نیب کا وزیر داخلہ احسن اقبال کے خلاف شکایات کی تصدیق کرنے کا فیصلہ

0
55

قومی احتساب بیورو ( نیب) نے نارووال میں اربوں روپے لاگت سے تعمیر ہونے والے اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ بےضابطگیوں پر وزیر داخلہ احسن اقبال کے خلاف شکایات کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

خیال رہے کہ احسن اقبال مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور وہ اس وقت وزیر داخلہ کے علاوہ وزیر منصوبہ بندی اور ترقی بھی ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ہدایت دی ہیں کہ حکومتی فنڈز میں مبینہ طور پر ہونے والی خورد برد کے خلاف شکایات کی تحقیقات کی جائیں۔

واضح رہے کہ نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے ( این ایس سی پی ) کی تعمیر پر حیرت انگیز طور پر 6 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔

بیورو نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ چیئرمین نیب کی جانب سے اس منصوبے کی تعمیر میں قوانین کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا گیا، اس کے علاوہ اس منصوبے میں سیکیورٹی معاملات بھی ایک مسئلہ ہے اور اسپورٹس سٹی کی 44 ایکڑ زمین کو بھارتی سرحد سے صرف 800 میٹر کے فاصلے پر تعمیر کیا جارہا۔

یہ کیس دلچسپ اس لیے ہے کیونکہ اس میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ( پی ایس ڈی پی ) کا خصوصی تعین کیا گیا تھا جبکہ فنڈز کا تعین اسپورٹس بورڈ آف پاکستان ( پی ایس بی ) کے ذریعے کیا گیا تھا۔

پی ایس ڈی پی کی 19-2018 کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی لاگت 2.9 ارب روپے رکھی گئی تھی، جس میں سے 2.5 ارب روپے سے زائد پہلے ہی خرچ ہوچکے جبکہ بقیہ 46 کروڑ 70 لاکھ روپے آئندہ مالی سال میں جاری کیے جائیں گے۔

اس منصوبے کی تعمیر پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جارہا کہ اگر اس طرح کے چھوٹے سے علاقے میں اتنا بڑا اسپورٹس سٹی منصوبہ تعمیر کرنا ضروری تھا تو اسی فنڈز اور اسی طرح کی سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے بڑے شہروں کراچی اور لاہور میں تعمیر کیا جاسکتا تھا۔

دوسری جانب اس منصوبے کے حوالے سے یہ بھی الزام لگایا جارہا کہ یہ بغیر کسی پروجیکٹ ڈائریکٹر کے تعمیر ہورہا اور پی ایس بی کے پاس اپنے کسی منصوبے کے لیے کوئی پروجیکٹ ڈائریکٹر نہیں ہے۔

نیب کے چیئرمین کی جانب سے نیب ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت دی گئی کہ وہ پی اسی بی کے سابق ڈائریکٹر جنرل اختر جنجیرا کی بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر این ایس سی پی کی تقرری پر اٹھنے والے سوالات کی تحقیقات کریں۔

بیان میں بتایا گیا کہ اس بات پر بھی تحفظات ہیں کہ اختر جنجوعہ پہلے ہی پی ایس بھی ڈائیریکٹر جنرل تھے اور ان کی تقرری میں قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

یہاں جو سوال سب سے اہم ہے وہ یہ کہ وزیر منصوبہ بندی اور ترقی احسن اقبال تھے اور انہیں یہ بات معلوم نہیں تھی کہ این ایس سی پی کا کوئی پروجیکٹ ڈائریکٹر نہیں ہے۔

خیال رہے کہ احسن اقبال اور قومی احتساب بیورو کے درمیان حال ہی میں لفظی جنگ بھی ہوئی تھی اور ایک ماہ قبل نارووال میں خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے نیب کے مقاصد پر سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ ساڑھے چار سال سونے کے بعد نیب اچانک کیوں کارروائیاں کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ ہم تمام اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جانے کے بجائے اس کی تقری میں کردار ادا کریں‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY