کوانٹم فزکس اور انسانی رویے,غلام حسین غازی کے مضمون کا جائزہ

1
1260

سب سے پہلی بات جو کہ انتہائی اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ “ Theory of Quantum Entanglement “
نے “ Sub-atomic “
کے ہونے کی طرف اشارہ دیا ہے ۔۔ یعنی پروسس میں ہے مکمل معلومات ابھی نہیں ہوئی ہیں ۔ سو سر حسین نے اپنے مضمون کی بنیاد اسی مفروضے پر رکھی ہے کہ آنے والے وقت میں اگر ایسا ہو کہ مادی کائینات کے بننے میں ایٹم نہیں بلکہ ایٹم کے اندر مزید ایٹمی زرات جنہیں Sub-atomic
کہتے ہیں وہ ہوئے تو کیا کیا ممکن ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی تک 5000 سے زائد زرات دریافت ہو چکے ہیں جنہیں نینو پارٹیکلز کا نام دیا گیا ہے۔

جدید سائینس کے مطابق اگر دو نینو پارٹیکلز آپس میں ہنسی خوشی گلے مل جائے تو ان کی زندگی سہل ہو جاتی ہے اور اگر یہی ایک جیسے چارگ والے نینو پورٹیکلز جدا ہو جایئں تو وہ کائینات میں جہاں کہیں بھی رہیں ایک دوسرے کے پو بہو بن کر رہیں گے یعنی جو ایک پارٹیکل میں تبدیلی آئے وہی دوسرے پارٹیکل میں بھی ہو گی اور وہ اسی وقت یعنی ایک نینو سیکنڈ کی بھی دوری نہیں ہو گی ۔ سر نیوٹن نے ان نینو پارٹیکلز کو “سپوکی ” کہا تھا یعنی ” بھوت ” کہا تھا اور ان دو ایک جیسے نینو پارٹکیلز کے درمیان کیسے رابطہ ہوتا ہے اسے جان نا پائے تھے ۔ اس وقت سے لے کر آج تک سائیندان پاگل ہو رہے ہیں کہ آخر سپوکی پارٹیکلز آپس میں رابطہ کیسے کرتے ہیں ۔

سر حسین کا یہ مضمون سپوکی پارٹیکلز کے ہو بہو ہونے کی کئی جہتوں پر مبنی ہے جو ان کی سائینسی تخیل اور تصور کی بہت خوبصورت تمثیل ہے جسے انہوں نے بڑے سادہ اور دلچسپ انداز میں قلمبند کیاہے ۔

سر قریشی منظور نے کہا کائینات مادہ ہے اور کبھی نہیں بدل سکتی ۔۔ یہ ہے اور رہے گی ۔۔ جبکہ جدید سائینس کہہ رہی ہے کہ یہ اتیم سے نہیں بلکہ سب اٹیم کے نینو پارٹکیلز سے بنی ہے اور اور ان کے درمیان بغیر نینو سیکنڈ کے تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے ۔ اگر یہ بات مان بھی لی جائے تو سوال یہ ہے کہ اگر ایک نینو پارٹیکلز پاکستان رہتا ہو جس کی تہذیب اور تمدن زبان سب الگ ہے اور دوسرا سائیبریا میں جس کا تہذیب تمدن اور زبان بلکل الگ ہے ۔۔ اس سورت میں کونسا پارٹیکل کس کا اثر لے گا ۔۔۔ اور اگر تبدیلی ممکن ہے تو کتنے پارٹکیلز اس واردات میں شامل ہوگے ؟ اور یہی پر شعور کی جو تعریف سر حسین نے لکھی ہے اس سے سر قریشی بھی اتفاق کرتے ہیں تو پھر نینو پارٹیکل کی الگ الگ خارجی دنیا سے شعور کی تبدیلی کو کس طرح ممکن بنا پائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
یا یہاں بھی کوئی Dominant OR Passive
پارٹیکل ہوگا جو بتائے گا کہ شعور میں ہونے والی تبدیلی کا اثر کس کے شعور پر زیادہ ہوگا ۔۔۔۔؟ یا پھر یہ تبدیلی سطحی ہوگی ۔۔۔۔۔۔

یہاں پر سرحسین کا دوسرا خواب انہیں بے چین کرتا ہے ۔۔۔ اگر لاکھوں کروڑوں لوگ ایک جگہ پر جمع ہو جایئں اور ان کے نینو پارٹیکلز کو مثبت پیغام کوڈ کر دیا جائے یا ان کی مثبت تربیت کر دی جائے تو مثبت اجتماعی شعور جاگے گا اور پھر ان لاکھوں کڑوڑوں لوگوں میں ہونے والی شعور میں تبدیلی ایک نینو سیکنڈ ضائع کئے بغیر دوسرے لاکھوں کڑوڑوں انسانوں پر بھی ہو گی جو ان کے Identical پارٹیکلز سے بنے ہو نگے ۔ یہاں پر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک جیسے پارٹیکل والے وہ دوسرے لاکھوں کروڑوں لوگ جو کہیں اور ہونگے ان کے پہلے والے شعور کا کیا ہوگا ۔۔۔ اور یہ بھی کیا وہ شعور اتنی رسائی نہیں رکھتا تھا کہ وہ بھی پہلےوالے لاکھو کروڑوں انسان کے شعور کو متاثر کرتا ۔۔

اگر ایسا بھی فرض کر لیا جائے کہ سات ارب انفرادی شعور ایک جگہ جمع ہو جائے تو سب سے برا سوال یہ ہوتا ہے ساتھ ارب انفرادی شعور کی اجتماعی شعور کی اکائی کیا ہو گی ۔۔۔۔۔ اور اس اجتماعی شعور کا بنیادی کلیہ کیا ہوگا ۔۔۔ اور اس اجتماعی شعور سے کائینات کو کیا فائدہ ہوگا ؟ اور اگر کائینات ایک وحدت کو پا بھی لیتی ہے تو اس سے یونیورس کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے ؟ ان سوالوں کے جواب مضمون میں لکھے گئے ہیں یعنی بہتر زندگی اور بہتر اسٹیٹس کی امید ہے ۔۔
لیکن اس کو وسیع پیمانے پر ایک اور کائینات کے ہونے کے تصور کو تقویت بھی ملتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جس میں نینو پارٹکیلز بغیر کسی دقت آ جا اسکتے ہیں اور تبدیلی کا موجب بن سکتے ہیں ۔ جیسا کہ سائینئنسداں ” ڈاکٹڑ میچو کاکو ” نے اپنی حالیہ دریافت Paralel world concept
دیا ہے ۔۔۔۔۔

میری کیا مجال کہ میں آپ دونوں کے فزکس کے علم کے آگے کچھ لکھ سکوں ۔ تاہم مجھے سرمنظور قریشی سے اتفاق ہے کہ ” شعور خارج کو تخلیق نہیں کرتا بلکہ شعور خارج کا عکس ہے۔” اور اسی بنیاد پر دنیا کے مختلف حصوں میں سماجی رویئے اور رواج ترتیب پاتے ہیں ۔

حالیہ سائیکولوجی نے ایک بہت نایاب تجربہ کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ کتنے بھی بگڑے ہو انسان کو اچھے ماحول اور مثبت انسانوں کے ساتھ رکھا جائے تو اس میں شعوری تبدیلیاں اور نئی عادات کا بننا تین ماہ میں ممکن ہیں ۔ اور اسی نظریئے پر Long Term Rehabilitation
کی بنیاد رکھی گئی ہے ، جو سر منظور قریشی کے پوایئنٹ آف ویو کو تقویت دیتی ہے ۔

یونیورس میں یہ دنیا ایک نقطے کے برابرہے ۔ ہر اس انسان کے لئے جو مر جاتا ہے اس کے شعور کے ساتھ ہی اسکی فنایت ہے ۔ لیکن وہ دوسروں کے لئے ایک حقیقت ہے اور رہے گی اور ان دوسروں میں مخلوق اور دوسرے سیارے شامل ہیں ۔ سر میرا ماننا یہ ہے مادہ کبھی فنا نہیں ہوتا ۔۔ سو اگر یوینورس میں دنیا نامی سیارہ دوسرے سیاروں سے ٹکرا کر ختم ہو بھی جائے تو مادہ کسی اور ہیت میں آاجائے گا ۔۔ جس طرح سے ہم پیدا ہوئے کوئی اور آجائے گا ۔۔ جیسے ہم سے پہلے آئے ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیسا کہ سورت بقرہ کی آیت نمبر تیس میں ہے
“ وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَآئِكَـةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً ۖ قَالُوْا اَتَجْعَلُ فِيْـهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْـهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَآءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّـحُ بِحَـمْدِكَ وَنُـقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ اِنِّىْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (30)
اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو فساد پھیلائے اور خون بہائے حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، فرمایا میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔“

میرا سوال یہ ہے کہ ۔۔ جب فرشتے وہی کہتے ہیں جو خدا پاک نے ان میں فیڈ کر دیا یا حکم دیدیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ روبوٹ ہیں یا کمپیوٹر ہیں جو ڈیٹا ہے بس اتناہی ہے ۔ ان میں سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے اور مشورہ دینے کی کوئی صلاحیت موجود نہیں اور یہی بنیادی فرق انسان اور فرشتوں میں رکھا گیا ہے ۔۔۔ تو پھر یہ فرشتے اللہ پاک سے کن لوگوں کا زکر کر رہے ہیں جنہوں نے فساد پھیلایا اور خون بہایا ۔۔ اور تنبیہ بھی کر رہے ہیں “ تو زمین میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سر حسین کیا یہ کسی پہلی کائینات کی بات تو نہیں ؟ یعنی ہم سے پہلے ہماری یہ دنیا کسی اور ہم جیسوں کی دنیارہی ہو ۔۔ تو مادہ فنا نہیں ہوتا کہ اصول پر ہم جیسے آتے جاتے رہتے ہو ۔۔۔ ؟

گفتگو ایک نئے موڑ پر آ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے طبعیات کی دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں لگتا ۔۔ ناممکن صرف اپنا اس وقت تک نا ہونا لگتا ہے ۔۔ جولیس ورن نے ایک ناول 1863 میں لکھا تھا ” Paris In 20th Century” جو ان کے پڑپوتے نے 1994 میں شائع کروایا ۔ اور اس میں 1960 کے جس پیرس کا نقشہ اپنے تصور کے بل پر جولیس نے بتایا تھا وہ اس وقت سوچنا بھی ناممکن تھا کیونکہ انہوں نے ” فیکس مشین ، عالمگیر مواصلاتی نظام ، شیشے کی بلڈنگز ، پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں ، تیز رفتار ریل سسٹم ” کا زکر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جولیس ورن سے ڈاکٹڑ میچوکاکو تک ناممکنات کا سفر جاری ہے ۔۔۔۔۔۔ اور ہم سب کے تصورات اور تخلیات کا سفر بھی جاری رہنا چاہیئے ۔۔۔ ستاروں سے آگے ایک جہاں نہیں بہت سے جہاں ہیں ۔ میں ذاتی طور جناب غلام حسین غازی کو ان کے وقتی ناممکن تصوراتی دنیا کو سوچنے اور پھر ہم سب سے ملوانے پر شکریہ ادا کرتی ہوں ۔ اور اس تخیل کو منطقی انداز میں پرکھنے کے لئے سر قریشی منظور صاحب کی دلی ممنون ہوں ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY