ہم کالج کی تعلیم سے زیادہ کالج کی ڈگری کے متعلق فکر مند ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ہماری فکر کی بنیادیں ایک ایسے معاشرے میں تیار ہو رہی ہیں ۔ ۔ ۔ جہاں اگر آپ کسی سٹوڈنٹ کو یہ کہیں کہ آپ سائنٹسٹ نہیں بن سکتے یا آرمی میں نہیں جا سکتے یا اسکالر نہیں بن سکتے یا ڈاکٹری نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ تو یہ اس سٹوڈنٹ کیلیے بہت ہی طوفان خیز اور دردناک و عظیم صدمہ ٹھہرے گا ۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ وہ بے انت سوچے اور خودکشی کے فیصلے پر جا لگے ۔ ۔ ۔
والدین ، اساتذہ ، پروفیسرز ، اسکالز اور معاشرے وا ملت و ملک و قوم کی رہبری کرنے والوں نے اس نسل کی تربیت میں عظیم کوتاہی کا ارتکاب کیا ۔ ۔ ۔ اور اس نسل کو نہیں بتایا ۔ ۔ ۔ کہ کوئی بات نہیں اگر آپ ڈاکٹر نہیں بنے ۔ ۔ ۔ اٹس اوکے اگر آپ انجینئیر نہ بن سکے ۔ ۔ ۔ ہر کوئی ڈاکٹر ، یا انجینئیر یا شاعر یا ارٹسٹ نہیں بن سکتا ۔ ۔ ۔ پیرنٹس کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اگر آپ کا بچہ ہارورڈ میٹیرئیل نہیں ہے لیکن وہ ایک اچھا جینٹلمین یا ینگ لیڈی ہے ۔ ۔ ۔ اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نالائق یا بے صلاحیت ہے ۔ ۔ ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ایک وقت میں دن و رات یا سورج و چاند نہیں ہو سکتا ۔ ۔ ۔
جانِ عزیز فرق نہیں پڑتا کہ ہم میں سے ہر کوئی اسکالر ، دانشور ، ڈاکٹر ، سائنٹسٹ ، انجینئیر ، شاعر ، ادیب یا کسی شعبے کا ماہر نہیں ہے ۔ ۔ ۔ لیکن فرق پڑتا ہے اگر آپ ایک سلجھے ہوئے متوازن عاقل اور شریف و نرم خو انسان نہ ہوں ۔ ۔ ۔ بہت ممکن ہے کہ آپ سب اسکالر نہ ہوں ۔ ۔ ۔ لیکن آپ سب انسان ضرور ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور بہت ممکن ہے آپ اسکالر ہوں لیکن مہذب انسان نہ ہوں ۔ ۔ ۔
اور یہی انسانی تہذیب یا عام فہم الفاظ میں انسانیت ہی وہ چیز ہے ۔ ۔ ۔ کہ دنیا کی تمام تعمتیں بشمول مال و زر و زن و زمین اور تمام تر نفسیاتی و جذباتی و جسمانی لذتیں حاصل کر چکنے کے بعد انسان آخر کو یہی آ کر رُک جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ساری چیزیں انسان کو کسی خاص مقصد کیلئے فراہم کی جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ یہ وہ وسائل ہیں جس کو بروئے کار لا کر انسان کو سفر کرتے ہوئے کسی معین منزل تک جانا ہے ۔ ۔ ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے ۔ ۔ ۔ یہ مطلقََ فطری بات ہے ۔ ۔ ۔
مثلاََ آپ کو کہیں کسی دوسرے شہر جانا ہے ۔ ۔ ۔اس منزل تک پہنچنے کیلئے آپ کو بہت سے وسائل ، معلومات وغیرہ فراہم کی جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ سب سے پہلے تو آپ کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ آپ کہاں اور کیوں جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ یعنی مقصد کیا ہے ۔ ۔ ۔ پھر آپ کو نقشہ فراہم کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اس راستے سے جائیں ۔ ۔ ۔ یہ آسان ہے محفوظ ہے اس میں زیادہ مشقت نہیں ہے وقت کم لگے گا بھٹکیں گے نہیں ۔ ۔ ۔ پھر آپ کو سامانِ سفر یا وسائل سفر مہیا کیے جاتے ہیں یا بتا دیا جاتا ہے کہ یہاں سے آپ کو مثلاََ گاڑی مل سکتی ہے ، راستے میں چونکہ سردی شدید ہے تو گرم رکھنے کیلئے کپڑے اور گرم خوراک فلاں جگہ سے مل جائے گی ، خوراک کی ضرورت ہو گی ۔ ۔ ۔ فلاں جگہ آرام کے لیے مناسب ہے ۔ ۔ ۔ راستے میں گاڑی کے بھی مختلف قسم کے مسائل درپیش آسکتے ہیں تو ایسے مسائل درپیش آنے کے بعد کیا کریں گے ۔ ۔ ۔ علاوہ ازیں راستے کے مختلف چھوٹۓ بڑے چھپے ہوئے اور ظاہر خطرات سے بھی آگاہ کر دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ کہ فلاں جگہ سے تیزی سے گزرنا ہے فلاں مقام میں فلاں نوعیت کا خطرہ ہے ۔ ۔ ۔ مثلاََ فلاں مقام پر خوبصورت گلستان یا کلب یا ریسٹورینٹ یا ہوٹل وغیرہ یا سٹور یا شاپ یا باغ ہے ۔ ۔ ۔ آپ کا دل ان مقامات کی خوبروئی و خوبصورتی دیکھ کر بے چھین و بے قرار ہو جائے گا لیکن یہ دراصل دھوکہ ہو گا یہاں رکنا نہیں یا رکنے کی ضرورت ہو تو حسبِ ضرورت لے کر آگے بڑھ جانا ہے ، فلاں مقام سے گزرتے ہوئے فلاں خطرہ یقینََ پیش آنا ہے ، دفاع کس طرح کریں گے ۔ ۔ ۔ اور ان وسائل کے ساتھ اس منزل تک جانے کیلئے اتنا وقت آپ کو دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ یا مثلاََ آپ کو بعض افراد کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں کہ فلاں نے یہ سفر یوں کیا اور فلاں جب فلان مقام پر یوں کر رہا ہے تو اس کا وقت ختم ہو گیا یا کہیں راستہ بھول گیا نقشہ گم کر بیٹھا وغیرہ ۔ ۔ ۔ تاکہ آپ کو ٹھیک ٹھیک اندازہ ہو جائے ۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔
یہ ہدف و مقصد کا تعین ، نقشے کی فراہمی مختلف قسم کی ہدایات و معلومات و آگاہی وغیرہ اور مختلف قسم کے وسائل و زادِ راہ کی فراہمی اور مخصوص وقت متعین کرنا اس لیے ہیں تاکہ آپ اس منزل تک پہنچ سکیں ۔ ۔ ۔
اب مثال سے باہر آئیے اور غور کریں کہ دنیا میں جتنی بھی نعمتیں ، صلاحیتیں جسمانی نفسیاتی جذباتی یا ذہنی وغیرہ ، وسائل ، تعلیم و آگاہی وغیرہ بشمول یا خصوصاََ دینی اور سائنسی تعلیم یا ٹیکنالوجی ہے وہ سب کسی مقصد تک جانے کیلئے ہیں ۔ ۔ ۔ یہ آپ رسائی دیتے ہیں ، یہ سواری ہیں ، یہ خوراک ہیں ، یہ نقشہ ہیں ، یہ مناظر ہیں ، یہ گلستان ہیں ۔ ۔ ۔
یعنی سائنسی تعلیم وسائل میں سے ہے ۔ ۔ ۔ منزل میں سے نہیں ہے ۔ ۔ ۔
اس لیے آپ کا انسان بننا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ سائنسدان یا ڈاکٹر یا انجیئیر بننا نہیں ۔ ۔ ۔ یہ وسائل ہیں ۔ ۔ ۔ جبکہ انسانیت ہدف ہے ۔ ۔ ۔
اگر آپ انسان ہیں ۔ ۔ ۔ اور آپ کو فقط دو وقت کی روٹی ہی میسر ہے ۔ ۔ ۔ تو کسی غم یا دھوکے میں نہ رہیں کہ آپ نے کچھ نہیں کیا یا آپ بے کار ہیں یا آپ کامیاب انسان نہیں ہے ۔ ۔ ۔ دراصل یہی اصل کامیابی ہے ۔ ۔ ۔ البتہ انسان ہونے کا معیار واضح رہنا چاہیے ۔ ۔ ۔
_____________
تحریر : جسٹن سنو
انتخاب: فائزہ عباس













