افسانہ ,,, اور وہ روتی رہی : محبوب الٰہی بٹ

0
689

لوگ کہتے تھے کہ میں بہت خوبصورت ہوں – میری امی کے خاندان میں لڑکوں کی نسبت لڑکیاں زیادہ پیدا ہوتی ہیں لیکن لڑکیاں اتنی خوبصورت ہوتی ہیں کہ لوگ انہیں دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں – میری چھوٹی بہن اور امی بھی بہت ہی خوبصورت ہیں-چونکہ ہمارے گاﺅں میں لڑکیوں کا سکول ہی مڈل تک تھا اس لئے وہاں مڈل کے بعدلڑکیوں کی تعلیم کا سلسلہ ختم ہو جاتا تھا – تاہم جب میں نے اورمیری سہیلی کوثری نے اچھے نمبروں سے مڈل پاس کیا تو ہماری خواہش تھی کہ ہم شہر میں مزید تعلیم حاصل کریںلیکن میرے والدین غریب تھے اس لئے وہ نہ مانے اور کوثری کے والدین اکیلی لڑکی کو محض تعلیم کےلئے شہر بھیجنے کو تیار نہ تھے – میرے اباآٹھ جماعت اور امی پرائمری پاس تھیں – میں گاﺅں کی سیدھی سادی لڑکی اس دن بھی اپنے گھر کے کام کاج نمٹا رہی تھی کہ میری سہیلی کوثری آ گئی اور بتایا کہ اس کے بھائی شعیب کا دوست ڈاکٹر کاشف کل شہرسے ان کے گھر آ رہا ہے -کوثری نے یہ بھی کہا کہ کل گھرمیں سپیشل کھانے پکیں گے جس میںمجھے اس کی مدد کرنا ہوگی – کاشف نام میرے لئے نیا تھا کیونکہ ہم دیہات میں رہنے والے لوگوں کے نام پھجا ‘ غفورا ‘ دتا اور مجیدا ہی ہوتے تھے – ڈاکٹر ہمارے ملک میںایک سٹیٹس سمبل تھا کیونکہ اس زمانے میں دیہات میںڈاکٹر کم ہوتے تھے زیادہ تر کمپاﺅنڈر ہی ہوتے – میں جب رات کو سونے کےلئے لیٹی تو اس بارے میں غور کرتی رہی کہ کاش میرا شوہر بھی ڈاکٹر ہوتا – میں سپنے دیکھتی رہی اور صبح ہو گئی -نجانے کیوں آج میں نے عید والا جوڑا پہنا اور تیار ہو کر کوثری کے گھر چلی گئی کہ اس کی مدد کرسکوں – صبح گیارہ بجے کے قریب ڈاکٹر کاشف آ گیا تو کوثری کے والدین نے اس کا پرتپاک استقبال کیا-میں اور کوثری نے پردے سے ہی کاشف کو دیکھا – کاشف بھی بہت خوبصورت تھا- میں اسے دیکھتی ہی رہ گئی -میںکچن میں کام کرتے ہوئے چوری چوری کاشف کو دیکھتی رہی – کاشف نے بھی میری طرف بڑی دلچسپی سے دیکھا- میری کوشش یہ تھی کہ میں اس طرح کچن میںکھڑی رہوں کہ کاشف کی نظر مجھ پر پڑتی رہے – کاشف وقفے وقفے سے میری طرف دیکھتا- جب وہ میری طرف دیکھتا تو دل پر ایک تیر سا چلتا- دوپہرکو کوثری کی کھانے میں مدد کے بعد میں گھر آئی تو ادہر ادہر پھرتے پھراتے میں کاشف کے بارے میںہی سوچتی رہی –
شام کوہم گاﺅں کی سہیلیاں آپس میں کھیل رہی تھیں کہ اچانک کاشف اور شعیب بھی ادہر سے گزرے – شعیب کاشف کو اپنے گاﺅں کی سیر کروا رہا تھا – تاہم جب کاشف نے مجھے دیکھاتو اس نے شعیب سے کچھ کہا تو شیعب نے میری طرف دیکھ کر اس کی بات کا جواب دیا – مجھے یہ سمجھنے میں کوئی دقت نہ ہوئی کہ کاشف میرے بارے میں ہی پوچھ رہا ہے – میں گھبرا کربھاگتی ہوئی گھر واپس آ گئی -کچھ دیر ہی گزری تھی کہ شعیب اور کاشف بھی ہمارے گھر آ گئے – گاﺅں کے رواج کے مطابق کاشف میرے لئے بھائی کا درجہ رکھتا تھا اور اسے گھر آنے کےلئے دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں تھی – میں صحن میں کھڑی تھی اور میں نے وہی عید والے چمکتے ہوئے کپڑے پہنے رکھے تھے – میرے بال بھی کھلے ہوئے تھے – جب تک کاشف اور شعیب ہمارے صحن تک پہنچتے اور بابا ان کا استقبال کرتے میں بھاگ کر کمرے میں چلی گئی اور دھڑکتے دل کے ساتھ سب سے پہلا کام یہ کیا کہ میں نے آئینہ دیکھا – میں حیران ہوئی کہ میں ایک دیو مالائی حور کی طرح لگ رہی تھی –
بابا نے ان دونوں کوبٹھایا اور امی نے کاشف اور شعیب کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا – پھر امی نے مجھے آواز دی تو میں گرم دودھ اور گڑ ایک پلیٹ میں رکھ کر لے گئی جو کاشف اور شعیب نے پی لیا- کافی دیر وہ بیٹھ کر بابا سے باتیں کرتے رہے اور پھر چلے گئے – مجھے نجانے کیوں کاشف اچھا لگ رہا تھا – گو میںسوچ رہی تھی کہ کہاں ڈاکٹر کاشف اور کہاں میں – تاہم ساری رات مجھے نیند نہ آئی اور میں کاشف کے خواب ہی دیکھتی رہی – اگلے روز کاشف واپس چلا گیا – عجیب بات یہ تھی کہ کاشف جاتے ہوئے کوثری کے ساتھ میرے لئے بھی ایک گفٹ چھوڑ گیا – میں حیران بھی ہوئی جبکہ اس کا گفٹ دیکھ کر میری اماں اورمیری چھوٹی بہن روبینہ بھی بہت خوش ہوئیں لیکن اس کے باوجود میںکوئی مطمئن نہ تھی – میں نے سمجھا کہ بات ختم ہو جائے گی لیکن تین دن بعد اچانک کاشف کی امی بھی بغیر اطلاع گاﺅں پہنچ گئیں – مجھے اطلاع اس وقت ہوئی جب کوثری مجھے بلانے آئی کہ کاشف کی امی آئی ہیں اور تمہیں ملنا چاہتی ہیں – مجھے حیرانی کے ساتھ خوشی بھی ہوئی – میں تھوڑی دیر میںتیار ہو گئی اور پھر کوثری کے ساتھ ہی چل دی – کاشف کی امی بہت خوبصورت تھیں – سفید ساڑھی کے ساتھ بالوں کا خوبصورت جوڑا بنائے وہ بھی ایک حور ہی لگ رہی تھی – جب میں اندر داخل ہوئی تو میں نے سلام کیا – کاشف کی امی نے اٹھ کر مجھے گلے لگایااور میرا نام پوچھا – میں نے بتایا ثمینہ تو کہنے لگیں کہ ماشاءاللہ بہت اچھا نام ہے – پھر میں ان کے پاس ہی بیٹھ گئی – تھوڑی دیر میں کھانا لگ گیا تو کاشف کی امی کا اصرار تھا کہ میں بھی ان کے ساتھ کھانا کھاﺅں – کھانے کے دوران وہ مجھ سے میرے اور میرے خاندان کے بارے میں بہت کچھ پوچھتی رہیں -میں غورکرنے لگی کہ آخر کاشف کی والدہ میرے بارے میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہی ہیں – سہ پہر کو کوثری میرے گھر آئی تو بڑی خوش تھی اور اس نے آتے ہی مجھے گلے لگا لیا –
”کیا بات ہے کوثری آج بڑی خوش ہو ؟ مہمان چلی گئی ہیں کیا؟“ میںنے پوچھا
”خوش تو میں واقعی ہوں لیکن یہ بھی تو پوچھو کہ کیوں خوش ہوں ؟“ کوثری نے ہنستے ہوئے کہا
”ڈاکٹر کاشف کی والدہ نے میری اماں سے تمہارے رشتے کے بارے میں بات کی ہے “- کوثری نے کہا
”میرے رشتے کے بارے میں لیکن کس کے ساتھ ؟“ میںنے حیرانی سے پوچھا
”کاشف کے ساتھ تمہارے رشتے کے بارے میں “- کوثری نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا
”چل ہٹ پرے – کہاں میں گاﺅں کی گنوار اور اجڈ لڑکی اورکہاں ڈاکٹر کاشف جیسا ماڈرن خیال اور وہ بھی ڈاکٹر !!!تم لگتا ہے کہ مجھے ناجائز میںخوش کر رہی ہو-“ میں نے بے یقینی سے کہا
”اللہ کی قسم ! میں نے خود کاشف کی امی کو اپنی امی سے بات کرتے سنا ہے – اگر یقین نہ آئے تو کچھ دیر ٹھہر جا – ابھی شام کو میاں جی نہ آئے تمہارے بابا سے بات کرنے تو میرا نام تبدیل کر دینا “- کوثری نے کہا
اور واقعی ہوا بھی یہی – مغرب کے بعد دروازہ کھلا تو کوثری کے میاں جی اور اس کی اماں ہمارے گھر آئے تھے – میں سمجھ گئی کہ بات میرے رشتے کی ہی ہو گی اور کوثری جھوٹ نہیں بول رہی تھی – میںنے صحن میں انہیں چارپائی پر چادر ڈال کر بٹھا دیا – تھوڑی دیر میںمیرے بابا بھی آ گئے اور باتیں شروع ہوئیں –
”زمان علی ہم تمہارے ساتھ ایک بات کرنے آئے ہیں – امید ہے کہ ہمیں مایوس نہیں کرو گے “- میاں جی نے بات شروع کی
”میاں جی زندگی بھر آپ نے کہیں اور میں نے مانیں – آج کوئی نئی بات ہے کیا ؟“ بابا نے ہنستے ہوئے کہا
”زمان علی ! ہم تم سے تمہاری بیٹی ثمینہ کا رشتہ مانگنے آئے ہیں – لڑکا ڈاکٹر ہے اور ہمارا دیکھا بھالا ہے “- میاں جی نے کہا
”لڑکا ڈاکٹر ہے اور میری بیٹی ثمینہ کا رشتہ آپ لائے ہیں ؟“ بابا جیسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے ہوں
”بھائی زما ن ! ہمارے بیٹے شعیب کا دوست ہے ڈاکٹر کاشف-جو چند دن پہلے تمہارے گھر بھی آیا تھا – اس نے آپ کی بیٹی کو دیکھا اور پسند کیا – آج اس کی والدہ آئی تھیں’ آپ سے بات کرنے لیکن میں نے انہیں کہا کہ اس طرح بات کرنا مناسب نہیں ہے ’پہلے میں بات کرلوں – بولو کیا جواب ہے تمہارا ؟“ میاں نے جی نے مزید کہا
” میرے گھر کے سارے فیصلے توہمیشہ سے آپ ہی کرتے آئے ہیں – اللہ آپ کا سایہ میرے سر پرقائم رکھے تو مجھے یہ سوچنے یا فیصلہ کرنے کی ضرورت کیا ہے “- بابا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑے –
”جھلیا ! تجھے ہمیشہ چھوٹا بھائی سمجھا- پچاس سال سے دوستی ہے تمہارے ساتھ – تیری بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھا ہے – اسی لئے تیرے پاس جھولی پھیلا کر آیا ہوں “-میاں جی نے کہا تو بابا چپ رہ کر روتے رہے –
” جیسے آپ کی مرضی میاں جی – ثمینہ آپ ہی کی بیٹی ہے – میں کون ہوتا ہوں آپ کو انکار کرنے والا- اگر لڑکے کے بارے میں آپ کی مکمل گارنٹی ہے تو میں حاضر ہوں – چاہے تو کوہ کر کھائیں یا دھو کر کھائیں “- بابا نے کہا تو میاں جی ہنس کر کہنے لگے -”زمان بھائی ! تو کوہ کر بھی ہمارا ہے اور دھو کر بھی ہمارا ہی ہے “-
گھر میں بابا کے علاوہ امی اورروبینہ بھی خوش تھیں کہ میرا رشتہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ ہو رہا ہے – امی تو خوشی سے پھولی نہیں سماتی تھیں – بابا بھی خوش تھے کہ ہم غریبوں کے گھر میں ڈاکٹر کا رشتہ آیا تھا -ایک ہفتے بعد کاشف کی امی پھر سے ہمارے گاﺅں آئیں -وہ ایک خوبصورت سفید رنگ کی گاڑی میں تھیں – سہ پہر کو بہت سے تحائف لے کر وہ کوثری ’ شعیب ’اس کی ماں اور میاں جی کے ہمراہ ہمارے گھر آئیں اور بات پکی کر گئیں – اس کے مزید ایک ہفتے کے بعد میری منگنی ہو گئی اور تین ماہ بعد شادی بھی ہو گئی – شادی میں میری اماں کے جہیز میں شامل زیورات کو ہی نئے رنگ میںبنوا لیا گیا اورواجبی سا جہیز دے کر مجھے رخصت کر دیا گیا – اس بارے میں کاشف کی امی نے میرے ماں باپ کی بہت حوصلہ افزائی کی کہ جہیز کی کوئی ضرورت نہیں ہمارے گھر میںاللہ کا دیا سب کچھ ہے -یوں میں کاشف کی دلہن بن کر اس گھر میں آگئی –
کاشف کے گھر میں اس کی ماں اور ایک چھوٹا بھائی عاطف تھے -اس کے والد فوت ہو چکے تھے – سارا خاندان ہی ڈاکٹروںکا تھا – ان کے مرحوم والد بھی ڈاکٹر تھے اور والدہ بھی ڈاکٹر ہیں – عاطف البتہ ڈاکٹر بن رہا تھا – گھرایک بہت بڑی کوٹھی پر مشتمل تھا جس کے ساتھ ایک بہت بڑا گارڈن بھی تھا- گاڑیاں ‘ نوکراور ہر سہولت اس گھر میں موجود تھی – میں زندگی میں دو دفعہ شہر آئی تھی اور میں شہر کے رہن سہن کے بارے کچھ نہیں جانتی تھی – تاہم مجھے حیرانی اس بات سے ہوئی کہ نہ ہی تومجھے یہاں کوئی آواز دے کر کہتا کہ یہ کام کرو اور وہ کام کرو اور نہ ہی ساس مجھے کوسنے دیتیں بلکہ ساس میرے ساتھ بڑی محبت اور شفقت سے پیش آتیں جبکہ کاشف بھی بڑی محبت سے پیش آتے – عاطف جو ابھی ڈاکٹر بن رہا تھا وہ بھی میرے ساتھ بڑا پیارکرتا- میں گاﺅں کی زندگی کی عادی تھی اور یہ یقین نہ کر سکتی تھی کہ دنیا ایسی بھی ہو سکتی ہے – ساس اکثر کہتیں کہ اس گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے – ایک بیٹی کی کمی تھی وہ بھی اللہ نے دے دی ہے – کبھی وہ مجھے کہتیں کہ تم میری سہیلی ہو -اکثر بیگمات سے مجھے ملواتیں تو وہ میرے حسن اور خوبصورتی کی قائل ہو جاتیں – میں اس گھر میںبہت خوش تھی – شادی کے تین ماہ بعد ایک دن کھانا کھاتے ہوئے میری ساس نے مجھ سے پوچھا کہ میری تعلیم کیا ہے تو میں نے بتایا کہ مڈل فرسٹ کلا س میں پاس ہوں –
”توآگے کیوں نہ پڑھائی کی ؟“ ساس نے شفقت سے پوچھا
”ہمارے گاﺅں میں سکول ہی مڈل تک تھا – زیادہ تر لڑکیاں مڈل ہی کرتی ہیں- ویسے میں نے بہت اچھے نمبر لئے تھے مڈل میں “- میں نے جواب دیا
”بیٹی دیکھو میں اور کاشف تو سارا دن ہسپتال میں ہوتے ہیں- تم پڑھائی شروع کر دو – میں اس میں تمہاری مدد کروں گی اور ہو سکا تو تمہارے لئے کسی لیڈی ٹیچر کا انتظام بھی کر دوں گی – بیٹی تم اتنی ذہین ہو اور تم محض اس لئے نہ پڑھ سکی کہ تمہارے گاﺅںمیں سکول ہی مڈل تک ہے – تم انشاءاللہ ضرور اعلیٰ تعلیم حاصل کروگی “-ساس نے کہا تو میں حیران رہ گئی –
”جیسے آپ کہیں گی امی ویسا ہی کروں گی “- میں نے سرجھکا کر کہا تو ساس نے بے اختیار میرا سر چوم لیا
”کتنی پیاری بیٹی ہے میری اور کتنی خوبصورت بھی “- ساس نے میرے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
اگلے ہی روز میرے لئے میٹرک کی کتابیں لائی گئیں اورمیں نے پڑھائی شروع کر دی – گھر میں سارا دن کرنے کو کوئی اور کام تو ہوتا نہیںتھا – صفائی ‘ کھانا پکانے اور باغبانی تک کےلئے نوکر رکھے ہوئے تھے – میں نے اب پڑھنا شروع کر دیا – ایک لیڈی ٹیچر بھی میرے لئے رکھ لی گئیں جو ہفتے میںایک دن آ کر مجھے پڑھاتی تھیں – چھ ماہ تک میں پڑھائی میںا تنی تیز ہو گئی کہ میں نے میٹرک کا امتحان دے دیا – میری ذہانت کام آئی اور میں نے میٹرک میں وظیفہ بھی حاصل کر لیا – میری ساس پھولی نہیں سماتی تھیں – میں اور کاشف بھی بہت خوش تھے – عاطف شام کو جب گھر آیا تو میرے لئے ایک خوبصورت پھولوں کا گلدستہ اور مٹھائی کا بڑاسا ڈبہ لایا- اس روز میں نے اپنی ساس سے کہا ”امی آپ خوش ہیںکہ آپ کو ایک بیٹی مل گئی اورمجھے اللہ نے کوئی بھائی نہیںد یا تھا – میںخوش ہوں کہ اب عاطف کی صورت میں ایک بھائی مل گیا ہے “- میری بات سن کر میری ساس بہت خوش ہوئیںا ور یہ بات کاشف اور عاطف کو بتائی تو دونوں کو خوشی ہوئی –
اسی شام ہم سب گاڑی میں بیٹھ کر گاﺅں میں میرے امی ابو اور کوثری کے گھر مٹھائی دینے کےلئے چلے گئے -کوثری مجھے مل کر خوش بھی ہوئی اور اداس بھی – وہ اداس اس لئے تھی کہ اب اس کے پاس پیاری سہیلی کا ساتھ نہیں تھا – میں نے اسے کافی دیر گلے لگائے رکھا اور وہ روتی رہی – امی ابااور روبینہ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ہمارے لئے اپنے ہی گھر کی مرغیاں ذبح کرکے پلاﺅ اور سالن بنایا – پھر ہم سب نے دری پربیٹھ کر کھانا کھایا – ہم واپس آنا چاہتے تھے لیکن امی ابو کا اصرار تھا کہ ہم رات ان کے ہاں رکیں – چنانچہ ہم وہیں رک گئے – رات ہم سب صحن میں چارپائیاں ڈال کت آپس میںباتیںکرنے لگے – باتوں باتوں میں کاشف نے ابو سے کہا کہ وہ شہر میں شفٹ ہوجائیں -ابو نے دو چار سوال کئے تو میں نے بھی کہا کہ ابو اگر آپ شہر میں شفٹ ہو جائیں گے تو اس سے روبینہ بھی پڑھ لکھ جائے گی کیونکہ گاﺅں میں توسکول ہی مڈل تک کا ہے – ابو نے حامی بھر لی –
کوئی ایک مہینے کے بعد میرے ماںباپ اور بہن شہر میں شفٹ ہو گئے – پہلے تو وہ کچھ ہفتے ہمارے ساتھ ہی رہے لیکن بعد میں انہوںنے ایک مکان کرائے پر لے لیا جس میں کاشف اور میری ساس نے ان کی بہت مدد کی – ابو کو کاشف نے اپنے ہی ہسپتال میں نوکری دے دی اور روبینہ بھی ایک سکول میں داخل کر دی گئی – مجھے ہر وقت کوثری کی یاد آتی رہتی تھی اور میںیہ بھی سوچتی تھی کہ میرا رشتہ بھی کوثری کے والدین نے کروایا ہے – میں کسی حد تک ان کی مشکور بھی تھی – تاہم خوشی اس وقت ہوئی جب کوثری بھی ضد کر کے اپنے بھائی شعیب کے پاس شہر آگئی اورمزید تعلیم کےلئے اسی سکول میںد اخل ہو گئی جہاں روبینہ پڑھتی تھی- مجھے بہت خوشی ہوئی -میرے والدین بھی بہت خوش ہوئے کہ کوثری شہر آ گئی ہے – شہر کا صاف ستھرا ماحول ‘ اعلیٰ خوراک اور خوبصورت کپڑے ملے تو روبی کا حسن بھی دیکھنے کے قابل تھا – جو کوئی دیکھتا وہ رشک کرتا – عاطف میرا دیورہونے کے ساتھ منہ بولابھائی بھی تھا – میں آہستہ آہستہ یہ بات ذہن سے نکالنے لگی کے میں کبھی گاﺅں کی اجڈ لڑکی تھی – میری شادی کو ڈیڑھ سال ہو چکا تھا – میں اب ایف اے کی طالبہ تھی جو باقاعدگی سے کالج جاتی – مجھے کلاس کی دیگر لڑکیوں میں ایک برتری حاصل تھی کہ میں شادی شدہ ہوں اور میرے شوہر اور ساس ڈاکٹر ہیں – میں کپڑے بھی اعلیٰ قسم کے پہنتی تھی اور میک اپ بھی غضب کا کرتی – لڑکیاں تو ایک طرف کالج کی ٹیچرز بھی میرے ساتھ دوستی کرنے میں فخر محسوس کرتیں – میری ساس میری پڑھائی کا خاص خیال رکھتی تھیں – تاہم مجھے یہ جان کر خوشی ہوتی کہ عاطف میری چھوٹی بہن روبی میں دلچسپی رکھتا تھا – وہ بہانے بہانے سے روبی کی پڑھائی میں مدد کرتا اور جب کبھی ملاقات ہوتی تو وہ روبی کے آگے بچھ جاتا – امی بھی یہ سب کچھ دیکھ کر خوش ہوتیں -ان کا خیال تھا کہ عاطف کی شادی روبی سے ہی کرنی ہے – میری ساس بھی شاید یہی سوچ رکھتی تھیں – وہ بھی روبی کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آتیں اور اس کے بہت چاﺅ کرتیں-
میں نے ایف اے بھی اچھے نمبروں سے پاس کیا – روبی اور کوثری نے اعلیٰ نمبروں سے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا -ان دونوں نے مزید پڑھائی کےلئے کالج جوائن کر لیا-تھرڈ ائر میں جاکر اچانک میرے اندر تبدیلی آنے لگی -میں یہ سوچتی کہ میں عام لوگوں سے مختلف کلاس ہوں – کبھی تو میں کسی مانگنے والی کو دیکھ کر اسے خیرات دیا کرتی تھی – اب مجھے مانگنے والوںں سے نفرت ہو گئی – میں فورتھ ائرمیںجانے تک بہت بدل گئی- میں اپنے اندر اس تبدیلی کو اپنا حق سمجھتی تھی کیونکہ اب میں کوئی عام کلاس نہیں بلکہ ایک پڑھی لکھی لڑکی تھی – گھر کے نوکروں کے ساتھ بھی میرا رویہ آہستہ آہستہ تبدیل ہونے لگا – اپنے ماں باپ کو بھی اب میں وہ اہمیت نہ دیتی تھی جو پہلے دیتی تھی – نجانے یہ کسی تبدیلی تھی کہ جس نے میر ی سوچ ہی بدل دی – اسی اثناءمیں گاﺅں میں اپنی زمین بیچ کر ابو نے اپنے لئے شہر میں ایک اچھا سا مکان خرید لیا – اب تو میں مزید بدل گئی – اب نجانے کیوں مجھے عاطف کی روبی میں دلچسپی بھی نہ بھاتی بلکہ میں نے روبی کےلئے کاشف کے کزن کا انتخاب کیا – شازب بہت امیر ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور بہت خوبصورت بھی – میرے خیال میں روبی کےلئے وہی مناسب تھا – میں نے بی اے جبکہ روبی اور کوثری نے ایف اے کر لیا تھا – تاہم اب میرا کوثری کے ساتھ بھی رویہ اس قدردوستانہ نہ رہا جیسا گاﺅں کے زمانے میں تھا –
ادہر روبی کے رشتے کی بات چلی – شازب کے والدین نے روبی کو مانگ لیا – میں تو پہلے ہی تیار بیٹھی تھی – میں نے کہا کہ اس سلسلے میں میرے والدین سے بات کریں اور ساتھ ہی والدین پر زور دیا کہ روبی کا رشتہ شاز ب کے ساتھ ہی کر دیں – جب عاطف کو اس بات کا علم ہوا تو وہ پریشان رہنے لگا – وہ میرے ساتھ بات کرنا چاہتا تھا لیکن میں اسے موقع ہی نہ دیتی تھی – آخر ایک دن عاطف نے میرے ساتھ بات کی – ”بھابھی ! یہ آپ کیا کر رہی ہیں ؟“ ”بھابھی آپ کیوں روبی کی زندگی خراب کرنے پر تلی ہوئی ہیں ؟“
”کیوں روبی کی زندگی کو کیا ہوا ہے ؟“ میں نے بے اعتنائی برتی
”بھابھی ! آپ جانتی ہیں کہ روبی کےلئے شازب کا رشتہ مانگا گیا ہے اور آپ کے گھر والے اس کا رشتہ شازب سے کررہے ہیںاورآپ چپ چاپ تماشا دیکھ رہی ہیں “- عاطف نے کہا
”تو پھر ؟تمہیں کیوں پریشانی ہو رہی ہے ؟ روبی کے والدین اس کے بارے میں اچھا ہی سوچتے ہوں گے !!“ میں نے خشک لہجے میں کہا
”بھابھی ! میں روبی سے محبت کرتا ہوں اور میں خود اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں – امی اور بھائی جان بھی یہی سوچتے ہیں کہ دو بہنیں دو بھائیوں سے بیاہی جائیں تو گھر ایک ہوجائے گا“- عاطف نے کہا
”دیکھو عاطف ! تم میرے دیور کم اور بھائی زیادہ ہو – میں تمہارے لئے کوئی اچھی سے دلہن ڈھونڈکرلاﺅں گی – روبی کا رشتہ شازب سے ہوجانے دو“- میں نے کہا
”لیکن بھابھی ! میں روبی کو چاہتا ہوں – میں نے کئی سالوں سے ذہن بنایا ہوا ہے کہ میری دلہن روبی ہی بنے گی – میں بکھر جاﺅں گا“- عاطف نے ملتجی لہجے میں کہا
”دیکھو عاطف ! تم جانتے ہو کہ شازب ایک امیر ماں باپ کا بیٹا ہے وہ روبی کو زیادہ خوش رکھ سکتا ہے – تم ابھی ڈاکٹر بنے تو نہیںہو – تمہیں تو اپنا کیرئیر بنانے میں ابھی بہت سا وقت لگے گا- ادہر روبی بھی شادی کی عمر کو پہنچ چکی ہے – میرے والدین سر سے اپنا بوجھ اتارنا چاہتے ہیں“- میں نے کہا
”لیکن بھابھی – میں کیا کروں گا؟“ عاطف نے تقریباً روتے ہوئے کہا
”دیکھو عاطف درخت کی اسی شاخ کی طرف دیکھو جہاں تک تمہاری رسائی ہو سکتی ہے – کسی ایسی شاخ کی طرف مت دیکھوجو تمہاری رسائی سے بہت اونچی ہو “- میں نے خشک لہجے میں کہا
عاطف میری بات سن کر چند لمحے خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا اور پھر اپنے کمرے میں چلا گیا – میں نے شکر کیا کہ بلا ٹل گئی ہے ورنہ وہ اس بات پر ہنگامہ بھی کھڑا کرسکتا تھا – مجھے حیرانی اس وقت ہوئی جب روبی نے بھی منہ بول کر کہا کہ باجی امی ابا کو سمجھائیں – میں عاطف کو پسند کرتی ہوں لیکن یہ میرا رشتہ شازب سے کرنا چاہتے ہیں – میں نے روبی سے کہا کہ عاطف تمہارے لئے ٹھیک نہیں ہے – شازب بہت امیر ہے اورتمہیں زیادہ خوش رکھے گا- اسی دوران یہ بات بھی کسی طرح میرے علم میں آ گئی کہ شازب شراب پیتا ہے اور طوائفوں کے کوٹھوں پر بھی جاتا ہے لیکن میرے اندر کی نادان اور غریب لڑکی میری امارت پر عود کر آئی – میںنے سب کچھ جانتے بوجھتے روبی کی شادی شازب سے کروا دی – گو اس بات پر میری ساس کو بھی ملال ہوا لیکن وہ منہ سے ایک لفظ بھی نہ بولیں اور نہ ہی انہوں نے اس بات پر میرے والدین سے کوئی تعرض کیا -روبی کی شادی ہو گئی اور عاطف نے ایم بی بی ایس کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی اور اعلیٰ تعلیم کےلئے فرانس چلا گیا – اس دوران وہ ایک فرانسیسی لڑکی مونیکا کااکثر کاشف اور اپنی ماں کو خط میں ذکر کرتا -مونیکا بھی ڈاکٹر تھی اور عاطف کے ساتھ ہی تعلیم حاصل کر رہی تھی-
روبی کی شادی کا ثمراسے دو ماہ بعد ہی ملنا شروع ہوگیا – دولت تو اسے بہت مل گئی – شازب کے والدین بھی روبی کے ساتھ بہت محبت کرتے تھے لیکن شازب ہر رات شراب پی کر گھر آتا اور روبی سے اکثر تکرار کرتا – اب اس نے روبی پر ہاتھ بھی اٹھانا شروع کر دیا – شازب طوائفوں کے کوٹھوں پر بھی جاتا تھا – روبی یہ سب کچھ دیکھ کر کڑھتی تھی اور ہر وقت پریشان رہتی تھی – پھر روبی نے مجھے اس بات پر مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا کہ میں نے اس کی زندگی تباہ کی ہے – میں اندر سے خود بھی اس الزام کو درست سمجھتی تھی – شادی کے آٹھ ماہ بعد ایک دفعہ شازب نے روبی کو بہت مارا جس کا مجھے دکھ بھی ہوا – روبی ناراض ہو کر میکے آگئی- اگلے ہی روز اس کے ساس سسر آئے اور معافی مانگ کر روبی کو گھر لے گئے – میں سوچ رہی تھی کہ میں نے بہت بڑی غلطی کی – اپنی بہن کی زندگی تباہ کی – شازب کے کردار کو جانتے ہوئے بھی اپنی بہن سے اس کی شادی کروائی – ایک لمحے کو سوچ آئی کہ اگر عاطف آئے تو اسے منا لوں اور روبی کی شازب سے طلاق کروا کر اس کی شادی عاطف سے کر وادوں لیکن اگلے ہی روز شازب کا خط آیا جس میں اس نے مونیکا سے شادی کی اجازت طلب کی تو ماں اور کاشف نے اجازت دے دی – میرے پاﺅں تلے سے زمین نکل گئی – میں کافی دیر پریشان رہی اور خود کو کوستی رہی -میں کچھ بھی نہ کر سکی –
عاطف کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد فرانس میں ہی جاب بھی مل گئی – وہ جاب شروع کرنے سے قبل پاکستان آیا -مونیکا بہت اچھی اردو بولتی تھی اور واقعی ایک سلجھی ہوئی لڑکی تھی – میرے ساتھ بہت اٹیچ ہو گئی اور مجھے پکی سہیلی بنا لیا- میں نے عاطف اور روبی کی شادی کی بات ذہن سے مکمل طور نکال دی کہ مونیکا جیسی لڑکی کی زندگی تباہ کرکے میں دوسری غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی – اس دوران روبی کی حالت بری تھی – اس کا حسن مانند پڑ چکا تھا – اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے گہرے ہو چلے تھے – وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ایک بیمار عورت لگتی تھی -ہاں روپے پیسے کی ریل پیل ضرور تھی – اس نے گاڑی چلانا بھی سیکھ لیا تھا اور وہ خود اپنی گاڑی چلاتی تھی لیکن چہرہ بہت سی ان کہی کہانیاں بھی کہہ جاتا –
روبی جب عاطف سے ملی تو بے اختیار رودی – عاطف کو بھی اس کے حالات جان کر دکھ ہوا لیکن اب پانی سر سے گزر چکا تھا – میںنے محسوس کیا کہ عاطف میرے ساتھ کوئی بات کرنا چاہتا ہے لیکن کہہ نہیں سکتا – آخر وہ دن بھی آیا جب عاطف اورمونیکا کو واپس فرانس جانا تھا -ہم انہیں ائرپورٹ پر چھوڑنے گئے – عاطف نے موقع پا کر مجھے کہا ”بھابھی ! آپ نے درست کہا تھا کہ درخت کی اس شاخ کی طرف دیکھو جہاں تک تمہاری رسائی ہو – میں نے واقعی اسی شاخ کی طرف دیکھا اور مونیکا میرا مقدر بنی – یقینامونیکا روبی سے خوبصورت بھی ہے اور اچھی بھی -بھابھی ! آپ کو میں نے بڑی بہن بولا ہے لیکن معافی چاہتا ہوں کہ میں اپنے معاملے میں تو آپ کو معاف کرسکتا ہوں لیکن روبی کے معاملے میں آپ کو زندگی بھر معاف نہیں کروں گا – میری خواہش تھی کہ روبی اپنے گھر میں خوش رہے لیکن اس کی حالت دیکھ کر مجھے دکھ ہوا ہے- میں آج بھی روبی کے ساتھ دل وجان سے محبت کرتا ہوں – کاش میں مونیکا کو چھوڑ کر اب بھی روبی کواپنا سکتا لیکن یہ بھی تو بتائیں کہ میں مونیکا کو چھوڑ کر اسے کس جرم کی سزا دوں ؟“
”عاطف میرے بھائی – میرا ویر – – مجھے معاف کردو – خدا کےلئے مجھے معاف کردو – میںپہلے ہی بہت دکھی ہوں’ جاتے ہوئے مجھے مزید دکھی نہ کرو – میں خود کو پہلے ہی اس بات پر مورد الزام ٹھہرا رہی ہوں – میں روبی کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان ہوں “ – میں یہ کہتے ہوئے رو پڑی –
عاطف کچھ دیر خاموشی سے کھڑا رہا- اس کی آنکھوں میں بھی آنسوتھے – پھر وہ مونیکا کو لے کر چلا گیا- سب ہاتھ ہلا کر اسے رخصت کر رہے تھے – اور – – روبی – – عاطف کو جاتا ہوا دیکھ کرچھما چھم روتی رہی –

SHARE

LEAVE A REPLY