اس کےبعد یہ روایت بھی ملا حظہ فرما ئیے جسے امام احمدؒ نے ہی حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فر ما یا کہ ایک دن حضور ﷺ نے حضرت فا طمہ،حسن اور حسین کی طرف اشا رہ کر کے فرما یا کہ“ جو تم سے جنگ کر ے گا میں اس سے جنگ کرونگا جو تم سے صلح کر یگا اس سے میں صلح کرونگا“ امام احمدؒ ہی کہ یہاں ایک دوسری روایت ملتی ہے اس کے راوی بھی ابو ہریرہ ؓ ہیں کہ ایک دن حضور ﷺ کو ہم نے آتے دیکھا تو ایک کاندھے پر حضرت امام حسنؑ تھے اور دوسرے پرامام حسینؑ تھے ایک مر تبہ وہ ایک کامنھ چومتے تھے اور کبھی دوسرے کا، حتیٰ کہ وہ ہما رے پاس پہنچ گئے، تو میں نے پو چھا کہ آپ ان سے بہت محبت فرماتے ہیں؟ تو آپﷺ نے جواب میں فرما یا کہ“جو ان سے محبت کر تا ہے وہ مجھ سے محبت کر تا ہے جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے“جبکہ اسی مضمون کی ایک روایت امام تر مذی ؒ لا ئے ہیں جو انہوں نے بہت سے راویوں سے روایت کی ہے اور اس کو حسن ِ صحیح کہا ہے۔ جبکہ اس کو بھی حضرت امام احمد ؒ نے بھی بیان کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک دن حضور ﷺ نے حسنؑ اور حسینؑ کو دیکھا تو فرما یا کہ“ اے اللہ!میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر “۔اس کے بعد امام احمد ؒ پھر ایک حدیث روایت کر تے ہیں جو کہ بہت سے حوالوں کے ساتھ ہے کہ ہم حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت حسنؑ اور حسینؑ بھی ایک طرف بیٹھے تھے اور جیسے ہی حضور ﷺ سجدے میں تشریف لے جا تے تو وہ حضور ﷺکی پشت پر سوار ہو جا تے اور حضور ﷺ ان کواحتیاط سے اتار دیتے اور پھر نماز میں مصروف ہو جا تے،حتیٰ کہ آپ ﷺ نماز سے فا رغ ہوگئے اور ان کو اپنی دونوں رانوں پربٹھا لیا، تو حضرت ابو ہریرہ ؓنے پوچھا کہ میں ان کو ان کی ماں سلام اللہ علیہاکے پاس نہ پہنچا آؤ ں؟ راوی بیان کر تا ہے کہ پس بجلی چمکی اور حضور ﷺ نےفر ما یا“ تم اپنی ماں کے پاس چلے جا ؤ“اس کی رو شنی ٹھہر گئی حتیٰ کے وہ ماں کے پاس چلے گئے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی احادیث ہیں اور بہت سی آیات ہیں جو ان کی فضیلت کو ثابت کرتی ہیں۔ لیکن نہ مان نے والے ان کی تفہیم ہی کچھ اور کر تے ہیں۔ میں نے اپنی کتابوں میں انکا ذکر بھی کیا ہے جبکہ ان کو ثابت کرنے کے لیئے بھی میں نے حضور ﷺ کے عمل کو بطور ِ ثبوت پیش کیا ہے۔ جیسے کہ آیتِ مودۃ، تطہیر، مباہلہ وغیرہ۔ یہاں صرف ہم آیت ِ مودۃ کو لیتے ہیں اور اس کے دائرے کو تھوڑااور بڑا کر دیتے ہیں کیونکہ اس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبانی اپنے قرابتداروں سے محبت کر نے کو فر ما یا ہے جبکہ دوسری آیات میں ان کی عظمت بیان فرما ئی ہے۔ جس کی تفسیر کے لیئے کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں؟ ہم نے حضور ﷺ کے عمل سے مثالیں پیش کیں ہیں اور اس سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس سے مراد کون لوگ تھے؟۔ تو کیا اس میں بھی منکرین کے نزدیک حضرت علی، فاطمہ، حسن، حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین نہیں آتے، جوا ب آپ پر چھوڑ تا ہوں؟
ابن ِ کثیر ؒ نے متعدد حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے جس کی را وی ام المونین حضرت ام ِ سلمہ ؓ ہیں کہ“ انہوں ؓنے فر ما یا کہ جب حسین شہید ؑ ہو ئے تو میں نے جنات کو نو حہ کرتے سنا جس کے الفاظ یہ تھے۔اے حسین کو جہالت سے شہید کر نے والو، تمہیں عذاب اور سزا کی بشا رت ہو، تمام اہلِ آسمان ہی نبیں اور سب لوگ تمہا رے خلاف بد دعا کر رہے ہیں، تم پر دا ؤد ؑ،موسیٰ ؑ اور صاحب ِ انجیل (عیسیٰ) ؑکی زبان نے لعنت کی ہے ًاسی مضمون کی اور بھی بہت سی روایات ہیں۔ جن کو طوالت کے خوف سے ہم یہاں درج نہیں کر رہے ہیں۔ یہ بھی یہاں ہم نے اس لیئے پیش کی کہ یہ روایت اس بات کو جھٹلا تی ہے، جنہیں یزید کو آپ اپنے دربار میں پہلے ڈینگیں ما رتے ہو ئے پڑھ چکے ہیں۔ جوکہ اس نے قافلہ اہلِ بیت کو مخاطب کرتے ہو ئے بار بار کہے تھے، کہ“اللہ نے ہما رے حق میں فیصلہ کر دیا ہے“ چونکہ یہ روایت مسند احمد میں ہے اور اسے امام احمد ؒ نے درج کیا ہے اور اس کو حسن صحیح کا درجہ دیا ہے۔
ابھی ساٹھ ستر سال پہلے تک ہمارا یہ عالم تھا کہ ہر توب اور امامہ پہن کر آنے والے کو ہم عرب سمجھتے تھے اور حضور ﷺ کا رشتہ دار ہو نے پر قیاس کرکے ان کے ساتھ احترام کا بر تا ؤکر تے تھے۔ جبکہ خوارج کے اتباع میں ہم نے اب سب کچھ چھوڑ دیا؟ بقول ابن ِ کثیر ؒکے اس ضد میں خوارج نے یکم محرم کو عید منا نا شروع کردیا کہ شیعانِ علی ان تا ریخوں میں غم منا تے ہیں اور جلوس نکا لتے تھے۔ للہ سوچیئے کہ آپ کس کا اتبا ع کر رہے ہیں اور کس کو دکھ پہونچا رہے ہیں؟ کیا یہ ہم ظلم نہیں کر رہے ہیں۔ میں اردو کے ظلم کی بات نہیں کر رہا ہوں، بلکہ عربی کے ظلم کی بات کر رہا ہوں۔ جس میں اللہ اور رسول ﷺ نے جن کے حقوق قائم کیئے ہیں انہیں ادا نہ کر نا بھی ظلم قرار دیا ہے اور اس طرح ہم اس ظلم کے مر تکب ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سوچنے، سمجھنے اور حضور ﷺ کی تعلیمات پر عمل کر نے کی تو فیق عطا فرما ئے اور اس پر آشوب دور میں راہ
پر چلنے کی توفیق عطا فر مائے ۔آمین













