بھابھی کیا حال ہے امی کا ۔۔۔
کیسی طبیعت ہے انکی ۔۔۔
ناشتہ کروا دیا ۔۔۔
کپڑے بدلوائے ۔۔۔ ؟؟؟
سردی بڑھ گئی ہے ۔۔۔ کمرے میں ہیٹر لگا کے گرم تولیہ پِھرا کے کپڑے روز بدلوا دیا کریں ۔۔ ورنہ بو آ نے لگتی ہے جسم سے ۔۔۔ سارا دن تو تیمار دار آ تے رہتے ہیں ۔۔۔ چھوٹی نند کا فون تھا دس گیارہ بجے ۔۔۔ اہک ہی سانس میں سوال اور ہدایات جاری کرتی ہوئی ۔۔
اچھی ہیں ۔۔۔ ناشتہ کر لیا تھا امی نے ۔۔۔ کپڑے بھی بدل دیئے ۔۔۔ دوائیں بھی کھلا دیں اب آ رام کر رہی ہیں ۔۔
سوال روز کا معمول تھا ۔۔ اور جواب بھی معمول کی ہی بات تھی ۔۔۔ سب ٹھیک ہے کی رپورٹ ملتے ہی مریم نے لائین کاٹی اور بڑی بہن کا نمبر ملا لیا ۔۔۔
آ پی گھر فون کیا ؟
امی کی خیریت معلوم کر لیجئے ۔۔۔
حفصہ بھابھی کو اتنا بھی کھلا نہیں چھوڑ دینا چاہئیے ۔۔۔ میں تو چھوٹی ہوں زیادہ کہہ نہیں سکتی ۔۔ یوں بھی ابا کے بعد اور امی کے اچانک فالج کے بعد بھائی بھابھی نے ہی تو میری شادی کی تھی ۔۔۔ کئی طرح کے لحاظ مارتے ہیں ۔۔۔ پھر کلیم کی امی بھی ہر پندرہ دن کے بعد ہفتہ بھر کے لیئے مجھے اور بچوں کومیکے بھیج دیتی ہیں ۔۔۔ کہ میرے بیٹے کا بوجھ ذرا کم ہو ۔۔
آ پ تو آ ل ان آل ہیں کوئی لحاظ نہیں مارتا آ پ کو ۔۔ ذرا کھینچ کے رکھا کیجیے حفصہ بھابھی کو ۔۔۔ ہمارے بھائی کی کمائی پر اکیلی عیش کر رہی ہیں ۔۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے سیاہ کریں یا سفید ۔۔۔۔ دیکھا نہیں شکل پہ کیسی فراغت برس رہی ہے ۔ جب آ ئیں تھیں بیاہ کر ۔۔۔تب میں اور اب میں کتنا فرق پڑ گیا ہے ۔۔
ہاں ہاں تم سے پہلے امی کی خیریت معلوم کر چکی ہوں ۔۔ محترمہ اتنی جلدی میں ہوتی ہیں مارے باندھے ہی ریسیور کان پہ رکھتی ہیں ۔ اس نے دانت کچکچائے ۔۔۔۔۔ اور امی کا خیال رکھنے کی سختی سے تاکید کر تی ہوں حفصہ کو ۔۔۔۔ فون پہ بھی دم مارنے کی مجال نہیں اس کی ۔۔۔( دونوں کا مشترکہ قہقہہ )
پھر گھنٹی بجی ۔۔۔ حفصہ کے ہاتھ سے شیشے کا گلاس چھوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا ۔۔ بچوں کے آ نے سے پہلے سمیٹنا تھا ماسی ہو کے جا چکی تھی ۔۔ بچے تھکے تھکائے گرتے پڑتے آ تے تھے اور آ تے ہی دنگل مچا دیتے ۔۔۔
حفصہ کی امی کا نمبر تھا ۔۔
کیسی ہو بیٹا ۔۔
ساس کیسی ہیں ؟
میں اور شمع بازار جا رہے ہیں سیزن کے جوڑے لینے ۔۔۔ تم تو نکل نہیں سکتیں ساس کی وجہ سے ۔۔ تمہاری اور شمع کی پسند ایک جیسی ہی ہے ۔ تمہارے لیئے بھی جوڑے دیکھ لائیں ؟؟
نہیں امی ۔۔۔
پچھلے سال بھی چار جوڑے لائے تھے ہمایوں ۔۔
ابھی تک درزی کو دینےنہیں جا سکی ۔۔۔میں پھر کسی وقت سہولت سے لے لوں گی ۔۔
دو گھنٹے سب کے فون سننے میں گل ہو گئے ۔۔۔ اب حفصہ جلدی جلدی ہاتھ چلا رہی تھی ۔ بچوں کے اسکول سے آ نے کا وقت ہو رہا تھا ۔۔۔ ساس کے لیئے پرہیزی کھانا الگ سے بنانا تھا ۔۔۔ ہمایوں نے اپنے ورکر کے ہاتھ پانچ کلو مچھلی بھجوا دی تھی ۔ حفصہ خود تو مچھلی نہیں کھاتی تھی مگر امی کافی شوقین تھیں۔ ہمایوں کا ایک ورکر مچھیروں کی کالونی سے آ تا تھا سو وہ گاہے بگاہے اس سے دریا کی تازہ مچھلی منگواتا رہتا تھا ۔۔۔ وہ صاف کرنی تھی ۔۔۔ کاش آ ج کوئی تیمار دار نا آ ئے ورنہ دو ڈھائی گھنٹے گل ہو جانے ہیں ۔۔۔
اپنی ناشتے والی چائے ٹھنڈی ہو کر تلچھٹ سی چھوڑ چکی تھی ۔۔۔ کرم ہوا جو کوئی مہمان نہیں آ یا ۔۔۔ سارے کام نمٹ گئے ۔۔۔ مگر اکثر رہ بھی جاتے تھے ۔۔۔ حفصہ نے اپنے سراپے پہ نظر ڈالی ۔۔۔ آ ج پھر نہانا رہ گیا تھا ۔۔۔ چوٹی پرسوں سے بندھی تھی ۔۔۔
امی کو ناشتہ کروانا آ سان کام نہیں تھا ۔۔۔ آ ج پاپے کھانے کا موڈ تھا ۔۔۔ سو حفصہ کو دوبارہ چائے پاپے کی ٹرے بنانا پڑی ۔ بنا ہوا دلیہ ضائع چلا گیا ۔۔۔ امی کو بٹھاتے ۔۔ ہاتھ منہ دھلاتے ۔۔ نیپکن گلے میں لگاتے اور چمچہ چمچہ کھلاتے بہت وقت لگ جاتا تھا ۔۔۔ اکثر تو ہمایوں کروا کے اپنی فیکٹری جاتا تھا مگر بعضے دفعہ جلدی بھی نکلنا ہوتا تھا ۔۔
یہی حال امی کو ہر کھانا کھلانے پر ہوتا تھا ۔۔۔ پھر بچوں کو دیکھنا ۔۔۔ ان کے فرمائیشی تو امی کے پرہیزی کھانے ۔۔۔ آ نے والے مہمان بھگتانے ۔۔ اکثر تو حفصہ کے ضروری کام اور کھانا پینا بھی رہ جاتا ۔۔ پھلوں کے ڈھیر ڈائیننگ اور فرج میں پڑے رہ جاتے ۔۔ مگر کیلا تک چھیل کر منہ میں ڈالنے کا وقت نا ملتا ۔۔۔ کتنی دفعہ تو اگلے دن جوں کا توں شاپر اٹھا کے ماسی کو دینا پڑا کہ چلو رزق کسی کے منہ میں پڑ جائے ۔۔۔ ایک دفعہ بڑی نند نے دیکھ لیا تھا تب سے خاندان میں ہر جگہ کہتی پھرتیں ۔۔۔ہماری بھاوجہ بھائی کی کمائی دونوں ہاتھوں سے لٹا رہی ہیں ۔۔۔۔۔
بھئی ہم تو جلدی جلدی میکے نہیں جاتے ۔۔۔ فون پر ہی حال معلوم کر لیتے ہیں ۔۔۔ بھابھی تنگ نا ہوں کہیں ۔۔۔
حفصہ سوچتی کاش یہ روز روز آ جایا کریں تھوڑی دیر والدہ کے پاس بیٹھیں ایک وقت کا کھانا ، دوا کھلا دیں تو میں بھی نہا دھو لیا کروں ۔۔۔ آ ج بھی رات ہی ہو گئی ۔۔۔ آ ج تو منہ تک نہیں دھو سکی ۔۔
صبح حسبِ معمول پھر دونوں نندوں کے باری باری فون اور ہدایات ۔۔۔
امی نے ناشتہ کر لیا ۔۔۔ ؟
دوا کھلا دی ۔۔۔۔ ؟
کپڑے بدل دیئے ۔۔۔۔ ؟
ان تین جملوں کا جواب پورے دن کی مصروفیت تک محیط تھا مگر حفصہ نے ایک سیکنڈ کی گھٹی گھٹی جی میں نمٹا دیا ۔۔۔۔۔
زارا مظہر













