کیوں چُپ ہو کچھ تو بولو ,عالم آرا

0
677

اس حکومت کو دو سال پورے ہوئے لیکن ہمیں ایسا لگا کہ یہ دو بہت بلند پہاڑ تھے جنہیں حکومت نے سَر کیا ہے ۔لیکن اس کی مشکلیں ابھی بہت ہیں اس لئے کہ نہ ماحول ساتھ دے رہا ہے اور نہ ہی حالات پر قابو پانا ممکن ہورہا ہے روز ایک نیا سانحہ ہے جو پہلے بھی ہوتے تھے لیکن اب ہم محسوس کرتے ہیں کہ پہلے شاید اتنی تکلیف نہیں دیتے تھے،یا ہم بے حس تھے لیکن اب ہمیں حس جیسی نعمت عطا ہوگئی ہے شاید ،کتنی ہی معصوم کلیوں کے نام زہن میں آتے ہیں کتنی ہی بے بس بیٹیوں کی سہمی سہمی سسکیاں سنائی دیتی ہیں ۔کتنے ہی معصوم لڑکے تصور میں آتے ہیں کتنے ہی مدرسوں کے نام سامنے آتے ہیں کتنے ہی قاری اور مُلا سامنے آتے ہیں ،لیکن خاموشی تھی یہ کلیاں آج بھی بھینٹ چڑھ رہی ہیں یہ بچے آج بھی بے بس ہیں کیونکہ قانون نہیں بول رہا ،کاش لٹکا دیں ان سب کو چوک پر بغیر کچھ سوچے ۔
پچھلے ہفتوں طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے طبیعت کچھ بھی لکھنے پر مائل نہ ہوئی ،لیکن جب سوچا کہ بس بہت ہوگیا اب معمول پر آؤ تو ایک ایسی صورتِ حال ہے کہ سمجھ سے باہر ۔وہ جو کہتے ہیں جتنے منہ اتنی باتیں ایسا ہی کچھ منظر نامہ سامنے آرہا ہے ۔لیکن کوئی بھی اپنے اوپر نظر کرنے کو تیار نہیں کوئی کہتا ہے سی سی پی او نے جو بیان دیا اُس پر انہیں استعفیٰ دینا چاہئے کوئی کہتا ہے بہت نا جائز بات کی انہوں نے وقت اور محل دیکھنا چاہئے تھا ،کوئی اسے عورت کی تزلیل کہہ رہا ہے تو کوئی اس پر احتجاج کر رہا ہے ۔پریس کانفرنسیں پھر شروع جو ہمارا خاصہ بن گئی ہیں کہ ضرورت ہو یا نہ ہو کانفرنس داغ دو اور پھر دیکھو کہ نشانہ ٹھیک لگا کہ نہیں ۔میں نے وہ بیان سنا مجھے تو کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی سوائے اس کے کہ اگر احتیاط کر لو تو اچھا ہے ۔چلیں انہوں نے جو کہا غلط تھا لیکن اسکی وجھہ سے کسی کار روائی میں کمی ہوئی یا کوئی مجرم کو نہیں پکڑ رہا پھر تو واقعئی غلط ہے مگر جب حادثہ ہوتے ہی ہم پہنچ جاتے ہیں سوال جواب کرنے جو کسی مہزب معاشرے میں نہیں ہوتا تو ایسے بیانات اور تکلیف دہ باتیں ہو جاتی ہیں ہم نے یہاں دیکھا ہے کہ جب تک پورا معاملہ سمجھ میں نہیں آجاتا پولیس تحقیقات نہیں کر لیتی کہ کیا ہوا ہے جب تک کوئی بات نہیں کرتا ہمیں اپنی کوتا ہیاں دور کرنی چاہئں۔
میڈیا اپنی بنسی بجا رہپا ہے کبھی گھی کی اُتار رہا ہے کبھی تیل کی ۔اینکرز کا بس نہیں چل رہا کہ کیا کریں کہاں سے کھود نکالیں خبریں چاہے جھوٹی ہوں یا سچی ،تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ آسمان گر جائے زمین پھٹ جائے لیکن اس میں ہم نہ جائیں باقی سارے چلے جائیں ،خواتین اینکرز پچھلے قصے یاد کر کر کے سُنا رہی ہیں ۔مرد کہانیاں بیان کر رہے ہیں ۔۔غرض عجب سا ماحول ہے جو ہمیں سمجھا رہا ہے کہ جب تک اپنے اندر نہ جھانکو گے اندھیرا رہے گا ،
کوئی حق میں ہے کہ مجرموں کو چوک پر لٹکاؤ کوئی کہتا یہ حل نہیں ہے مگر حل بتاتا بھی نہیں کوئی سخت سزاؤں کے حق میں نہیں کہ انسانیت اور ہمدردی اسکی رگ و پے میں بسی ہے، لیکن ہم حیران رہ جاتے ہیں کہ مجرموں سے کیسی ہمدردی اور کیسی انسانیت ؟اگر وہ انسان ہوتے انسانیت کو سمجھتے تو اتنا گھناؤنا کام کیسے کرتے لیکن ہمارے بعض لوگ انہیں سب سے بڑا انسان سمجھتے ہیں کہ عام آدمی کے لئے ھیومن رائٹ ہو نہ ہو مجرموں کے لئے لازمی ہے ،اب کیا کریں ایک ایسی مثال دینی پڑےگی جسے سُن سُن کر اب دل خراب ہوتا ہے مگر ھیومن رائتس کے اس طبقے نے ایک مجرم کو ملک سے ہی بھجوا دیا جبکہ پتہ تھا کہ سب کچھ من گھڑت سا ہے ۔کیونکہ یہ لوگ اس قدر فعال ہیں کہ سب کو اپنی سوچ سے متاثر کر دیتے ہیں ،شور مچا دیئتے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ سخت سزا حل نہیں پھر حل کیا ہے ؟؟؟؟
ہمارا معاشرہ سالوں سے تخریب کا شکار ہے ۔ہم نے روایات کو بھاپ بنا کر اُڑا دیا ۔مخالفت کو گالیوں کا جامہ پہنا دیا ،ہر بات کو منفی رنگ دے دیا ،جھوٹ کو پروان چڑھایا ۔گندی زبان کو فروغ دیا ، دھوکہ دینا برا نہیں سمجھا گیا ،غلط بیانی معیار ٹہرا ،زبان کا چٹخارہ پروگراموں کی ریتنگ بڑھانے لگا اور ایسی زبان اور اخلاق سامنے آئے کہ ہم نے لائیو پروگراموں میں ایک دوسرے کو مارتے اور گالیاں دیتے دیکھا ۔
پھر ہم نے مغرب کی تقلید کی آزادی کی طرف راغب ہوئے بغیر یہ سوچے کہ پہلے معاشرے کو تو اس قابل بناؤ قانون تو سخت لاؤ ،سزائیں تو سخت سے سخت متعارف کراؤ پھر عورت کو آزادی دینا ،پہلے اُس کا احترام تو سکھاؤ ۔عورت نے مغرب کی تقلید کی چادر اتاری پھر دوپتہ تہہ کر کے رکھ دیا ۔کہا گیا کہ ایسا مت کرو ،جواب ملا تم اپنی نظریں نیچی کر لو ۔کچھ نےتو نطریں نیچی کر لیں لیکن ہر کوئی تو اس معیار کا نہیں تھا ۔کہا گیا اگر کوئی ننگا سامنے آجائے تو حیا تمہاری آنکھوں میں ہونی چاہئے ۔تم مت دیکھو ۔ایسے ایسے بیانات اور تجزئے ہم نے سنے کہ ہمارا دل خون کے آنسو رویا ،ہم نے لکھا کہ یہ ہماری نسوانیت کو ڈس جائیں گے لیکن کسئ نے نہ سنا کیونکہ ہم دقیا نوسی ٹہرے ۔
ہم نہ عورت کی تعلیم کے مخالف کہ ہم نے خود مخلوط تعلیمی ادارے میں تعلیم پائی ،نہ ہم عورت کی ملازمت کے مخالف کیونکہ ہمارا یہ یقین ہے کہ عورت میں ہر وہ صلاحیت موجود ہے جو اسے کامیاب اور کامران کر سکتی ہے لیکن احتیاط لازم ہے ۔نسوانیت کو قائم رکھنا ہی ایک خاتون کا سب سے بڑا طرہ امتیاز ہے کہ وہ لاکھوں میں بھی بیٹھی وہ تو ایک بری نظر اسکی طرف نہ اُٹھے ۔ہم اپنی حفاظت چاہتے ہیں ،کہنے کو کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ اپنی حفاظت خود کرو ۔ کیا یہ بھی ایک عورت کے لئے دکھ کی بات نہیں کہ ٹی وی پر روز اس کے بارے میں پروگرام ہو رہے ہیں اور ہر وہ ڈھکی چھپی بات بھی سامنے لائی جارہی ہے جو صرف ادارے تک محدود رہنی چاہئے تھی ۔احترام کرو احترام کراؤ ۔لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کو بھی اخلاقی تعلیم دو تاکہ وہ بجائے بھیڑیوں کے انسان بنیں ۔
اگر یہ حکومت بھی قانون سازی نہ کر سکی یہ چیف بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ضروری ہے کہ ایسے سخت قوانین بنائے جائیں کہ کوئی بچ کر نہ نکل سکے جب تک ہم سزاؤن پر عمل نہیں کرائینگے یہ سالوں سے لگے زنگ کبھی بھی نہ نکل پائینگے یہ ادارے اپنی اصلی شکل میں نہیں آئینگے سب سے پہلے ان اداروں کو ٹھیک کرو جو جان و مال عزت اور آبرو کی حفاظت کرتے ہیں ان میں کرمنلز بیٹھے ہیں جنہوں نے ماؤن کے منہ میں گولیاں ماریں جنہوں نے حاملہ عورتوں کو گولیاں ماریں ان سے کیسے حفاظت ممکن ہے ۔اگر انہیں سزائیں دے دیتے عبرتناک سزائیں تو شاید کچھ بھلا ہوتا لیکن یہ اب بھی کھلے پھرتے ہیں کوئی پوچھ نہیں ۔
جو بھی ہورہا ہے انتہائی تکلیف دہ ہے ۔کاش ہم سب مل کر اپنے ملک کی بہتری اس کی ترقی کی طرف توجہ دیتے ۔لیکن اس حکومت کو بھی ہم نے ریاستِ مدینہ کا طعنہ دے دے کر ہر دم شرمندہ کر دیا اور دکھ یہ ہے کہ ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ جب ہم یہ طعنہ دیتے ہیں تو کتنے گنہگار ہوتے ہیں کیونکہ میہ وہ ریہاست ہے جس کی تقلید کرنا ہر مسلمان حاک کی ترجیح ہونی چاہئے وہ ریاست تو بس ایک ہی تھی لیکن اسکی تقلید کرنے کا ثواب ہر مسلمان کو ملے گا نہ کہ ہم اپنی مخالفت میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں ۔ہم سب کے لئے اللہ سے معافی کے خواستگار ہیں کیونکہ یہ باتیں ہمیں بے حسی م،ی طرف لے جا رہی ہیں ہم سب کو سنبھلنا ہوگا حق بات کریں حق کا ساتھ دیں اور سچ کی طرف آئیں تاکہ ہم پر رحم ہو
اللہ ہمیں ان مشکلوں سے نکالے اور ہمیں ایک اچھا انسان بنائے آمین کچھ بھی بارَ خاطر ہو تو در گزر کی درخواست کیونکہ طبیعیت بہت مکدر ہے ۔اللہ اُس خاتون کو صبر دے جس کے بارے میں سوچ کر بھی دل خون کے آنسو رو رہا ہے اللہ کرے وہ معصوم بچے یہ حادثہ بھول جائیں اور زندگی میں کبھی انہیں کوئی دکھ نہ ملے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY