وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے، اس حوالے سے عوام کو اکسانے والوں کے خلاف ریاست ایکشن لے گی۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ریاست لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرے گی،ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے، ٹریفک رکنے نہیں دیں گے۔
انہوں نے مظاہرین کو متنبہ کیا کہ ریاست کو مجبور نہ کریں کہ وہ ایکشن لینے پر مجبور ہوجائے،سڑکوں پر آنے سے لوگوں اور ملک کا نقصان ہوگا۔
عمران خان نے یہ بھی کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جو زبان استعمال کی گئی،اس کے بعد کون سی حکومت چل سکتی ہے؟ اس معاملے میں حکومت کا کیا قصور ہے؟
ان کا کہناتھاکہ فیصلے کے بعد بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کےججز واجب القتل ہیں، بعض لوگ فوج اور جرنیلوں کوکہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف کیخلاف بغاوت کریں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ مدینے کے بعد پاکستان اسلام کے نام پر بنا،پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا تو مدینہ کی ریاست کے اصول پرچلے کر ہی بنے گا،اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں کوئی قانون اسلام کے منافی نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نہیں دیکھ سکتے،ہم نے اس حوالے سے عملی طور پر وہ کام کیا جو آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا۔
عمران خان نے عوام سے اپیل کی کہ معاملے پر سیاست چمکانے کےلئے اکسانے والوں کی باتوں میں نہ آئیں،یہ اپنی سیاست اور ووٹ بینک کے چکر میں ملک کے خلاف کام کر رہے ہیں،مظاہرین سے کہتا ہوں کہ ریاست نہ ٹکرائیں۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ یہ لوگ کوئی اسلام کی خدمت نہیں کررہے،ملک دشمن عناصر اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کے خلاف ایک چھوٹے سے طبقے نے احتجاج کیا اور وہ زبان استعمال کی،جس پرآپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔












