پلول کی مسجد کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ کا اجرا
نئی دہلی: ہریانہ کے ضلع پلول میں واقع موضع اٹاور میں ایک زیر تعمیر مسجد کے بارے میں مبینہ غیر ملکی فنڈ کی فراہمی سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے لئے دہلی اقلیتی کمیشن نے پچھلے دنوں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ مذکورہ واقعے میں دہلی کا ایک شہری گرفتار ہے۔ کمیٹی نے علاقے کا دورہ کیا اور مسئلے کی گہرائی میں جانے کی غرض سے پولیس وانتظامیہ کے افسران،مقامی پنچایت کے ذمہ داران، علاقے کے لوگوں اور متاثرہ خاندانوں کے افراد سے گفتگو کی۔کمیٹی نے اس کیس میں ایک ملزم محمد سلمان کے خاندان سے بھی دہلی میں ملاقات کی۔اس کمیٹی کے سربراہ حقوق انسانی کے معروف کارکن اویس سلطان خاں تھے جو دہلی اقلیتی کمیشن کی مشاورتی کمیٹی کے رکن ہیں۔ کمیٹی دہلی اقلیتی کمیشن کے دوسرے ممبران سابق رکن دہلی اقلیتی کمیشن اوراس کی مشاورتی کمیٹی کے ممبر اے سی مائکل ، شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کے ممبر سردار گور مندر سنگھ متھارو اور معروف ماہر قانون وحقوق انسانی کے کارکن ابوبکر سباق تھے۔
مذکورہ کمیٹی کی رپورٹ دہلی اقلیتی کمیشن نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس منعقد کرکے ۳۱ ؍اکتوبر کو ریلیز کی۔ اس موقعے پر کمیشن کو صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اور ممبر سردار کرتار سنگھ کوچر کے ساتھ تحقیقاتی کمیٹی کے تمام ممبران موجود تھے۔ اس موقعے پر کمیشن نے رپورٹ قبول کرتے ہوئے اس کو ریلیز کیا اور اس کے نتائج کو انگریزی، ہندی اور اردو زبانوں میں جاری کیا
اویس سلطان خاں نے میڈیا کے سامنے کمیٹی کی تحقیقی رپورٹ کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا واقعہ ہے جس میں کسی مسجد کے بارے میں ایسی رپورٹ آئی ہے کہ اس کا تعلق دہشت گردوں سے ہے یا اس میں دہشت گردوں کا پیسہ لگا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس مسجد کو ۸۴؍ گاؤوں کے لوگوں نے مل کر بنایا ہے ۔ سولہ ہزار نمازیوں کے لئے کافی یہ مسجد سنہ ۲۰۰۹ سے بن رہی ہے اور ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہونا چاہئے تھا کہ یہ مسجد ہندومسلمان ایکتا کا مظاہرہ بنتی کیونکہ یہ مسجد بہت سے گاؤوں کی مشترکہ (شاملاتی) زمین پر بنائی گئی ہے ۔ کل زمین دس ایکڑ تھی جس میں سے گاؤوں کے ہندو ؤں اورمسلمانوں نے خوشی خوشی ۸؍ ایکٹر زمین مسجد کے لئے دی اور دو ایکٹر زمین کو ایک سرکاری اسپتال اور بوڑھوں کے گھر (اولڈ ایج ہوم) کے لئے دی۔
زمین مین روڈ پر ہے اور اس کے کچھ حصے پر کچھ لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اس کے سامنے والے حصے میں دوسو دکانیں بن سکتی تھیں جن میں ہر کی ایک کی قیمت ۲۵ لاکھ ہوگی۔ گاؤوں والوں اور این آئی اے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی نے ’’منسٹری‘‘ کو شکایت بھیجی اور منسٹری نے وہ شکایت این آئی اے کو بھیج دی ۔ این آئی اے نے ابتک اپنے سرکاری بیانوں یا اپنی ویب سائٹ پر اس بات کا الزام نہیں لگایا ہے کہ مذکورہ مسجد میں دہشت گردوں کا پیسہ لگا ہے جبکہ کچھاخبارات نے این آئی اے کے سورس کو کوٹ کرتے ہوئے یہ بات لکھی ہے۔ کمیٹی کی تحقیتقات میں اسے اس بات کا کوئی اشارہ نیہں ملا کہ مسجد کی تعمیر میں کسی طرح سے دہشت گردوں یا باہر کا پیسہ لگا ہے۔ مقامی پولیس اور پنچایت کے لوگوں نے بتایا کہ مقامی طور سے اس طرح کی کوئی شکایت نہیں ہے۔
اویس سلطان خاں نے مزید بتایا کہ لشکر طیبہ/فلاح انسانیت ایک سلفی تنظیم ہے جبکہ یہ مسجد تبلیغی جماعت والوں کی ہے اور ان دونوں کی سوچ بالکل مختلف ہے اور ان کے درمیان کوئی تال میل ہو ہی نہیں سکتا ہے۔
اویس سلطان خاں نے مزیدبتایا کہ این آئی اے نے گاؤں یا مسجد کے ذمے داران میں سے کسی سے بات نہیں کی لیکن انھوں نے سارا ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیا اور نہ اس کی ضبطی (سیزر) کی رپورٹ بنائی اور نہ ہی اس کی رسید دی۔ دہلی سے گرفتار شدہ شخص محمد سلمان کے گھر میں بھی این آئی اے نے یہی کام کیا۔ انھوں نے محمد سلمان کو دو دن (۲۵۔۲۶ ستمبر)گرفتار رکھنے کے بعد ۲۷ ستمبر کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جبکہ قانونی طور سے انھیں ایسے کسی گرفتار شدہ شخص کو ۲۴ گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔ اویس سلطان نے بتایا کہ این آئی اے کی پریس ریلیز اور ایف آئی آر میں تال میل نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ ایک سماج کوٹارگٹ کرنے اور گاؤوں کے کچھ افراد کی سازش کا ہے۔
اویس سلطان خاں نے مزید کہا کہ درحقیقت لوگوں میں ایک احساس کمتری پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ آپ خود سے مسجد، مندر نہیں بنا سکتے ہیں بلکہ ضرور کہیں اور سے پیسے آئے ہیں۔ جب مسجد کا آغاز ہواتو علاقے کے سب لوگوں نے ایک ایک ہزار روپئے دئے۔ علاقے کے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس کوئی شکایت نہیں ہے اور انٹیلی جینس نے بھی ہم کو ایسی کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔گاؤں کے مسلم سرپنچ کہا کہ ان کی ماں ۸۰ سال کی ہے اور چاہتی ہے کہ مرنے سے پہلے پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے مل آئے یاان سے فون پر بات ہی کر لے لیکن ہم لوگ ان سے فون پربھی بات نہیں کرتے۔
معروف ماہر قانون وحقوق انسانی کے کارکن ابوبکر سباق نے کہا کہ ایسے بہت سے کیسس سامنے آتے رہے ہیں جن میں آپسی لڑائی کی وجہ سے یا پیسہ اینٹھنے کی غرض سے پولیس لوگوں کو پھنساتی ہے ۔ موجودہ کیس میں این آئی اے نے نہ دعوی کیا ہے اور نہ ہی انکار کیا ہے۔ مذکورہ مسجد علاقے میں تبلیغی جماعت کا مرکز ہے۔گاؤں کے موجودہ سرپنچ اور سابق سرپنچ نے کہا کہ یہ پراپرٹی کی لڑائی ہے اور کسی نے شکایت کی ہوگی ، اسی لئے بات یہاں تک پہنچی ہے۔قاعدے کے لحاظ سے کوئی ریکارڈ ضبط کرتے ہوے اس کاسیزر میمو بناکر فوٹو رکھا جاتا ہے جبکہ اصل دستاویزات ملزم کے پاس رہتی ہیں۔ مذکورہ مسجد کے چندے کے لئے پوری کمیٹی جاتی تھی۔گاؤ ں کے لوگوں کے مطابق ملزم محمد سلمان کے والد تبلیغی جماعت کے امیرمولانا الیاس رحمۃ اللہ سے ۱۹۲۰ سے جڑے تھے۔ محمد سلمان نے گاؤں میں واقع اپنی زمین بیچ کر مسجد کو پیسے دئے تھے ۔ جو کچھ ریکارڈ اس وقت این آئی اے کے پاس ہے وہ پروسیجر کی خلاف ورزی کی وجہ سے مشکوک ہے۔ محمد سلمان کا بھائی ان پڑھ ہے پھر بھی اس سے درخواست لکھوائی گئی ہے۔
دلی اقلیتی کمیشن کے سابق ممبر اے سی مائکل نے کہا کہ مسجد کی تعمیر ۲۰۰۹ میں شروع ہوئی اور اب ۲۰۱۸ ہے۔ اتنے سالوں میں سرکار کو کیوں کچھ نہیں معلوم ہو سکا؟ این آئی اے کی ویب سائٹ پر اس کیس کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ ان کے پاس اپنے دعوے کے لئے کوئی قابل قبول سبب نہیں ہے۔ محمد سلمان کو جھوٹ بول کر اس کے بینک بلایا گیا اور وہاں اس کو گرفتار کیا۔ محمد سلمان پر الزام ہے کہ وہ ۷۰؍ لاکھ روپئے پاکستان سے لایا ہے، جس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ موجودہ سرپنچ اور سابق سر پنچ نے ہمیں بتایا کہ علاقے کے سارے سرپنچوں نے مل کر اس زمین کو مسجد کے لئے دی ہے۔خود محمد سلمان نے اپنی زمین بیچ کر ۲۲۔۲۴ لاکھ روپئے اس کام کے لئے دئے ہیں۔ڈی ایس پی وغیرہ نے ہمیں بتایا کہ مسجد ،مندر، گردوارہ کے لئے توسب لوگ دیتے ہیں اور اس کا کوئی حساب نہیں رکھا جاتا ہے۔ پولیس نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی شکایت نہیں آئی ہے۔
اے سی مائکل نے مزید کہا کہ آرایس ایس کو سب سے زیادہ باہر سے پیسہ ملتا ہے جب کہ وہ رجسٹرڈ باڈی بھی نہیں ہے۔ حکومت کا کام ہے کہ ایسے کسی فنڈ کے بارے تحقیقات کرے۔ این آئی اے کی دونوں پریس ریلیزوں میں مسجد کے لئے باہر سے پیسہ آنے کا ذکر نہیں ہے ، پھر جرنلسٹوں کو کیسے خبر مل گئی؟ کیا ان کا ڈائرکٹ لنک حافظ سعید سے ہے؟ باہر سے پیسہ آنا جرم نہیں ہے۔
شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کے ممبر سردار گور مندر سنگھ متھارو نے کہا کہ ہمیں ایسا کچھ نہیں لگا کہ باہر سے فنڈ آتے ہیں۔مسجد کے رجسٹر میں ۷۰؍ لاکھ روپئے کی کوئی انٹری نہیں ہے۔ زمین شاملاتی ہے اور ہندو مسلمان سب نے مل کرمسجد کو زمین دی ہے۔ اصلیت کچھ اور ہے اور اس کی صحیح تحقیقات کرانی چاہئے۔ ہم میڈیا کے خلاف نہیں ہے لیکن ان کو ایک طرفہ فرقہ وارانہ باتیں نہیں چھاپنی چاہئے۔
ٌٌٌ***************************
پلول مسجدکے مسئلے کی تحقیق کرنے والی دہلی اقلیتی کمیشن کی کمیٹی کے اخذکردہ نتائج
نئی دہلی: ہریانہ کے ضلع پلول میں واقع موضع اٹاور میں ایک زیر تعمیر مسجد کے بارے میں مبینہ غیر ملکی فنڈ کی فراہمی سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے لئے دہلی اقلیتی کمیشن نے پچھلے دنوں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے علاقہ کا دورہ کیا اور مسئلے کی گہرائی میں جانے کی غرض سے پولیس وانتظامیہ کے افسران،مقامی پنچایت کے ذمہ داران، علاقہ کے لوگوں اور متاثرہ خاندانوں کے افراد سے گفتگو کی۔کمیٹی نے اس کیس میں ایک ملزم کے خاندان سے بھی دہلی میں ملاقات کی۔
اس کمیٹی کے سربراہ حقوق انسانی کے معروف کارکن اویس سلطان خاں تھے جو دہلی اقلیتی کمیشن کی مشاورتی کمیٹی کے رکن ہیں۔ یہ کمیٹی دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق رکن اور دہلی اقلیتی کمیشن کی مشاورتی کمیٹی کے ممبر اے سی مائکل ، شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کے ممبر سردار گور مندر سنگھ متھارو اور معروف ماہر قانون وحقوق انسانی کے کارکن ابوبکر سباق پر مشتمل تھی۔
وسیع پیمانے پر دورے اور تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں سے گفتگو کے بعد کمیٹی نے مذکورہ مسجد میں دہشت گردی یا غیر ملکی فنڈ کا کوئی ثبوت نہیں پایا۔ حقائق کا پتہ لگانے والی کمیٹی کی تحقیقات کے نتائج حسب ذیل ہیں:
۱۔ کمیٹی کو پوری ریاست میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ خلفائے راشدین مسجد کی تعمیر کے لئے دہشت گردی سے متعلق کوئی فنڈ ملا ہو۔
۲۔ کمیٹی کو تمام مذاہب اور ذات برادری کے گروپوں سے ملاقات کے دوران معلوم ہوا کہ انہوں نے مسجد کے لئے خود چندہ دیا اور خلفائے راشدین مسجد کی تعمیر کے لئے فنڈ فراہم کیا۔
۳۔ خلفائے راشدین مسجد کا نام آپسی پراپرٹی تنازعہ کی وجہ سے گھسیٹا گیا ہے۔
۴۔ مقامی ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر اپنی شاملاتی (مشترکہ) ۰ ا؍ ایکٹر زمین میں سے مسجد اور مدرسہ کے لئے ۸؍ ایکڑ اور سرکاری اسپتال اور بوڑھے لوگوں کے لئے گھر (اولڈ ایج ہوم) کی خاطر ۲؍ ایکڑ زمین دی تھی۔
۵۔خلفائے راشدین مسجد تبلیغی جماعت کی ہے جبکہ لشکر طیبہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا تعلق سلفی مکتبۂ فکر سے ہے۔ ان دونوں کا ایک دوسرے کی تعلیمات اور اعمال سے کوئی اتفاق اور میل نہیں ہے۔لہٰذا ان دونوں کے درمیان سازباز کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتاہے۔
۶۔ہرویندر یادو (این آئی اے کے افسر) نے محمد سلمان کے خاندان سے کہا کہ کسی نے محمد سلمان کے خلاف منسٹری میں شکایت کی ہے جو این آئی اے کے حوالہ کردی گئی ۔
۷۔شکایت، ایف آئی آر اور گرفتاری کی تاریخیں واقعات کے آرڈر سے میل نہیں کھاتیں۔
۸۔محمد سلمان ۲۵ ،۲۶ ستمبر ۲۰۱۸ کو خلاف قانون طور پر این آئی اے کی حراست میں تھا۔این آئی اے نے اسے پٹیالہ ہاؤس ضلع کورٹ میں واقع اسپیشل کورٹ میں ۲۷ستمبر ۲۰۱۸ کو پیش کیا۔
۹۔ این آئی اے کا ۷۰؍ لاکھ روپئے بیرون ملک سے لانے کا الزام سچ ثابت نہیں ہوا۔
۱۰۔این آئی اے نے تمام اوریجنل رسید یں، ریکارڈ ، رجسٹر اور ڈائریاں مع ایک ہارڈ ڈسک اور پین ڈرائیو کے محمد سلمان کے گھر سے ضبط کرلیں لیکن ضبطی کے وقت موقع پر کوئی ضبطی ریکارڈ تیار نہیں کیا اورنہ ہی ریکارڈ کی کوئی نقل فراہم کی۔
۱۱۔ این آئی اے ٹیم نے خلفائے راشدین مسجد پر چھاپہ مارا، لیکن اس نے گاؤں کے کسی باشندے یا مسجد کمیٹی کے کسی ممبر کا کوئی بیان ریکارڈ نہیں کیا۔
۱۲۔ این آئی اے نے خلفائے راشدین مسجد کمیٹی سے بھی تمام اوریجنل رسیدیں، ریکارڈ اور رجسٹر ضبط کر لئے لیکن ضبطی کے وقت موقع پر کوئی ضبطی ریکارڈ تیار نہیں کیا نہ ہی کوئی رسید فراہم کی ۔
۱۳۔ این آئی اے کے عمل میں بہت سے سنگین عملی خلا پائے گئے۔
۱۴۔کیس کا نام اور اس کی تفصیلات این آئی اے کی ویب سائٹس پر دستیاب نہیں ہیں۔
۱۵۔این آئی اے کی طرف سے ۲۶ ؍ستمبر اور ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۱۸ کو کی گئی دو پریس کانفرنسوں میں خلفائے راشدین مسجد یا دہشت گردی کے فنڈ سے کی گئی اس کی تعمیر کا کوئی ذکر نہیں ہے۔












