اگر دونوں طرف سورج ترازو میں نہیں ہوتا
ترا سایہ مرے سائے کے پہلو میں نہیں ہوتا
وفا داری کا دعویٰ گریہ و زاری سے کیا کرنا
نمک جو خون میں ہوتا ہے آنسو میں نہیں ہوتا
ہر اک امید کو لازم ہے اک ذرخیز مایوسی
اجالا رات میں ہوتا ہے جگنو میں نہیں ہوتا
تو کیا تم ہجر کے لغوی معانی میں مقید ہو
تو کیا تم کہہ رہی ہو پھول خوشبو میں نہیں ہوتا
مجھے اچھا کہاں لگتا ہے بیساکھی میں ڈھل جانا
مگر میرا شمار اب دست و بازو میں نہیں ہوتا
سہارا ہو نہ ہو میں ناؤ لے جاؤں گا ساحل تک
ہنر ملاح میں ہوتا ہے چپو میں نہیں ہوتا
مسافت منتظر ہے باپ کی پگڑی کے پیچوں میں
یہ وہ ادراک ہے جو ماں کے پلو میں نہیں ہوتا
مجھے درویش کی اس رمز نے زندہ رکھا شاہد
کہ زہر احساس میں ہوتا ہے, بچھو میں نہیں ہوتا
(شاہد ذکی )
محبت ایسی عبادت کسک پہ ختم ہوئی
شروع حق سے ہوئی اور شک پہ ختم ہوئی
میں اپنی روح کی تمثیل کی تلاش میں تھا
مری تلاش تمھاری مہک پہ ختم ہوئی
مرا ہی عجز مرا آخری شکاری تھا
مری تنی ہوئی گردن لچک پہ ختم ہوئی
وہ رات جس میں کئی صبحیں جڑ چکا تھا میں
تمھاری نیند کی پہلی جھپک پہ ختم ہوئی
اک ابتلا تھی جسے لمس کی کشش کہیئے
اک اشتہا تھی جو آب و نمک پہ ختم ہوئی
وہ خامشی جو کسی اور خامشی میں ڈھلی
وہ اک سڑک تھی جو اگلی سڑک پہ ختم ہوئی
کہا کہ آتشِ تخلیق مجھ پہ ظاہر ہو
گھٹا دھوئیں سے اٹھی اور دھنک پہ ختم ہوئی
سیاہی چیخی ذرا دوسری طرف دیکھو
جب آئینے کی کہانی چمک پہ ختم ہوئی
حیات و موت کی تفصیل کیا کہوں شاہد
زمیں سے بات چلی تھی, فلک پہ ختم ہوئی
(شاہد ذکی )۔












