فلسفی، سیاسی کارکن کارل مارکس کا 203 واں یوم پیدائش

0
1435

 دنیا کے بااثر ترین فلسفی ، صحافی اور سیاسی کارکن کارل مارکس کی 203 ویں سالگرہ منائی گئی۔

کارل مارکس نے زندگی بھر محنت کشوں کے لیے جدوجہد کی۔

کارل مارکس اپنے نظریات کی وجہ سے کئی ملکوں میں سوشلسٹ انقلاب کی بڑی وجہ بنے۔

وہ 5 مئی 1818 کو پرشیا (موجودہ جرمنی) کے شہر ٹریئر میں ایک وکیل گھر پیدا ہوئے تھے۔

مارکس کے سائنسی اور سیاسی نظریات نما یاں طور پر اُس وقت متشکل ہو ئے جب جرمنی اور دوسرے یورپی ملکوں میں عظیم تاریخی واقعات کی زمین ہموار ہو رہی تھی۔ سرمایہ داری کے ترقی کر جانے سے یورپ کے بہت سے ملکوں میں جاگیرداری رشتوں کی باقیات بہت زیادہ ناقابلِ برداشت ہو گئی تھیں۔ مشینوں کے ظہور اور سرمایہ دار نہ صنعت کی بڑے پیمانے پر ترقی نے کسانوں اور دستکاروں کو برباد کرکے رکھ دیا تھا۔ پرولتاریہ کی شکل و صورت ایک ایسے طبقے سی ہو گئی تھی جو پیدا وار کے تمام وسیلوں سے محروم ہو چکا تھا۔ مغربی یورپ کے ملکوں میں سرمایہ داری کی اٹھان نے طبقاتی جنگ کے خدوخال، بُورژوا جمہوریت اور قومی آزادی کی تحریکوں کو نمایاں کر دیا۔ پرولتاریہ تاریخی قو ت کی صورت میں ا بھرآئی جو ابھی تک ابتدائی حالت میں تھی اور سرمایہ دارانہ ظلم و ستم کے خلاف غیر شعوری احتجاج تھی۔ نیم جاگیردارانہ پسماندہ، معاشی اور سیاسی طور پر غیر متحدہ جرمنی میں ایک بورژوا جمہوری انقلاب پل رہا تھا جہاں مو جود جاگیرداری اور نئی پیدا شدہ سرمایہ داری، دونوں کے ہاتھوں لوگ دوہرے جبر کاشکا ر تھے۔ 1830دہائی کے آخر میں 1840ء کی دہائی کے شروع میں جر منی کے زیادہ تر عوام میں بے چینی کا احساس بڑھ گیا۔ سماجی زندگی کی سرگرمیوں میں مختلف تضادات جنم لے رہے تھے۔ بورژوازی اور دانشوروں میں انواع و اقسام کی صف بندیاں ہو رہی تھیں ۔

ہیگل کے کام سے مارکس کی شناسائی اُس کے طالب علمی کے زمانے ہی میں ہو گئی تھی جب اُس نے ہیگل کے نوجوان پیروکاروں سے جو ہیگل کے فلسفے سے انتہا پسند انہ نتا ئج نکا لنے کی کوشش کرتے تھے میل جو ل شروع کیا۔ مارکس کے مقالے’’دیماکریٹس کے فطرتی فلسفے اور ایپی کیورس کے فطرتی فلسفہ میں فرق‘‘ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر چہ وہ ابھی مثالیت کے نقطہ نظر سے چمٹا ہوا تھا۔ اُس نے ہیگل کی جدلیاتی تضاد کے فلسفے سے مزاحمتی انقلابی نتائج نکالنا شروع کر دیے تھے۔ مثال کے طور پر جب ہیگل نے ا یپی کیورس کو اُس کی مادیت اور دہریت کی بنا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا، مارکس نے اس کے بر عکس اس قد یم یونانی فلسفی کی مذہب اور اوہام پرستی کے خلاف جرات مندانہ جد و جہد کی تعریف کی۔ مارکس نے اپنا مقالہ یونیورسٹی کو پیش کیا اور اپر یل 1841میں فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگر ی حا صل کی ۔

یو نیورسٹی کا کام ختم کرنے کے بعد اُس نے چاہا کہ وہ اپنے آپ کو علمی کام کے لیے وقف کر دے اور بون میں پروفیسر بن جائے لیکن پروشیا گورنمنٹ کی ترقی پسند پروفیسروں کو یو نیو رسٹیو ں سے نکال با ہر کر نے کی رجعت پسندانہ روش سے مارکس کا یہ یقین پختہ ہو گیا کہ پروشیا کی یونیورسٹیوں میں ترقی پسند ا نہ اور تنقیدی خیالات کی کو ئی گنجائش نہیں ۔

