پاکستان میں ٹیکسز کے خلاف تاجروں کی ہڑتال، حکومت کا بزنس کمیونٹی کے دباؤ میں نہ آنے کا اعلان

0
749

حکومتِ پاکستان کی جانب سے عائد نئے ٹیکسز اور مہنگی بجلی کے خلاف ملک بھر کی تاجر انجمنوں کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے اور کئی سیاسی جماعتوں نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی حب کراچی، لاہور، پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔

اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے عاصم علی رانا کے مطابق راولپنڈی، اسلام آباد سمیت جڑواں شہروں میں چھوٹی بڑی تمام مارکیٹس بند ہیں جب کہ مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں سمیت چیمبرز نے بھی تاجر تنظیموں کی جانب سے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔

بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے اور شہر کی تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند ہیں۔

کوئٹہ سے نامہ نگار مرتضیٰ زہری کے /مطابق انجمنِ تاجران کے صدر کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے عائد کردہ زائد ٹیکسز کے خلاف ہڑتال کی جا رہی ہے، ٹیکسز کی وجہ سے تاجر ملک چھوڑ رہے ہیں۔

تاجر یونینز نے مطالبہ کیا ہے کہ ‘تاجر دوست اسکیم’ کے نام پر عائد کردہ ٹیکسز میں کمی کی جائے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے۔

حکومت نے ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے حال ہی میں ‘تاجر دوست اسکیم’ متعارف کرائی ہے جسے تاجروں نے مسترد کر دیا ہے۔

تاجر برادری نے 16 اگست کو اعلان کیا تھا کہ وہ نئے ٹیکسز، مہنگی بجلی اور حکومت کی طرف سے متعارف کردہ ‘تاجر دوست اسکیم’ کے خلاف 28 اگست کو ملک گیر ہڑتال کریں گے۔

تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تاجر دوست اسکیم کے تحت دکان داروں پر ماہانہ 60 ہزار روپے ٹیکس لگانا ظلم ہے جب کہ حکومتی نمائندوں اور تاجروں کے درمیان ٹیکس کے نفاز کے معاملے پر مذاکرات بھی ہو چکے ہیں لیکن وہ ناکام رہے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل کا کہنا ہے کہ حکومت ڈیجیٹائزیشن کی طرف جانے کے لیے پرعزم ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ سیلری کلاس اور ایک مخصوص طبقے پر ٹیکس کا تمام بوجھ ڈال دیا جائے۔

مقامی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام ‘جیو پاکستان’ میں بدھ کو بات کرتے ہوئے رانا احسان نے کہا کہ ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا اور اگر حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے میں کامیاب ہو گئی تو ٹیکس میں کمی کر دی جائے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY