حسن سلوک ، ارادہ عمل نیت سب آپ کی زمیداری ہے ۔ڈاکٹر نگہت نسیم

1
1030

میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ ہمیشہ امن کی بات کروں ۔ تنقید اور تقیض کے فرق کو سمجھتے ہوئے حتی المکان ان بیماریوں سے بچوں ۔ پر میری لسٹ میں کچھ احباب ایسے ہیں جنہیں صرف مرچ مسالہ لگانا ہوتا ہے ۔ ان کی اپنی کوئی آیئڈولوجی نہیں ہوتی ۔ نا انہوں نے غور وحوض کرنا ہوتا ہے اور نا ہی سمجھنا ہوتا ہے ۔ ان کے زہنوں میں صرف یہ خناس سمایا ہوا ہے کہ وہ عقل کل ہیں باقی سب ایکس وائی زیڈ ہیں ۔

جب بھی کبھی سانحہ چاہے وطن عزیز میں ہو یا وطن سے باہر دھڑا دھڑ ایسی پوسٹیں لگانی ہوتی ہیں جن سے صرف یہ تاثر ملتا ہے کہ اللہ صرف مسلمانوں کا ہے ۔ اور جینے کا حق صرف مسلمانوں کو ہے ۔ باقی سارے کافر ہیں ۔۔ اب کافر بھی ایسا سوچیں یا سوچتے ہونگے یا سوچ رہے ہیں توسوچیئے یہ نفرتیں کہاں جا کر ختم ہونگی ۔۔

مسلمانوں کی اکثریت کے زہنوں میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ امن ہماری اپنی زات سے ، گھر سے ، محلے ، شہر سے شروع ہوتا ہے ۔

امن پھیلانا اور حسن سلوک رکھنا ہمارا انفرادی عمل ہے ۔

میں نے ایک فیصلہ کیا تھا کہ جو جو میرے امن اور حسن سلوک سے باہر نفرتیں ، بغض اور طنز و تضحیک کرے گا میں اسے ان فرینڈ کر دونگی اور مجھے اس کے لئے اس کی اجازت نہیں لینی۔ آپ سب کو بھی میری بابت اسی اختیار کو استعمال کرنے کا پورا حق ہے ۔

میں اپنے مرنے کے بعد کوئی ایسا لفظ چھوڑ کے جانا نہیں چاہتی جس سے انسانوں کو باہم نفرت اور تضحیک کرنے کا اشارہ بھی ملے ۔

سو دوستو آپ کا حسن سلوک ، ارادہ عمل نیت سب آپ کی زمیداری ہے اور میرا عمل میری نیت میرے ساتھ ہے ۔

آپ اختلاف رائے جب تک تہزیب اور اخلاق کے دائرے میں کرتے رہیں گے ساتھ ہیں ورنہ آپ جا سکتے ہیں ۔ میرے ساتھ یا میرے کسی دوست کے ساتھ میری پوسٹ پر کسی بدتمیزی ، نقص امن اور تضحیک کی اجازت نہیں ہے ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY