دنیا محبت سے محبت کا جواب دیتی ہے۔ شمس جیلانی

0
86

پچھلے دنوں دنوں شہزادہ محمد بن سلیمان امریکہ کے دور ے پر تھے۔ا یک ارب ڈالر کا اسلحہ کاآرڈر امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے ہی دورے پرحاصل کرلیا تھا ،اب دوسرے ایک ارب ڈالر کا اسلحہ موجودہ دورے میں سعودی ولی عہد نے کیا ہے۔ اگر یہ بھی پہلے ہی آرڈر کا تسلسل ہے تو اور بات ہے ورنہ نہ جانے ایسے کتنے آرڈر انہیں اور دینے پڑیں گے۔ مگر اس سے ان کے مسائل گھٹیں گے نہیں بڑھیں گے ۔ ہم اس سلسلہ میں انہیں الزام اس لیے نہیں دیتے کہ ا جدادکی برائیوں پر بیٹے کو پکڑنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔اور اگر کوئی باپ دادا کا مذہب ترک کرکے تائب ہوجا ئے تو اسے پچھلی برائیوں کو یاد دلانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ بشرطِ کہ اس نے توبۃ النصوح کی ہو؟ توبۃ النصوح کی پہچان ،حضور (ص) کے ا رشادات عالیہ کے مطابق یہ ہے کہ وہ آئندہ ان بر ائیوں کو نہ دہرا ئے جو پہلے وہ کرتا رہا ہے۔ اور وہ یہ اپنے کردار سے بھی ثابت کرے؟ انہیں یہ ماننا پڑے گا کہ ان کے آبا و اجداد وہ لوگ تھے جنہوں نے شدت پسندی یہ کہہ کر روشناس کرائی کہ فقہ حنبلی میں بہت سی بدعات آگئی ہیں، ان کو ہم دور کریں گے۔ اس وقت کے مسلمانوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی کہ یہ نجد کا اندرونی معاملہ ہے۔ اور مطمعن یوں تھے کہ اس سے پہلے کسی مسلمان نے اپنے عقائد کو کسی فرقہ پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی تھی؟
صورت حال وہاں سے بگڑی جب انہوں نے نجد کے ساتھ حجاز پر قبضہ کرلیااور حرمین میں اپنے عقائد پوری امت پر نافذ کردیے اور ذریعہ حکمرانی کے طور پر شدت پسندی کو نافذ کردیا کیونکہ ان کا شیخ سے معاہدہ ہی یہ تھا کہ حکمراں آل سعود رہیں گے اور فتویٰ آلِ شیخ کا چلے گا اور اس کے فروغ کے لیے وہاں انہوں نے وہ کیا جو اس سے پہلے کسی حکمراں نے نہیں کیا تھا۔ نئے فقہ کے استحکام کے لئے ایک صدی تک ان کے تمام ادارے شدت پسندی پڑھاتے رہے۔ اور اس طرح اس کے چھوٹے ، چھوٹے پاکٹ تمام دنیا میں بن گئے جبکہ مسلم اکثریت نے اسے آجتک پسند نہیں کیا ۔ اگر وہ شروع میں ہی اپنی نیتیں نیک رکھتے اور دائرہ حرم تک نہ بڑھا بھی لیا تھاتے تو اس سے آگے نہ بڑھتے یہ ان کے لیے بہت اچھا ہوتا، کیونکہ اس سے پہلے ترکان عثمانیِ پہلے بھی صدیوں تک حکومت کرتے رہے ہیں۔مگر ا نہوں نے دائرہ آگے تک بڑھا کر وہاں جو کچھ کیا وہ طویل داستان ہے جوکہ ملت اسلامیہ کو پسند نہیں آئی۔ لیکن وہ ان کے اجداد نے کیا تھ، اس کے ذمہ دار موجودہ حکمراں میرے نزدیک نہیں ہیں اور ان کا پریس کانفرنس میں یہ ماننا کہ اسلام ایک معتدل مذہب ہے بہت بڑی تبدیلی ہے۔ بقول ان کے وہ وہاں کے لوگوں کو بڑی مشکل سے سمجھا پائے ہیں۔ مگراس پر مسلسل عمل کی ضرورت ہے۔ تب کہیں جاکر ایک صدی تک جو بیج بوئے ہیں ۔ اس کے نقوش مٹ سکیں گے؟ لیکن یہ بڑا مشکل کام ہے ؟ اس لیے کہ برائی کو پھیلانا بڑا آسان ہے مگر اس کے برعکس وہ عقیدہ کی شکل ختیارکرلے تو اس کے مقابلہ میں بھلائی کو پھیلا نا بہت مشکل ہے ۔اس کے لیے تمام دنیا اور اپنے عوام کے دل موہ لینے کے لیے سب کے دلوں کی تسخیر کرنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ ساری دنیا کے انسانوں کوفوج اور جدیداسلحہ کی مدد سے قتل تو کیاجا سکتا ہے مگر ان کے دل میں اپنی محبت زبردستی نہیں ڈالی جاسکتی۔ حالانکہ ان کے ہر سال حج کے بہترین انتظامات اور حرمین کی توسیع کے سب معترف ہیں ۔ اب کرنے کے کام یہ ہیں ۔ کہ پہلے حکمراں تقویٰ اختیار کریں جو کہ ا مت خادمِ حرمین شریفین میں دیکھناچاہتی ہے، لڑنے بھرنے کی پالیسی ترک کرکے“ جییو اور جینے دو“ کی پالیسی اختیار کریں پھر دیکھیں گے کہ سب دل سے احترام کریں گے نہ فوج کی ضرورت پڑے گی نہ ہتھیاروں کی؟ پڑوسیوں سے صلح کرلیں، اپنے عوام کی بہبود کی فکر کریں جیسے کہ پہلے کی تھی جبکہ میری معلومات کے مطابق اب عوام سے وہ تمام سہولتیں لی جاچکی ہیں ۔ جو آج سے پچاس پہلے دی گئیں تھیں۔ کیونکہ وقت کے ساتھ شہزادوں اور شہزادیوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ، ا ن کے ہی خرچے پورے نہیں ہوتے ہیں۔ عوام کو کہاں سے دیتے۔ پھر دنیا پر خلافت کاشوق جس کی وجہ سے دشمنیاں بڑھیں! لہذا فوجی اخراجات ان کے سوا ہیں ۔ اس کے لیے کہ “جئیو اور جینے دو“ کی پالیسی اپنائیں بجائے ایٹم بم بنانے اور ہتھیاروں کے دووڑ میں شامل ہونے کہ ۔اورجو جن بوتل سے باہر آچکا ہے اس کو واپس بوتل میں بند کرنا بہت مشکل ہے۔ پہلے بھی یہ مسلمانوں سے سات سو سال میں نہیں ہوسکا تھا جوکہ ہلاکو اور چنگیز خان نے بعد میں کیا۔ کہ وہ اپنی فوج میں صرف اپنے ہی آدمی رکھتے تھے۔ ورنہ ہوتا یہ تھا کہ آج کی طرح ہر کونے میں فدائین چھپے ہوئے تھے جس نے سر اٹھایا اپنی جان سے گیا؟
اس میں کوئی شک نہیں ہے جو انہوں نے فرمایا کہ اسلام ایک معتدل دین ہے۔خود اللہ نے اس ا مت کو امتِ وسطیٰ فرمایا ہے۔ رہا اسلام کا ہائی جیک کرنا، وہ پہلی صدی میں ہی خوارج نے ہائی جیک کرلیا تھا اورا نیسویں صدی میں جب خود ان کے آباو اجداد نے شدت پسندی کو رواج دیاتو ہائی جیکنگ دوبارہ عام ہوگئی ہے۔ اب اس کی چھوٹی چھوٹی پاکٹس ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ پچھلی صدی سے اب تک جتنے مسلمان خود مسلمانوں نے مارے ہیں اتنے کسی اور نے نہیں ؟ امن اپنائیں تو تمام دنیا کے مسلمان ان کی جانثار فوج بن جائیں گے۔جنگ سے اگر مسائل حل ہوتے تو سب کرلیا کرتے۔اللہ مسلمانو کو فہم عطا فرمائے۔ آمین

SHARE

LEAVE A REPLY