پاکستان نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “پاکستان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو غیر ضروری اور بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے امریکہ سے شدید احتجاج کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیابی سے جنگ لڑی جس کی اس نے بھاری فوجی، اقتصادی، سیاسی اور سماجی قیمت ادا کی ہے۔

ٹوئٹر پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں جنرل باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی ان قربانیوں کا دنیا کو اعتراف کرنا چاہیے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے اور وہ آئندہ بھی اس ضمن میں اپنا کردار جاری رکھے گا لیکن پاکستان کا وقار اور اس کی سلامتی ہمیشہ مقدم رہے گی۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے امریکی نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کو اتنی امداد دینے کے باوجود اُس نے امریکہ کے لیے کچھ نہیں کیا۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے ٹوئٹس میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت اور افغانستان میں پاکستان کے کردار پر سخت تنقید کی تھی۔

اس سے قبل منگل کو پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور پال جونز کو دفترِ خارجہ طلب کر کے صدر ٹرمپ کے بیانات پر انہیں “پاکستان کی مایوسی” سے آگاہ کیا۔

بیان کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے امریکی ناظم الامور پر واضح کیا کہ پاکستان سے متعلق ایسے بے بنیاد بیانات کسی طور قابلِ قبول نہیں ہیں۔

اسامہ بن لادن سے متعلق دیے گئے صدر ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ نے امریکی سفارت کار کو یاد دلایا کہ پاکستان کی طرف سے انٹیلی جنس تعاون کی وجہ سے ہی اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے بارے میں ابتدائی شواہد ملے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک نے قربانی نہیں دی ہے۔

تہمینہ جنجوعہ نے مزید کہا کہ امریکہ کی قیادت نے متعدد مواقع پر خطے میں دہشت گردی کے خطرے اور القاعدہ کی قیادت کو ختم کرنے میں پاکستان کی طرف سے فراہم کیے جانے والے تعاون کو تسلیم کیا ہے۔

صدر ٹرمپ اوول آفس میں روئیٹرز کے ساتھ اپنے انٹرویو میں ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ 20 اگست 2018
SEE ALSO:
پاکستانی سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ القاعدہ کے متعدد رہنماؤں کو پاکستان کے تعاون ہی سے ہلاک یا گرفتار کیا گیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق افغان تنازع کے سیاسی حل کے لیے پاکستان اور امریکہ خطے کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور ایسے موقع پر تاریخ کے بند باب سے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے ناگزیر تعاون متاثر ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعد ٹوئٹر بیانات میں پاکستان سے متعلق سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر سخت تنقید کی تھی۔

اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر نے کہا تھا کہ “ہم اب پاکستان کو اربوں ڈالر نہیں دے رہے کیونکہ وہ ہم سے پیسہ لے رہے تھے اور کر کچھ نہیں رہے تھے۔ اس کی پہلی مثال اسامہ بن لادن اور دوسری افغانستان ہیں۔”

SHARE

LEAVE A REPLY