امام جعفر صادق کے والد گرامی امام محمد باقر تھے جو امام حسین کے پوتے اور حضرت علی المرتضیٰ کے پڑپوتے تھے جبکہ والدہ ماجدہ کا نام بی بی ام فروہ تھا وہ محمد بن ابی بکر کی پوتی تھیں اورخلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کی پڑ پوتی اور پڑ نواسی تھیں ںسیدنا امام جعفر الصادق خانوادہ اہل بیت رسول کے روشن ستارے تھے عالم اسلام کی ایک ہمہ جہت اور ہمہ گیر شخصیت تھے
شگفتہ گلشنِ زہرا کا ہر گل تر ہے
کسی میں رنگ علی اور کسی میں بوئے رسول
آپ بیک وقت حسینیت اور صدیقیت کا قابل فخر امتزاج تھےامام جعفر صادق خود فرماتے تھے
مجھے ابو بکر سے دوہری ولادت ہونے کا شرف حاصل ہے
آپ کے دادا حضرت زین العابدین نے جو امام حسین کے بیٹے اور حضرت علی المرتضیٰ کے پوتے تھے آپ سانحہ کربلا میں موجود تھے مگر بیماری کے باعث لڑائی میں شامل نہ ہوسکے تھے اور سانحہ کربلا میں بچ جانے والے واحد مرد تھے
مدینہ منورہ میں جب آپ کی ولادت باسعادت ہوئی تو انہوں نے اپنے پوتے کی پیشانی چومی اور کہا
کل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ، میرے نا نا خواب میں نظر آنے تھے انہوں نے فرمایا تھا
میں اپنے اس پوتے کا نام جعفر رکھوں گا
ایسا دریا ا جو سب کو سیراب کرے
آپ کو بچپن سے ہی علم سے محبت تھی اپنے والد اور دادا کے ساتھ بیٹھ کر مختلف علوم سیکھا کرتے جب تمام شاگرد مسجد نبوی سے علم حاصل کرکے واپس چلے جاتے تو آپ ساری رات عبادت وریاضت میں گذار دیتے مدینے میں آپ کا مدرسہ پورے حجاز میں مشہور ہوگیا اور دور دور سے لوگ یہاں علم کی پیاس بجھانے کے لیے آنے لگے آپ کا مدرسہ آپنے دور کی یونیورسٹی کا درجہ رکھتا تھا اس عظیم الشان اسلامی ریسرچ سینٹر اور دانش گاہ سے جو لوگ فیض یاب ہونے انہوں نے علم کی روشنی دنیا کے کونے کونے میں پھیلائی یوں تو آپ کے بے شمار نامور شاگرد تھے لیکن خاص خاص خاص شاگردوں میں امام امالک ، ثسیدنا سفیان ٹوری ، امام اعظم امام ابو حنیفہ کے علاوہ جابر بن حیان جیسے سائنس دان بھی آپ کے شاگردوں میں شامل تھے
سپر مین ان اسلام
مغرب کے مفکر اور دانشور بھی آپ کی علمی قابلیت کو تسلیم کرتے ہیں فرانس میں ایک کانفرنس ہوئی جہاں پچیس مغربی محقیقین کی ایک جماعت نے امام جعفر کی شخصیت پر اپنے مقالے پیش کیے ۔ان مقالوں کو ایک کتاب کی شکل میں فرانس سے ہی شائع کیا گیا اس کتاب کا اصلی مسودہ بھی فرانسیسی زبان میں ہے جس کا بعد میں فارسی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اردو ترجمہ میں اس کتاب کا نام ” سپر مین ان اسلام ” رکھا گیا ان غیر ملکی سکالرز میں صرف دو مسلمان تھے باقی 23 دانشور غیر مسلم تھے یہ مقالہ سائنسی تناظر میں لکھا گیا ہے
امام جعفر صادق نے ہر شعبہ علم پر قرآن وحدیث کی رو سے ایسی روشنی ڈالی کہ اہل علم کو حیران کردیا آپ کے ظاہری و باطنی علوم کے دوست دشمن سب ہی قائل تھے
اما م ابو حنیفہ علیہ الرحمہ اہل سنت کے حنفی فقہ کے بانی تھے آپ کو امام اعظم بھی کہا جاتا ہے آپ کو امام باقر اور امام جعفر صادق کی شاگردی کا فخر بھی حاصل ہے
امام جعفر صادق کے بارے میں فرماتے ہیں
یہ دو برس نہ ہوتے جو میں نے امام جعفر صادق کی خدمت میں گذارے تو نعمان ہلاک ہوجاتا( علمی لحاظ )سے
امام ابو حنیفہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ
میں نے امام جعفر صادق سے بڑھ کر علم دین کا عالم اور کسی کو نہ پایا
فرقہ اہلِ سنت کے ایک اور عظیم امام ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو بھی آپ کے شاگرد ہونے کا شرف حاصل تھا وہ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں
میں ایک مدت امام جعفر صادق کی خدمت میں زانوئے ادب تلمذ کیا کرتا تھا
آپ مزاح بھی فرمایا کرتے تھے ہمیشہ آپ کے لبوں پر تبسم رہا کرتا تھا
ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں ان کی خدمت میں پہنچا ہوں اور جس دری پر آپ تشریف فرما ہوتے اسے میرے لیے بچھایا نہ ہو
میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کہ آپ نے کوئی حدیث مبارکہ سنائی ہو اور آپ باوضو نہ ہوں میں جب بھی آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتا تو آپ نماز پڑھ رہے ہوتے قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہوتے اور روزے سے ہوتے میری آنکھوں نے علم فضل اور تقویٰ میں امام جعفر صادق سے بہتر کسی کو نہیں پایا
اسلامی دنیا کا جو بھی فرد امام جعفر صادق کی خدمت میں سلام عقیدت پیش کرے گا وہ حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت ابو بکر صدیق کو بھی سلام عرض کرے گا کہ آپ کے ددھیال کا تعلق حضرت علی المرتضیٰ سے تھا اور ننھیال کا شجرہ حضرت ابوبکر صدیق سے جا ملتا تھا
امام جعفر صادق نے ہر شعبہ علم پر قرآن وحدیث کی رو سے ایسی روشنی ڈالی ہے کہ اہل علم حیران رہ گئے
آج ہم نے تعلیم کو خانوں میں بانٹ دیا ہے دینی مدارس الگ ہیں اور دنیاوی تعلیم کی درس گاہیں علیحدہ ۔۔۔۔۔۔ !!
اہل مغرب مسلمانوں کے اس سینہ بہ سینہ پیغمبرانہ علم سے فیضیاب ہو کر تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے چلے گئے اور ہم فرقہ
پرستی میں پڑ کرعلم کی ااسلامی میراث سے دور ہوتے چلے گئے
آج پوری مسلم دنیا میں کتنے سائنس دان ہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟
جبکہ سائنسی علوم کی بنیاد ہی مسلمانوں نے رکھی تھی یورپ تو اس وقت جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا
امام جعفر صادق نے ایک ہی مدرسے میں مختلف علوم کی تعلیم آج سے تیرہ سو سال پہلے اس وقت دی جب سائنس اور ٹیکنالوجی کا کوئی تصور موجود نہ تھا اور نہ جدید سائنسی آلات موجود تھے اس وقت آپ نے ایسے افکار ونظریات پیش کیے جو صدیوں بعد سائنسی تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات سے حد درجے مطابقت رکھتے ہیں امام جعفر صادق کی دانشگاہ میں مختلف مذہب و ملت اور مختلف زبانیں بولنے والے نہ جانے کتنے افراد آپ کے دریا ئے علم سے فیضیاب ہوئے تاریخ گواہ ہے کہ آپ کے شاگردوں میں چار ہزار سے زائد تو وہ ہیں جنہوں نے مختلف موضوعات پر سینکڑوں کتب تحریر کیں آپ کے شاگرد جابر بن حیان کو علم کیمیا کا بانی کہا جاتا ہے Father of chemistry
مدینے میں مسجد نبوی اور کوفہ میں مسجد کوفہ کو آپ نے جامعات میں تبدیل کردیا آپ نے عمر کا زیادہ تر حصہ مدینہ منورہ میں گذارا اگرچہ عراق بھی جاتے رہے طویل قیام بھی رہا مگر آپ کا اصل وطن تو مدینہ ہی تھا آپ کی قائم کردہ درسگاہوں میں جن علوم کی کی تعلیم دی جاتی تھی ان میں اسلامی فقہ کے علاوہ ریاضی، فلکیات، فزکس،کیمسٹری،جغرافیہ ،علم الابدان وغیرہ شامل تھے یہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی علوم کی بنیاد بھی رکھی گئی ۔ امام جعفر صادق کی خصوصیت یہ تھی کہ آپ اپنے شاگردوں کو ان کے ذوق و شوق اور استعداد کے مطابق تعلیم دیتے تھے علوم و فنون کے مختلف شعبوں میں ان کی ایسی تربیت فر ماتے تھے کہ انہیں اپنے اپنے شعبوں میں اوج کمال حاصل ہوتا تھا
جس نے بھی امام جعفر صادق کے بحر بیکراں سے چند قطرے بھی پی لیے وہ امت کا امام بن گیا ۔












بھت پیارا لکھا ھے.مذید اس طرح کی تحریر لکھیں.شکریہ