اب اسکی زندگی میں اسکی حیثیت باکل یہی تھی کہ جس طرح کسی مر جانے والے کی حیثیت زندہ انسانوں کے لیے ہوا کرتی ہے۔ ۔ ۔کہ کبھی غلطی سے جو احساس کی چوکھٹ نے یاد کی دستک دی تو فاتحہ پڑھ دی جائے اور سوچ لیا جائے کہ ہاں بھلا ہی انسان تھا رب غریق رحمت کرے ۔ ۔ ۔بس اتنے ہی لمحوں کی فرصت میسر اسکی اس وجود کو جس میں کبھی اسکی زندگی کی چہل پہل ہوا کرتی تھء۔ ۔ ۔اصل تلخی اور درد تب ہوتا ہے کہ جب زندہ انسانوں کے بیچ سے زندہ انسان ہمیشہ کے واسطے رخصت ہو جاتے ہیں بالکل اسی طرح کہ جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں ۔ ۔ ۔کہ جیسے وہ ایک خواب تھا کہ انکھ کھلی تو وجود کو طلسم زدہ کیے ہوئے ہو اور انسان خود کو جھٹک جھٹک کہ یقین دلاتا جائے کہ نہیں وہ سچ نہیں خواب تھا بس مجھے بیداری میں شاید وقت زیادہ لگ گیا اور اسکے بعد اس سچائی کو تسلیم کرپانا اور تسلیم کرنے کے بعد خود کو اگے بڑھانے کی منزل بہت کٹھن ہوتی ہے کچھ ازیتییں بڑا درد دیتی ہیں، کچھ کرب سانس روک دیتے ہیں پر پتہ ہے سب سے بڑے بڑے درد جو بھی ہوں ان میں ایک بڑا درد کسی کی زندگی میں، اپنے وجود کی موت دیکھنا ہے ۔ ۔ ۔کسی کی کاینات میں اپنی بے دخلی اور دھتکار کا احساس بڑا ہی جان لیوا ہوا کرتا ہے کہ انسان کو نہ مرنا نصیب ہو پاتا ہے نہ جینے کی سکت ہی باقی رہ پاتی ہے ۔ ۔ ۔النے زرد پڑتے، سسکتے، بلکتے، شکستہ حال وجود کوانسان مسکراہٹوں اور زندگی کے رنگ اوڑھا کر جب دنیا میں بھیجتا ہے تو بڑی منافقت سی محسوس ہوتی ہے کہ وجود انسانی کے حال کا باطن کچھ اور کہ رہا ہوتا ہے، اس پہ آئ قیامتیں اسے کچھ اور بتا رہی ہوتی ہیں اور وہ کچھ اور دکھائی دے رہا ہوتا ہے حتی کہ اپنے ہی وجود میں محسوس ہوتی ہچکیاں اور دم توڑتی سانسیں اپنا ہی حال اہنے تک پہنچا پانے سے معزور دکھائی دینے لگتی ہیں ایک بن اب کی مچھلی سی حالت لیے جب انسان اپنی بے دخلی کا، اپنی موت کا تمغہ لیے واپس اپنی وجود میں اتا ہے تو تمام سفر کا سحر اسے اپنے طلسم میں جکڑ لیتا ہے اور وہ کچھ حیران تو کچھ بے سدھ پڑا جب خود سے مخاطب ہوتا ہے تو نہ اپنے ہی لفظ سنائ دیتے ہیں اور نہ ہی اپنی گونج اہنے تک پہنچ پاتی ہے ۔ ۔ ۔کسی کے قتل کر دینے سے وجود مردہ نہیں ہوتے بلکہ زندگی میں زندگی سے بے دخل کر دینے سے وجود مرجاتے ہیں ۔ ۔ ۔اور یہ موت دکھائی نہیں دیتی اور نہ وہ پیوست کانٹے نکل پاتے ہیں پر اہم یہ ہے کہ ایسے میں انسان زندگی کا سرا پکڑ لے جہاں سے تھوڑی روشنی مستعار بھی مل جائے تو لے کے ہار نہ مانے اہم یہ نہیں کہ کسی نے اپنے وجود سے انسان کو بے دخل کردیا، دھتکار کے طمانچے رسید کر دیے یا بیگانگی کی سلیب پہ چڑھا کہ موت کی سزا سنا دی اہم یہ ہے کہ تم اس۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ احساس محبت کو نہیں مرنے دو اس کو کسی کے احساس کا محتاج مت بناو کہ جسطرح محبت کرنے والے سدا محبت کرتے ہیں کہ کوئی اجائے، چلا جائے، ساتھ چلے کہ چھوڑ جائے، احساس کی زندگی دے یا کہ احساس ہی زخم زخم کر جائے وہ ہمیشہ خوشدلی سے، مسکراتے ہوئے، زندوں کی طرح زندہ رہتے ہیں کہ انکو اس نعمت ربی کو سنبھالکر ۔ ۔۔بہت اس ہتمام سے کسی خزانے کی طرح سے رکھنا یوتا یے ۔۔۔کیوں کہ احساس زندگی کی علامت ہے اور محبت تمام احساسات کی سردار ہے اور اسکی سرداری وجود انسانی پر ان بان شان کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ ہی قائم رہنی چاہییے کہ محبوب کی خاصیت ییی ہے کہ اس کے وجود نے تمارے وجود پہ محبت کی کونپلیں کھلا دیں اب انکی ہرورش اور دیکھ بھال تمہاری زمہ داری ہے کہ محبت کی ہرورش کے لیے نرمی، احساس اور درد کی سرزمین درکار یوتی یے کہ جس پہ محبت کے بیج بو دیے جاتے ہیں اور انکی حفاظت کی جاتی یے اہم بات انسانی وجود میں محبت کے بوئے بیج کی تناور درخت میں شکل اختیار کرنا ہے یا کہ امر بیل جو لپٹ جاتی کے اور جس درخت سے لپٹتی ہے اس کو کبھی نہیں چھوڑتی ایسے ہی انسان کے لیے محبت استاد ہے کہ انسان میں نہیں رہتا بلکہ محبوب بن جاتا ہے اس لیے بڑا اہم ہے کہ تمہارا محبوب بہترین اوصاف کا مالک ہو، اسکی دور اندیشی، جہاں بینی، اسکے اوصاف، اسکا علم، اسکے رحجانات، اسکی پسند نا پسند، اسکی بلندی یا پستی تم اختیار کرنے والے یویہ بات تمہیں نہیں پتہ اج کے تمہیں یہ لگتا ہے کہ محبت مر چکی ہے، اور محبوب جا چکا ہے اسکا جانا ہی دراصل اسکی موجودگی ہے ۔، ۔اور اسکی موجودگی کا مطلب سمجھتے یو تم ۔ ۔ ۔کہ اب تم تم نہیں رہنے والے بلکہ وہ بننے والے یو کہ ھو وہ ہے ۔ ۔ ۔اوراگر وہ نہ بن پاو تو سمجھ لو کہ تمہاری محبت ناقص ہے ابھی ۔ ۔ ۔محبت جسم و جسمانیات کی قیدی نہیں یہ قلب و روح میں ہیوست جزبہ ہے یہ رب کی عطا کی ہوئی نعمت ہے ۔ ۔ ۔اس رب کالطف ہے تم ہر ورنہ کیوں ہر حسین ترین شخصیت سے انسان کو محبت نہیں ہو جاتی کہ حسن کے اگے تو اور بھی بلند حسن ہیں، مگر جس پہ وجود رک جاتا ہے وہ کم حسین ہوکہ زیادہ یہ اہم نہیں بلکہ اس پہ دل نے مہر لگا دی اب دیکھنا یہ ہے کہ کیو3۔ ۔ ۔آخر وہی کیوں۔ ۔ ۔؟
اور دیکھنا یہ بھی ہے کہ تم اس محبت سے کیا چاہتے تھے، چاہتے ہو؟؟
کیونکہ اکثر اسکا جواب بہت سطحی سا دیتے ہیں کہ ساتھ رہنا، ساتھ ہونا، چاہتے ہیں پر ساتھ رہنے کے لیے ظاہر کی قید نہیں یوتی بلکہ یہ ساتھ تو اس پل بن چکا ہوتا ہے کہ جس پل اپ کے وجود میں محبت کی دستک ہوتی ہے اسکی وارفتگی اسکی قدردانی کا انقلاب برپا ہوتا ہے کہ اسکے تمام تر عیبوں کے باوجود وہ اہم اور حسین ترین معلوم یوتا ہے اور روح و قلب سے نور اور روشنی کی کرنیں پھوٹنے لگتی ہیں یہ کرنیں راہ دکھاتی ہیں کہ تم کہاں جانے والے یو ایا پستیوں کے سوداگر ہو یا کہ بلندیوں کی راہوں پہ اپنا اپ فدا کرنے والے ہو ۔ ۔ ۔محبت سے پہلے سکون کی تلاش تھی کے محبت ملیگی تو سکون ملیگا اور اسکی رخصتی کے بعد جنون کی تلاش وجود پہ بسیرا کرتی ہے کہ جانے والے کو روک نہیں سکتے پر اپنے وجود میں اس محبت کو ٹوک نہیں سکتے کہ یہ بہت بے ادبی کی بات ہے کہ محبت کو ٹوک دیا جائے ۔ ۔ ۔ایک فقیر انسان کی جھولی میں محبت کے چراغ جلا کرتے ہیں اور جہاں محبت روشنی بن جائے وہاں مایوسیوں، محرومیوں، نامیدیوں،گلوں شکووں، الزامات اور منفی سوچوں اور باتوں کو مکمل ہی زوال ہوا کرتے ہیں
وہاں محبت کی سرداری میں روح انسانی اپنی تربیت کرتی ہے اور اس تربییت سے ہی انسان کواوج ملتا ہے سو محبت کے احساس کو پالینا ہی اصل روح محبت ہے اسکو جسمانی اعتبار سے چپکا کے رکھنے، یا ساتھ جوڑ کے رکھنے کی حاجت نہیں کہ محبت عطا کرتی ہے نہ کہ گدا گروں کی طرح ساتھ کی بھیک مانگتی ہے کہ جن کو ساتھ رکھنا یو محبت ساتھ رکھتی یے وہ اپنے سب اوصاف عاشق کو عطا کرتی ہے کہ پھر اسکے وجود اور محبوب میں فرق نہیں رہتا وہ دونوں کہیں بھی رہ کر ایک وجود رہتے ہیں، ایک ہوتے ہیں، انکی پیوستگی جسموں سے نہیں اعلی اوصاف اور ترجیحات سے پرکھی جاتی ہے ۔ ۔ ۔محبت کمال کا سفر یے اس میں گریہ و زاری صرف ابیاری کے واسطے ہے ۔ ۔ ۔کہ جائ ہی محبت ہے کبھی دور رہ کر تو کبھی پاس رہ کر جو روح انسانی سے جدا نہیں ہو اسے ہی محبت کہتے ہیں جو انسان کو سطح سے بلند کر دے، جو اسکی عظمت و وقار کو حسین ترین بنادے جو گوہر نایاب بن جائے جو گوہر نایاب کردے انہیں سب ستاروں کو انہیں سب میناروں کو محبت کہتے ہیں ۔ ۔ ۔
اور جب محبت خاموش ہو جائے تو تم بھی خاموش ہو جاو کے بے ادبی محبت کی توہین ہے اگر تم احساس، فکر، تخیل یا سوچ میں بھی بے ادب ہو اپنے محبوب کے متعلق اور اسے کسی شے سے زیادہ نہیں سمجھتے تو یہ خواہش پرستی ہے یا خود پرستی اور محبت خود پرست نہیں ہوتی عطا، عزت، عنایت، دعا کی چھاوں ہوتی ہے جہاں ادب اور احترام ہوتا ہے احساس مہربان ہوتا ہے وہاں بے ادبی نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔احترام ہوتا ہے اہناییت اور خوشی کا سامان ہوتا ہے کہ تمہارے وجود کی کاینات پہ کوئی رکنے کو ایا ہے ۔ ۔ ۔یہ احساساہنے اپ ہی میں ایک مان بڑا ہے۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