ری انشے زیتونگ (Rheinische Zeitung) نے مارکس کو سیا سی قدامت اور ظلمت پسندی کے خلاف نئے خیالات کا پرچار کرنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کر دیا۔ وہ اپریل 1842ء کو اس اخبار سے منسلک ہو گیا اور اسی سال اکتوبر میں اس کا ایڈیٹربن گیا۔ مارکس کی زیر ادارت رنشے زیؤنگ کا انقلابی جمہوری رجحان اور زیادہ واضح ہو گیا۔ اُس نے سما جی سیا سی اور روحانی بالادستی کے ہر جبر کے خلا ف بے باکانہ یُورش کر دی جو پروشیا اور تمام جرمنی میں پھیل گئی۔ مارکس نے ایک سچے جمہوری انقلابی کی طرح اپنے سلسلۂِ مضامین میں عوام کی معاشی اغراض کا تحفظ کیا۔ ’’رائن لینڈٹیگ میں چوب چوری کے قانون پر بحث ‘‘ ’’کچھ موزلے کی خط کتابت کے با رے میں‘‘ اور دیگر مضامین اہم ہیں۔ اخبار کے تجربے سے مارکس کو مزدوروں کے حالات اور جرمنی کی سیاسی زندگی کا بھرپور شعور حاصل ہوا۔ لوگوں کی اہم ضروریات کے بارے میں بھی پرو شیا کی حکومت او راُس کے افسر وں کے سفاک رویّے کے بیسیوں حقائق دیکھتے ہوئے مارکس اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ حکومت، اس کے افسران اور اس کے قوانین، لوگوں کی آرزوؤں کے محافظ اور عکاس نہیں بلکہ حکمرانوں کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں جن میں امرا اور علما بھی شامل ہیں۔ یہ ری انشے زیتونگ میں کام کرنے کا نتیجہ تھا کہ اُس نے معا شیا ت میں دلچسپی لینا شروع کردی۔ اینگلز کے کہنے کے مطا بق بعد میں مارکس اکثر کہا کرتا تھا کہ یہ اُس کا ’چوب چوری کا قانون‘ پڑھنے اور موزلے کسانوں کے حالات کی تحقیق کرنے کا نتیجہ تھا جس نے اُسے خالص سیاسیات سے معاشی تعلقات کی طرف متوجہ کیا اور اس طرح اسے سوشلزم کی راہ دکھائی ۔

مارکس کی معاشی اور سماجی مسائل سے بھرپور لگن نہ صرف جرمنی کے عوام کی تکلیف دہ بد حالی اور محرومی دیکھ کر جاگی تھی بلکہ نہایت ترقی یافتہ سر مائے دار ملکوں،برطانیہ اور فرانس کے حالات و واقعات سے بھی ابھری تھی۔ لائن (Lyons) کے مزدوروں کی 1831ء اور 1834ء کی بے چینی، 1830ء کے آخر میں برطانیہ کے محنت کشوں میں انقلابی تحریک کی لہر، ان سب نے 1842ء میں اپنے نکتہ عروج پر پہنچ کر سیاسی کردار (چارٹزم) اپنا لیا۔ اسی طرح مزدوروں کے کچھ اور عملی اقدام بہت زیادہ سیاسی اہمیت کے حامل تھے۔ اسی وقت سے یورپ کے نہایت ترقی یافتہ ملکوں میں بورژوازی اور پر ولتاریہ میں طبقاتی کشمکش کا واضع اجرا ہو گیا۔

نئے طبقہ یعنی پرولتاریہ کی جدوجہد میں شمولیت نے مارکس کو اکسایا کہ وہ نسبتاً نئے سماجی معاشی مسائل میں گہری دلچسپی لے۔ یوں اُس کی دلچسپی سوشلسٹ ادب میں بڑھی جو ان دنوں برطانیہ اور فرانس میں شائع ہوتا تھا۔ ری انشے زیؤنگ میں کام کرنے، زندگی سے بے باکانہ نپٹنے، جرمنی کے عوام الناس کی مساعی دیکھنے اور دوسرے ملکوں میں چلنے والی مزدور تحریکوں سے واقفیت حاصل کرنے کی وجہ سے نو جوان مارکس پر والہانہ اثر ات مر تب ہو ئے۔ بقول لینن، یہاں ہمیں مارکس میں مثالیت سے مادیت اور انقلابی جمہوریت سے کمیونزم کی طرف گر یز کے عنوان نظر آتے ہیں۔ پرو شیا کی حکومت ری انشے زیؤنگ کے رجحان اور اس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوفزدہ ہو گئی۔ اُس نے اخبارپر سنسرشپ کی پابندی سخت کردی اور آ خرکار جنوری 1943کو یکم اپریل 1943ء سے اس کی ضبطی کی ڈگری دے دی۔ اس سال 17 مارچ کو اخبار کے حصّے داروں کے عزائم سے اختلاف کرتے ہوئے جو اخبار کی پالیسی نرم کر ناچاہتے تھے، مارکس نے استعفیٰٰ دے دیا۔ اُس نے بیرون ملک جانے کافیصلہ کر لیا۔ مقصدیہ تھاکہ باہر سے ایک انقلابی پرچہ شائع کیا جائے جو سرحدوں کے باہر سے جرمنی کے اندر بھیجاجائے۔ مارکس کے خیال میں اس پر چے کامقصد ہر موجود پر بے رحمانہ تنقید تھا۔

جرمنی کو چھوڑنے سے قبل مارکس نے جینی وان ولسیٹ خیلن سے شادی کر لی جو اُس کی بچپن کی دوست تھی اور جس سے اُس کی منگی اُس وقت ہو گئی تھی جب وہ اسکول میں پڑھتا تھا۔ اُس نے 1843 کی گرمیاں اور خزاں کروز نیش میں گزاریں، جہاں اُس نے ہیگل کے فلسفئہ حق کا تنقیدی مطالعہ شروع کیا۔ ’’ہیگل کے فلسفئہ حق پر تنقید‘‘ نامی کتاب ہم تک ایک نامکمل مسودے کے روپ میں پہنچی۔ یہ کتاب مارکس کے نئے عالمی مادی نقطۂ نظر کی طرف رجحان کی نمائندگی کرتے ہوئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جیسا کہ اُس نے ہر موجود چیزپر بے رحمانہ تنقیدکرنے کا کٹھن دعوی کیا تھا۔ مارکس نے اِس تنقید کا آغاز ایک ایسے سوال سے نپٹنے سے کیا جس سے اُس کاواسطہ ری انشے زیتونگ میں کام کرنے کے دوران میں پڑچکا تھا۔ سوال تھا کہ ریاست اور معاشرتی زندگی کی مادی حالتوں کاآپس میں کیا رشتہ ہے۔ اور یہ کس طرح ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں اس سوال کا سائنسی جواب ریاست اور قانون کے متعلق ہیگل کے رجعت پسند انہ مثالی نظریات کا تنقیدی تجزیہ کرنے کے بغیر دینا ناممکن تھا۔ مارکس پہلی ہستی تھا جس نے یہ کام کیا۔ لیوڈ وگ فیو رباخ جس کے رشحا ت ہیگل کے عینینی فلسفے کے خلاف پیش کیے جا تے تھے (اوریہ مارکس کوما دیت کی طرف لے جانے میں مدد گار بھی ثابت ہو ئے تھے) وہ بھی مظاہرات قدرت کی وضاحت کرنے کی حد تک ما دیت پسند تھااور تاریخی اور سماجی رشتو ں اور سیاست کی تفسیرکر تے ہوئے عینی بن جاتا تھا۔ مارکس نے جہاں فیور باخ کی تعریف کی کہ وہ پہلا مادیتی فلسفی تھا، وہیں اُس کی مادیت پر ستی کی حدوداور نا ہمواریوں کی بھی نشان دہی کر دی ہے۔ فیورباخ سے امتیاز برتتے ہوئے مارکس نے مادی دنیا کا ایک مربوط اور مستحکم نظریہ استنباط کرنے پر زوردیاجو معاشرتی زندگی اور فطری زندگی دونوں پر محیط ہو ۔

ہیگل کے فلسفئہ حق کے مطالعہ کے آخرمیں وہ جن نتائج پر پہنچا وہ اُس نے بعد میں ’سیاسی معاشیات پر ایک تنقید ی مضمون کے پیش لفظ ‘میں بیان کردئے۔’’ میری تحقیق نے مجھے اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ قا نو نی رشتے اور ریاست نہ تو خود سے وجود میں آ گئے، نہ انسانی دما غ کی نام نہاد عمومی ترقی سے ان کے ظہور اور ارتقا کو اخذ کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ زیادہ تر زندگی کے مادی حا لا ت کی پیداوار ہوتے ہیں _جن رشتو ں اور ضا بطوں کے لب لبا ب کو ہیگل نے اٹھارہو یں صدی کے انگریزوں اور فرا نسیسیوں کی پیروی کرتے ہوئے ’سول سوسائٹی ‘کے نام پکارا ہے۔ اس سول سوسائٹی کے ڈانڈے بھی سیاسی معا شیا ت میں تلاش کرنے چاہئیں‘‘۔

مارکس نے صر ف مادیت کو سما جی مظاہر تک پھیلایا بلکہ اس نے مادیت کے نقطۂ نظر کو مزید ترقی دی۔ جو اس کے پہلے میکانکی اور ما بعد الطبیعاتی نوعیت رکھتی تھی ۔

فیورباخ نے تو ہیگل کی جدلیات کو رد کر دیا تھا مگر مارکس نے اس پر تنقیدی نظرثانی کرنے کا بیٹرا اٹھایا۔ ہیگل کاجدلیاتی طریقہ ’پر تعقل مغز‘ یعنی ارتقا کا نظریہ رکھتاتھا۔ ہیگل واقعات اور مظاہر کو ان کے باہمی روابط اور اتصال کی روشنی میں بطور ارتقا، تبدیلی اور مٹ جانے کے عمل دیکھتا تھا۔ اس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ اس عمل کی اساس میں تضادات کی کشمکش ہے۔ جدلیاتی طریق کار مابعد الطبعیاتی طریق کار کے زیادہ ترقی پسند تھا جو دنیا کو اشیا کا اتفاقی اجماع قرار دیتا تھا جن کا آپس میں کوئی تال میل نہ ہو، جیسے یہ ساکت اور غیر متغیراشیاہوں۔ لیکن ہیگل کے طریق فلسفہ میں ایک بڑانقص تھا کہ یہ مثالی تھا۔ ہیگل کااعتبار یہ تھاکہ فطرت اور معاشرے کی نشوونماکا انحصار روح (تصور مطلق) کی بالیدگی پر ہے۔ ہیگل نے ہر شے کی الٹی تصویر دکھا کر خیال کے خود کے ارتقا کو حقیقی ترقی کا بدل پیش کر دیا۔ خیال کی خودارتقائی جس کا مطلب تھا اشیاء کی جدلیات کی بجائے خیالات کی جدلیات۔

مارکس نے اپنے فلسفے کی بنیاد سائنس اور خصوصاً قدرتی سائنس کے مجموعی مواد پر رکھی۔ اس نے ہیگل کی جدلیات کو مادیت کے ساتھ ملاکر ایک اکائی بنائی اور دنیا کو ایک کُلیت کی صورت میں نئی تشکیل دینے کی کو شش کی۔

مارکس کا مسودہ ’ہیگل کے فلسفہ حق پر تنقید‘ اور اس کی اس زمانے کی خط کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکس اب وہ مارکس بن رہاتھاجس نے سو شلزم کی بنیاد ایک سائنس کے طور رکھی۔ جو جدید مادیت کا بانی تھا۔ اور جس کا مواد بے حد بار آور ثابت ہوا اور مادیت کی پیشرو ہسیتوں کی نسبت بے نظیر حد تک جچاتلاہے۔

اکتوبر 1843ء کے آخر میں مارکس پیرس چلا گیا۔ فرانس کے دار الحکومت کی زندگی نے اس کو نئی آگہی اور سیاسی تجربے سے مالامال کر دیا۔ وہ شہر کے نواح میں مزدوروں کی بستیوں اکثر جا یا کرتا۔ اس نے انجمن عدل (یہ جرمن مزدوروں اور کاریگروں کی ایک خفیہ جماعت تھی) کے لیڈروں اورفرانس کی بہت سی خفیہ تنظیموں کے رہنماؤں سے بھی رابطہ قائم کیا۔ مگر ان میں سے کسی کا ممبرنہ بنا۔ یہاں اس نے فرانس کے خیال سوشلسٹوں آئٹانے کیبٹ، پیری لی روکس، لوئی بلینک اور پیری پرودھوں سے بھی شناسائی حاصل کی۔ آئزک ہائنے سے اس کی دوستی ہوئی اور روسی سوشلسٹوں، ایم، اے باکونن، وی، پی بوٹکن اور دوسروں سے بھی آگاہی ہوئی۔

مارکس نے بورژوا سیاسی اقتصادیات پر ایک عظیم تنقیدی کتاب لکھنے کا ارادہ کیا۔ اور اس نکتہ نظرسے سیاسی اقتصادیات کے کلاسیکل نمائندوں آدم سمتھ، ڈیوڈریکارڈو اور دوسرے ماہرین اقتصادیات کی تصانیف پڑھیں۔ اس مطالعہ کا نتیجہ 1844ء کے نامکمل ’معاشی فلسفیانہ مسودات‘ کی صورت میں ظہور پزیر ہوا۔ بورژوا ماہرین معاشیات پر تنقید کرتے ہوئے مارکس نے سرمایہ دارانہ استحصال کے کچھ خدو خال اجاگرکئے۔ اس نے ابتدائی خام مساواتی کمیونزم پر تنقید کی۔ اس نے ہیگل کے فلسفے کاعمومی اور جدلیات کا تنقیدی تجزیہ کیا۔ اس مسودے پر اب بھی فیورباخ کا اثر دکھائی دتیاہے۔ اس نے عظیم خیالی UTOPIAN سوشلسٹوں ہیزی سینٹ سائمن، چارلس فور ئیر، رابرٹ اوون اور دوسروں کی کار کردگی کا بھی مطالعہ کیا۔ خیالی سوشلسٹوں نے اگرچہ سرمائے داری معاشرے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا مگر وہ اس کے ارتقا کے اصول وضع کرنے میں ناکام رہے۔ وہ اس سماجی قوت کی نشان دہی بھی نہ کر سکے جو نئی سوسائٹی کی تعمیر میں ہراول دستے کا کردار ادا کر سکی تھی۔
مارکس نے اٹھارہویں صدی کے آخر میں فرانس میں بپا ہونے والے بورژوا انقلاب کے مطالعہ میں بہت سا وقت صرف کیا۔ اس نے خصوصاً اس واقعے کا تاریخی پس منظر دیکھا۔ فرانسیی مزدوروں کی زندگی اور جدوجہد سے تازہ آشنائی، بورژوا اقتصادیات کے تنقیدی مطالعے اور خیالی سوشلسٹوں کی تحریروں نے مارکس کے عنییت سے مادیت اور انقلابی جمہوریت سے اشتراکت کی طرف جانے کا فیصلہ دے دیا۔ مارکس کی زند گی میں یہ فیصلہ کن موڑ اس کے ڈچ فرانزوسچے جاربوچر Deutsch- Franzosische Jahrbucher میں چھپنے والے مضامین سے واضع طور پر منعکس ہوتا ہے۔ یہ اخبار مارکس اور آرنلڈ روج کی ادارت میں فروری 1844ء میں پیرس سے شائع ہوا۔ اپنے ایک مضمون ے’ہودیو ں کا مسئلہ ‘میں مارکس نے ہیگل کے پیر وکار بر و نو بائر کے قو می مسائل کے بارے میں عینی نظریات رکھنے پر تنقید کر تے ہو ئے پہلی بار بورژوا انقلاب اور اشترا کی انقلاب کے بنیادی فرق کی واضع تعر یف کی جو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اس کا مضمون ’ہیگل کے فلسفہ حق پر تنقید، ایک تعارف‘ اپنی گہرائی اور بصیرت کے لحاظ سے خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ جرمنی میں مذہب پر تنقیدکی مثبت اہمیت قبول کر تے ہوئے مارکس نے دیکھا کہ کس طرح ترقی پسند فلسفے کا کام مذہب کے خلاف جدو جہد سے ان خارجی حالات کے خلاف جد و جہد میں بدل گیا جو مذہب کو جنم دیتے ہیں، یعنی عرش پر تنقید کو دھرتی پر تنقید، مذہب کی تنقید کوقانون کی تنقید اور دینیات پر نکتہ چینی کو سیاسیات پر نکتہ چینی کے روپ میں بدلنا ہے۔ مارکس نے زور دیاکہ تنقید نہایت موثراور انقلابی ہونی چایئے اس نے لکھاکہ تنقیدکا ہتھیار شمشیروسناں کے ساتھ ہونے والی جدوجہد کی جگہ نہیں لے سکتا۔ مادی طاقت کا رد مادی طاقت ہی سے کیا جا سکتا ہے لیکن نظریہ جونہی عوام کو اپنی گرفت میں لے لیتاہے، مادی قوت بن جاتاہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY