آئے ہیں
جن سے بچھڑے ہوئے خالد مجھے صدیاں گزریں
چاند تاروں میں وہی دوست نظر آئے ہیں
زندگی کیسے گزاری ھے نہ پوچھو خالد
سانس کی لہروں میں کتنے ہی بھنور آئے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر ھمدانی














Safdar Hamadani is my friend and rather a brother. We worked together for some years at Radio Pakistan, Lahore. I understand the agonies and pains, he suffered for poetry. He is a born poet. But, true love spurred his skills. I was rated, perhaps, a Top Class Music Producer, though I worked in all broadcasting assignments. A vivid example is my picture with Z .A. Bhutto saheb. I organized a Solo Concert with Ghulam Ali, a top class ghazal singer. At was a time, when, Radio was on the TOP. I had to stay inside the studio to accommodate guests, because seats were 200 and guests were 250. Even, girls and women proffered to sit on mats on the ground inside concert hall. I examined the sense of music in Safdar Hamadani. I requested him to sit on the Recording Panel. He was amazed. The concert has its own high value. He hesitated and smiled. I told him three points of LIVE recording. Recording of a live Solo Concert is very delicate. Safdar smiled and accepted. He had no other way to accept this major responsibility he concentrated and handled the TWO hours Live programme. It was SUPERB. So, Poetry and Music always remained together. Thanks dear Safdar for writing precious words for me. Regards and prayers..
Well written article about Khalid Asghar Sahib. He is a man of many talents ?