نادرا نئے قواعد وضوابط کے تحت پنشنرز کی بائیو میٹرک تصدیق کرے گا ۔
حکومت نے کمرشل *بینکوں کو بائیو میٹرک* تصدیق اور پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے توثیقی سائیکل سے مبرا قرار دےدیا* ۔۔ (سردار علی خان علی زئی)
حکومت نے پنشن کی ادائیگی کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق اور ثبوتِ حیات کی ذمہ داری بینکوں سے لے کر نادرا کو دے دی ہے۔
اب پنشنر کی بائیومیٹرک تصدیق نادرا کے مقررہ نظام کے ذریعے ہوگی اور اس کا حیات ہونے کا ڈیجیٹل ریکارڈ متعلقہ پنشن ادا کرنے والے سرکاری ادارے کو براہِ راست فراہم کیا جائے گا۔
بینکوں کا کردار اب بنیادی طور پر صرف پنشن کی ادائیگی تک محدود ہوگا۔ عام حالات میں بینک پنشنر سے بائیومیٹرک تصدیق یا ثبوتِ حیات کی تصدیق، وصولی یا ریکارڈ رکھنے کا مطالبہ نہیں کر سکیں گے۔
نادرا کے نظام کے تحت بینک، جہاں ضروری ہو، ثبوتِ حیات سرٹیفکیٹ کے حصول میں صرف ایک مجاز ذریعے کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
پنشن کی ادائیگی کے لیے استعمال ہونے والے پنشن اکاؤنٹ کو محض اس وجہ سے (غیر فعال) قرار نہیں دیا جائے گا۔
اس تبدیلی کے بعد پرانا کاغذی اور جسمانی تصدیقی طریقۂ کار ختم کر دیا گیا ہے، کیونکہ پنشن کی ادائیگی براہِ راست بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے نظام کے تحت کی جا رہی ہے۔۔













ریڈیو پاکستان اور نادرا کا ڈیجیٹلائزیشن ۔۔ ریڈیو کے پینشنروں کے لیئے سرد ہوا کا جھونکا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ریڈیو پاکستان) پہلا خود مختار ادارہ ہے جس نے اپنے پنشنرز کو سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کے ساتھ نادرا کے ساتھ 2000 روپے کی خطیر رقم کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ 1.5 ملین جس کے لیے ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل جناب سعید احمد شیخ کا بلاشبہ قابل تحسین ہے۔