نئی حکومت آئی ہے جو تبدیلی کی بات کر کے ہمارے حوصلے بڑھا رہی ہے ۔اسی لئے ہمیں بھی بہت سے ایسے مسائل یاد آرہے ہیں جو ہماری شناخت کے لئے ضروری ہیں ۔
نہ جانے ہم کیوں نمبر دو رہنا چاہتے ہیں ۔ہمیں دُکھ ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی زبان کو بھی اپنی بے وقوفی کی بھینٹ چڑھا رکھا ہے ہم اپنی زبان میں بات کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں،ہم نے دیکھا کہ یہاں کینیڈا میں جتنی قومیتیں اآباد ہیں کسی شاپنگ مال میں چلے جائیں وہ اپنے بچوں سے اپنی زبان میں بات کرتے نظر اآتے ہیں چاہے چینی ہوں ،جاپانی ہوں سکھ ہوں ہندو ہوں ،وہ دھڑلے سے اپنی زبان بول رہے ہوتے ہیں سوائے ہم پاکستانیوں کے ہمیں اردو بولتے ہوئے عجیب سی سُبکی محسوس ہوتی ہے کیوں؟ یہ ہماری سمجھ میں آج تک نہیں آیا ،ہم نے اپنے ملک میں بھی اپنی زبان کی ناقدری دیکھی ۔کوئی عدالتی فیصلہ ہمیں اردو میں نہیں ملا جب کہ ہمارے بزرگوں کا کہنا تھا کہ اپنی زبان میں کی گئی بات دل پر اثر کرتی ہے اور دلوں کو جوڑتی بھی ہے کیونکہ سامنے والا جو کچھ کہہ رہا ہے وہ آپ سمجھ رہے ہیں ہم یہ رونا بھی روتے ہیں کہ اپنی زبان میں تعلیم دو تاکہ وہ لوگ جو ناخواندہ ہیں اس میں دلچسپی لیں ۔جب آپ کو پتہ ہے کہ ہمارے لوگ تعلیم کی کمی کا شکار ہیں تو اپنی زبان میں بات کرنا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے تاکہ آپ کی بات ہر کوئی سمجھ سکے ،ہم نے دیکھا انڈیا کا وزیر اعظم امریکہ میں برطانیہ میں اپنی زبان میں بات کرتا ہے ترجمان وہاں کے لوگوں کے لئے اس کا ترجمہ کرتا ہے ۔لیکن ہم نے خود کو نہ جانے کیوں دوسرے نمبر پر رکھا ہوا ہے جس طرح ہم اُن کے لئے دوسرے نمبر پر ہیں اسی طرح وہ بھی ہمارے لئے دوسرے نمبر پر ہیں ۔ہم اُن کے لئے بات نہیں کرتے ہم اپنے لوگوں کو سنانے کے لئے بات کرتے ہیں تاکہ پتہ رہے کہ ہمارے لیڈر نے کیا بات کی ہمیں پتہ ہونا چاہئے کہ آپ امریکہ برطانیہ یا دوسرے اور ممالک میں جا کر کیا بات کر رہے ہیں ۔شکوک اور شبھات بھی مٹ جائینگے اور ہمیں یہ فخر بھی ہوگا کہ ہمارے بڑے اپنی زبان کو اہمیت دیتے ہیں اور اپنی زبان میں بات کرتے ہیں ۔
ہماری عدالتوں میں اردو بولی جاتی ہے لیکن فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں کیوں یہ ہمیں کبھی پتہ نہیں چل سکا کہ یہ فیصلے ہمارے لئے ہوتے ہیں یا مغربی دنیا کو بتانے کے لئے ۔آفسوں میں اردو بولی جاتی ہے مگر کارروائی انگریزی میں لکھی جاتی ہے کیوں ۔نہیں پتہ ۔درخواست فارم بھی انگریزی ہی میں ہوتا ہے اور عام شہری وہ درخواست لئے مارا مارا پھرتا ہے کہ کوئی اسے بھر دو ۔کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہم اپنی زبان کو اہمیت نہیں دیتے جو سب سے زیادہ اہم ہے ہمارے لئے ۔ہمیں اُمید ہی نہیں یقین ہے کہ نئی حکومت ان باتوں پر نظر کرے گی دیکھنے میں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں قومی زندگی پر بہت اثر انداز ہوتی ہیں ۔اپنی زبان میں تعلیم دے کر دیکھیں کیسے کیسے دماغ اآپ کو ملیں گے ۔کتنے لیڈر سامنے آئینگے، کتنے صنعت کار ملینگے ،کتنے استاد ملینگے ۔جو محض زبان کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔خدا را اپنی زبان کی اہمیت کو سمجھو ۔نمبر ایک بنو۔ دو نہیں ۔
ملک میں تبدیلی اآئی ۔بہت ہمت ملی ۔پرانے چہرے غائب ہو گئے یا صرف تنقید کرنے ۔میڈیا پر آنے اور مخالفت کرنے کو باقی رہ گئے ۔ورنہ ایسی صفائی ہوئی کہ تصور بھی ناممکن تھا مگر اللہ جب چاہے جسے چاہے، جہاں چاہے کھڑا کر دے ۔ جب چاہے رحم اور کرم کی بارش کر دے ۔یہ ہم انسانوں پر لازم ہے کہ اُس کا شکر کریں جب کبھی بھی وہ ہمیں کسی مشکل سے نجات دے ۔مگر ابھی بہت کچھ عجیب و غریب سننے کو مل رہا ہے میڈیا ایک دم پلٹ گیا ہے ۔اچھی بات ہے لیکن جس طرح آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں وہ ہمیں کسی طور بھی سمجھ میں نہیں اآرہا ۔کیا انہیں بھی پرانوں کے جانے کا غم ہے کہ وہ ہی ان کے لئے ریٹنگ کا گراف تھے ۔نہ جانے کیوں ہمیں محسوس ہورہا ہے کہ کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہیلی کاپٹر ہے ۔یا پھر پنجاب کا وزیرِ اعلی ہمیں کسی کی عقیدت اور حاضری دینے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن کچھ دَم تو لو کچھ سانس تو لو ۔اتنے بڑے بڑے مسئل سامنے ہیں اُن سے نمٹ لو پھر بزرگوں کے مزاروں پر جائو تاکہ دعا مانگنے میں بھی دل لگے اور حاضری پر بھی کوئی سوال نہ اُٹھے ۔ہم بھی بزرگوں سے انتہائی عقیدت اور احترام رکھتے ہیں لیکن ملکی حالات سامنے رکھ کر کام کرو تاکہ تنقید کے مزید دروازے نہ کھلیں ۔
ہمیں افسوس ہے کہ ایک ڈی ،پی ،او ،کے مسئلے کو جس طرح میڈیا اُچھال رہا ہے لگ رہا ہے قیامت آگئی ہے ۔سارے بڑے مسائل جن پر نئی حکومت کام کر رہی ہے اُن کا زکر کہیں نہیں ہے ۔سوائے چند اینکرز کے جو تنقید میں ثبقت لے جاتے ہیں تقر ریوں پر جیسے وہ سب کچھ اندر کا حال جانتے ہیں تو ہماری تو نئے وزیرِ اعظم سے التجا ہوگی کہ اپنی کیبنٹ ان اینکرز کے مشورے سے بنائیں تاکہ آپ کو کچھ سکون سے کام کرنے کا موقعہ مئیسر آسکے ۔ورنہ آپ کتنے ہی اچھے کام کر لیں یہ اپنا تجربہ اآپ پر مسلط کرتے رہینگے ۔ہمیں لگتا ہے کہ کوئی ملک کو کتنا ہی اچھائی کی طرف لے جانے کی کوشش کرے یہ نظر بٹو اُسے کبھی بھی ہضم نہیں کرسکینگے ۔کیونکہ انہیں صرف کیڑے نکالنے کا شوق ہے ۔ہمیں حیرت ہے کہ کم از کم سو دن کی مہلت تو دو ۔ہم صرف پاکستان کے حق میں ہیں ۔ہمیں ان تنقیدوں میں پاکستان کی بہتری کہیں بھی نظر نہیں آرہی ۔سب کو متحد ہو کر اچھے مشورے دینے چاہئیں ۔تاکہ ہم ایک اچھی حکومت وجود میں لا سکیں ۔کام پاکستانی ہی کرینگے ۔فرشتے نہیں آسکتے ۔
ہماری ملکی تاریخ میں ایسے ایسے واقعات بے شمار ہیں جن کی کڑیاں ملائیں تو عجیب سی کیفیت ہوتی ہے ۔ماضی میں جھانکیں تو لگتا ہے کہ ملک کی قسمت سے کھیلنے کے لئے اس کے اپنے مکین سب سے آگے ہیں ۔شریفوں کے بعد اب زرداری اور تالپور لپیٹ میں ہیں ۔ہمارے ملک کے تَر دماغ وکیل اُن کے دفاع کو بالکل تیار ہیں ،جیسے شریفوں کی کرپشن پر کہیں آگ نے پردہ ڈالا کہیں ساتھیوں نے رستے دکھائے ،کہیں جعل سازی کام آئی ،تو کہیں جھوٹ نے پہرہ دیا ،اب زرداری اور تالپور کے لئے بھی سب کچھ صفائی کے ساتھ لپیٹ دینے کا عندیہ ہے ،وکیل تیار ہیں گواہ چُست ہیں ۔بچانے والے آگے آگے ہیں ۔کیونکہ ہمارے ان ہی قانون کے رکھوالوں نے قانون کو کبھی پنپنے نہیں دیا ۔وہ سوزوکی کون بھولا ہوگا جس میں ڈبے بھر بھر کر لے جائے گئے ۔اس وقت ہمیں امید ہے کہ ہمارے پی پی پی کے جوان چئیر مین ضرور اپنے گھر سے احتساب کی شروعات کرینگے ۔کیونکہ ہمیں اپنے جوانوں پر بہت بھروسہ بھی ہے اعتماد بھی ۔ہمیں اُمید ہے کہ آپ حق اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونگے کرپشن کے ساتھ نہیں ۔ کم از کم حلفیہ بیان حلفیہ ہی ہونا چاہئے ۔
جن ملکوں کے قانون اور اور عدالتیں فعال ہوتی ہیں وہاں کوئی مائی کا لعل بچ نہیں پاتا ۔سزا سب کے لئے ایک ہوتی ہے وہ عام آدمی ہو یا خاص ۔یہاں آگ چُن چُن کر اُن جگہوں کو نشانہ بناتی ہے جہاں ریکارڈ ہوتے ہیں میٹرو کے ،دانش اسکول کے سستی روٹی کے ،اورنج ٹرین کے چھپن کمپنیوں کے لیکن کوئی تحقیق نہیں کی جاتی کہ ان ہی جگہوں پر آگ کیسے لگی جہاں سارے حساس ریکارڈز تھے ۔ہم تو آگ کو بھی داد دینگے کہ کیا چھانٹ چھانٹ کر بچایا ہے پکڑے جانے والوں کو کہ نہ کوئی ثبوت ہوگا نہ تم پکڑے جائوگے ۔اسی طرح ہر اہم حادثے کے گواہ قتل ہو جاتے ہیں کیسے کوئی نہیں جانتا نہ ہی کوئی تحقیق ہوتی ہے ۔جب تک یہ تمام کمزوریاں پکڑی نہیں جائینگی اصلاح کا ہونا ناممکن ہی ہوگا ،
کہتے ہیں نئی کابینہ میں زیادہ تر لوگ نون لیگ ہی کے ہیں اور اُن ہی مقدموں میں ملوث ہیں جو نیب کو مطلوب ہیں اب ہم کیا کہیں ۔کاش ہمارے اینکر ہمیں بھٹکائیں نہ، یا اگر یہ باتیں سچ ہیں تو وزیرِ اعظم کو صفائی دینی چاہئے بے شک اُن کے پاس اتنے لوگ نہیں ہونگے مگر شاید اُن کے پاس جوان دماغوں کی کوئی کمی نہیں ہے انہیں سامنے لائیں اُن سے کام لیں تجربہ ضرور ہونا چاہئے لیکن جب آپ کوئی کام دینگے ہی نہیں تو تجربہ کہاں سے آئیگا اس لئے نئے دماغوں کو بھی آزمائیں ۔اپنی زبان کو رائج کریں آپ سب ہی سب کے دل میں اُتر جائینگے ۔دوسری زبانیں ضرور پڑھیں لکھیں عبور حاصل کریں لیکن اپنی زبان کی قیمت پر نہیں ۔
چمچوں سے تعریف کرنے والوں سے خود کو دور رکھیں کہ تباہی کے زمے دار یہ ہی ہوتے ہیں اور یہ ہی سب سے پہلے ہاتھ جھاڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔جیسا کے ایک صاحب ابھی سے دُہائی دے رہے ہیں ہمیں تو کوئی اچنبھا نہیں کیونکہ ہم جانتے تھے کہ ایسا ہی ہوگا ۔کچھ لوگ اپنی تعریف خود ہی کرنے لگتے ہیں اس لئے ہم اُنکی توصیف کیا کریں کہ ہونا تو یہ ہی تھا ۔اینکر بھی ہیں تو کھلی چھوٹ ہے جو چاہے کہیں اور جیسے چاہیں کہیں یہ اُن کا طرئہ امتیاز ہے ،مگر آپ کہتے ہیں میں پاکستان ہوں خدا را اس جملے کی توہین نہ کیجئے گا اگر آپ پاکستان ہیں تو پاکستان تو چھوٹی چھوٹی باتوں کو خاطر میں بھی نہیں لاتا وہ تو بڑے کاز پر یقین رکھتا ہے اس لئے اپنی زات پیچھے کریں تاکہ آپ یہ کہنے کو ثابت کر سکیں کہ“ میں پاکستان ہوں “ آپ تو ابھی سے پھِسَل رہے ہیں ۔۔۔۔
نون لیگ نے صدارتی امیدوار کے لئے مولانا کو نامزد کر دیا ہے ۔حیرت ہے کہ جنہوں نے یومِ آزادی کو نہ منانے کا اعلان کیا انہیں صدارت کی کرسی کا اہل کیا جارہا ہے ۔ہمارے پاس سوائے عَش عَش کرنے کے کچھ نہیں ۔پی پی پی نے ایک اچھا اُمیدوار پیش کیا ہے اعتزاز صاحب ایک زیرک اور تجربہ کار انسان ہیں ۔جو ایک اچھا مقابلہ دیں گے ۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ نئے آنے والوں کو عقل و شعور عطا فرمائے اور اچھے فیصلے کرنے کی توفیق دے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY