جنت البقیع کا تاریخی مقبرہ جہاں زین العابدین مدفون تھے، سنہ 1925ء میں مسمار کر دیا۔
علی بن حسین (پیدائش: 4 جنوری 659ء — وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والون کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد حسین ابن علی، چچا حسن ابن علی اور دادا علی بن ابی طالب کے بعد اثنا عشری شیعیت میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچد دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔
زین العابدین کے لقب سے معروف کی نسبت خاندان نبوت کی طرف ہے، یہ علی بن ابی طالب کے صاحبزادے سیدنا حسین کے بیٹے ہیں، علی بن حسین ان کا نام ہے، قرشی اور ہاشمی ہیں، ابوالحسن ان کی کنیت ہے، ابو الحسن، ابو محمد اور ابو عبد اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ سیدنا امام حسین پنے والدِ ماجدعلی سے اظہارِ عقیدت کے لیے اپنے بچوں کے نام علی رکھتے تھے۔ اسی مناسبت سے زین العابدین کا نام بھی علی ہے اور کنیت ابومحمد ،ابوالحسن، ابوالقاسم اور ابوبکر ہے،جبکہ کثرتِ عبادت کے سبب آپ کا لقب سجاد ،زین العابدین، سیدالعابدین اور امین ہے
علی ابن حسین کی ولادت علامہ ذہبی نے میں یعقوب بن سفیان فسوی سے نقل کیا ہے کہ علی بن حسین 33 ہجری میں پیدا ہوئے، لیکن میں علامہ موصوف نے یہ لکھا ہے کہ (شاید) ان کی پیدائش38 ہجری میں ہوئی ہے، علامہ ابوالحجاج جمال الدین یوسف مزّی نے بھی یعقوب بن سفیان سے سن ولادت33 ہجری نقل کیا ہے اور یہی راجح ہے۔
والدہ کا نام
علی بن حسین کی والدہ کا نام سلامہ یا سلافہ ہے، جو اس وقت کے شاہ فارس یزدجرد کی بیٹی تھیں، سیدنا عمر فاروق کے زمانہٴ خلافت میں ایران فتح ہوا تو یہ لونڈی بنالی گئی تھی۔، ابن سعد نے اس کا نام ” غزالہ“ نقل کیا ہے بعض حضرات کہتے ہیں کہ ان کی والدہ خلیفہ یزید بن ولید بن عبد الملک کی پھوپی تھی۔ آپ کی والدہ کا نام شہر بانو تھا جو ایران کے بادشاہ یزدگرد سوم کی بیٹی تھیں جو نوشیروان عادل کا پوتا تھا۔
علی اوسط کا نام
ان کو علی اوسط کہا جاتا ہے، ان کے دوسرے بھائی جوان سے عمر میں بڑے تھے، ان کو علی اکبر کہا جاتا تھا، جو معرکہٴ کربلا میں اپنے والد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل کوفہ کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔علی اوسط یعنی علی بن حسین المعروف زین العابدین رحمة اللہ علیہ بھی اپنے والد گرامی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ معرکہٴ کربلا میں شریک تھے
کربلا میں بچ جانے کی وجہ
اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 برس تھی، اس موقع پر یہ بیمار اور صاحب فراش تھے، جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو شمر نے کہا کہ اسے بھی قتل کر دو، شمر کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا : سبحان اللہ! کیا تم ایسے جوان کو قتل کرنا چاہتے ہو جو مریض ہے اور اس نے ہمارے خلاف قتال میں شرکت بھی نہیں کی؟ اتنے میں عمروبن سعد بن ابی وقاص آیا او ر کہا کہ ان عورتوں اور اس مریض یعنی علی اوسط سے کوئی تعرض نہ کرے، اس کے بعد ان کووہاں سے دمشق لایا گیا اورعزت کے ساتھ ان کو مع اہل مدینہ منورہ واپس روانہ کر دیا گیا













سید قمرؔ زیدی
انا للہ وانا الیہ راجعون
آپ ہم سے زندگی کا پوچھیے مصرف قمر
موت اک پیغام ہے اور لا رہی ہے زندگی
جدید مرثیے کا ایک معتبر حوالہ اور سلام گزار ادبی فورم انٹرنیشنل کے سرپرست ِ اعلیٰ محترم سید عباس قمر زیدی صاحب گزشتہ روز خالق ِ حقیقی سے جاملے۔ جدید دور کے ایک کامیاب مرثیہ گو شاعر سید قمر زیدی کی ولادت یکم جولائی 1949 کے روز ہوئی . شاعری کی ابتدا 1963 میں ایک قطعہ سے ہوئی جب دسویں جماعت کے طالب علم تھے . چچا مرحوم نشاط واسطی صاحب جو خود بھی شاعر تھے کی ہمت افزائی پر مزید شاعری کرنا شروع کردی . جب قمر زیدی کی ملتان میں پوسٹنگ تھی تب وہ مرحوم جناب عاصی کرنالی کے ہمساے بنے اور باقاعدہ طور پر ان کے شاگرد ہوئے. عاصی کرنالی کے ہمعصر شعرا احسان دانش اور احمد ندیم قاسمی سے بھی بہت متاثر رہے.
فرار حقیقت کبھی جرار حقیقت
آسان ہے کبھی اور کبھی دشوار حقیقت
ہوتے نہ کہیں منبر و مینار حقیقت
کہتی نہ اگر کعبے کی دیوار حقیقت
روشن تجھے رہنا ہے قمر تا بہ قیامت
بن کر سر ِ افلاک ضیاء بار حقیقت
اے جوش ولا دیر سے خاموش ہے کچھ بول
اے طائر فن مائل پرواز ہو ، پر کھول
اے صوت رثا ، گوش عزادار میں رس گھول
اے عجز ہنر ، چاہیے اک مرثیہ انمول
اے لمحہ موجود ملا مجھ سے قدم ، چل
لے رنگ مرے خون کی سرخی سے قلم ، چل
برپا ہے عزا خانے میں بزم غم شبیر
ظاہر ہے کہ آئ ہوئی ہیں زینب دلگیر
موجود ہیں چوٹی کے زباں دان و مشاہیر
سب اہل مودت ، ہیں بنے حزن کی تصویر
امید لگاے بیٹھے ہوئے ہیں رثا کی
کر بات نے ڈھب سے غم کرب و بلا کی
قمر زیدی بہ لحاظِ تعلیم ایک ڈگری یافتہ انجنیرتھے. .9 کتابوں کے مصنّف تھے ، مرثیہ نگار تھے ، یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے ، صاحب الرائے تھےاور اچھّے مقرّر بھی تھے. قمر زیدی 2007 سے سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہے اور ان کے اکثر سلام و قطعات شوشل میڈیا پر نظر آتے تھے. اسلام آباد میں ماہانہ ادبی محفل منعقد کرواتے تھے اور ان کی سر پرستی فرما تے تھے
نمونہ قطعات و رباعیات
نہ گل لبوں کو نہ آنکھوں کو جام کہتا ہوں
یہ ناز بھی کہ موثر کلام کہتا ہوں
خدا نے اس لئے انداز میں اثر رکھا
کہ اس کی حمد سے پہلے سلام کہتا ہوں
وہ جو حُب نامہِ اللُّہُ اُحد رکھتے ہیں
اُس کی جانب سے وہی اذنِ مدد رکھتے ہیں
ہے قمر آیہِ تطہیر انہی پر صادق
وہ جو انعمت علیہم کی سند رکھتے ہیں
شاہانہ شعائر میں قلندر لیے پھرنا
قطرے کے احاطے میں سمندر لیے پھرنا
خوشیاں تو مرے ضبطِ فغاں کا ہیں کرشمہ
ہر غم ، غمِ شبّیر کے اندر لیے پھرنا
مناقب و سلام
عشقِ نبی میں جب سے قمر مبتلا ہوا
حیرت سے پوچھتی ہے خرد دل سے ، کیا ہوا
پروردگار شوق سے مشکل کشا ہوا
دل کی زباں سے نامِ علی جب ادا ہوا
آیا ہے رازِ کن فیکوں کھُل کے سامنے
جونہی درِ رسولِ خدا مجھ پہ وا ہوا
آجا ، بلا رہی ہے تجھے راہِ مستقیم
توبہ کا در ہے شامِ ابد تک کھلا ہوا
پیکر کو گویا سائے کی حاجت نہیں رہی
پل بھر علی نہ قربِ بنی سے جدا ہوا؟
یہ امتیاز معجزہِ حق سے کم نہیں
خونِ حسین باعثِ خاکِ شفا ہوا
نورِ شبِ چہار دہم کی قسم ، قمر
جب سے ہوا دو نیم تو روشن سوا ہوا
میر انیس کی زمین میں
سجا کے چشمِ مودّت میں آبگینوں کو
جھُکا رہے ہیں سرِ بزمِ غم جبینوں کو
بتا دے کوئ محبّت سے نکتہ چینوں کو
نکال دیجیے اب اپنے دل سے کینوں کو
علی کے ماننے والے ہیں نا خدا ان کے
کہے گا کیا کوئ طوفان ان سفینوں کو
وہ دیکھ خاک میں ارزق اور اس کے چار سپوت
چڑھا کے آئے تھے اپنی جو آستینوں کو
بدل سکا نہ کوئ قدرتی قرینوں کو
گھڑی کی ساعتوں اور سال کے مہینوں کو
رہے گا تا بہ قیامت مدار بارہ پر
پیامِ وقت ہے دنیا کے سب ذہینوں کو
یہ اہلِ فن ہیں انہیں غور سے سُنا کیجے
کہیں گے شافعِ محشر بھی ہم نشینوں کو
تجھے بھی اذنِ سخن مل گیا قمر اِن میں
انیس عرش سے لائے تھے جن زمینوں کو
پلکوں پہ اپنی بارِ ندامت اٹھا کے لا
لیلن نظر سے اہلِ جہاں کی چھپا کے لا
زاہد مئے طہور ہے ، خالص ہی چاہیے
کس نے کہا تھا آگ میں پانی ملا کے لا؟
غیروں سے مانگ کر یا کہیں سے خرید کر
مدلم ، کہاں گئ تری غیرت ، بُلا کے لا
اُس کو سمجھ نہ آئے گی روزِ قیام تک
مُلّا کے شر سے اپنی عقیدت بچا کے لا
دل میں مقامِ آلِ محمّد کا احترام
اپنی زباں پہ نعرہِ حیدر سجا کے لا
آجا اُن ہی کے نقشِ کفِ پا کو چومتا
راہوں میں ان کی شوق سے آنکھیں بچھا کے لا
اپنی لگن کو وقفِ درِ بو تراب کر
دنیا کے فائدوں سے یہ دامن چھڑا کے لا
مولا کو تیرے رخ کی اداسی نہیں قبول
آنکھوں میں اپنی اشکِ ولا مُسکرا کے لا
مولا کریں قبول یہ آنسو بھی اے قمر
گر مل سکیں کہیں سے تو موتی وفا کے لا
امام علی ابن موسی رضا کے حضور
پئے قرارِ خرد ، دل میں روشنی کے لیے
دعائیں کرتا ہوں مشہد روانگی کے لیے
ابھی تو صرف تنفّس ہے اہتمامِ وجود
حیات مانگ کے لاوں گا زندگی کے لیے
تری امان کے سائے میں چار دن گزریں
یہی بہت ہے مری جاں میں تازگی کے لیے
رِضا رٙضا کی رضائے خدائے بھی ہے ، مومن
یہ معرفت بھی ضروری ہے آگہی کے لیے
ازل سے تا بہ ابد اک یہی حقیقت ہے
علی جہاں کے لیے ہے ، جہاں علی کے لیے
ابھی ابھی مرے دل میں خیال آیا ہے
یہ منقبت بھی سعادت ہے شاعری کے لیے
کسی یزید کو خاطر میں ، میں نہیں لاتا
کوئ غلامِ علی ہو برابری کے لیے
مجھے یہیں سے ملے گا قرارِ قلب و جگر
چنا ہے ایک یہی در گداگری کے لیے؟
غمِ حسین منانا ، مدحِ علی کرنا
ہے زادِ راہ اجل تک مسافری کے لیے
تری نظر میں قمر اُن کی نوکری کے سوا
کوئ جواز ہے مشہد میں حاضری کے لیے
شرف یہ کم تو نہیں حرفِ معتبر کے لیے
سناں کی نوک ہو دستار میرے سر کے لیے
گواہی دے گا کہ میرا لہو سفید نہیں
علم سیاہ بنایا ہے اپنے گھر کے لیے
جو اپنے آپ کو کہتے ہیں عاشقانِ نبی
تڑپنا دیکھیے اُن کا حصولِ زر کے لیے
حُسینؐ ، تجھ سے تعلّق ہے امتیاز مرا
ترا خیال ہی مہمیز ہے ہُنر کے لیے
بیاضِ مدحتِ مولا ، کتابِ سوز و سلام
یہی ہے رختِ سفر آخری سفر کے لیے
خدا نے اُن کی ولا سے نواز رکھّا ہے
یہ التفات بہت خاص ہے قمر کے لیے
وہی مکاں کی منزلت ، وہی مکیں کی آبرو
جمالِ مرتضیٰی بنی ، فلک نشیں کی ابرو
خدا کے گھر سے داخلہ ، خدا کے گھر سے رخصتی
فلک نے اس طرح رکھی ہے اس زمیں کی آبرو
کبھی وقار ہاں کا تھا ، کبھی نہیں کی آبرو
نبی کی آل نے رکھی ، خدا کے دیں کی آبرو
بنی ہے دل کی آرزو ، در۔نبی پہ حاضری
کسی طرح سے کچھ تو ہو مری جبیں کی آبرو
بسر ہوں ان کے شہر میں بھی چار دن حیات کے
رہے تری نگاہ میں بھی مجھ خزیں کی آبرو
مدحِ علی نے لے لیا مجھے پناہ میں قمر
میرا گمان بن گیا ، مرے یقیں کی آبرو
قمر زیدی کا پہلا مجموعہ مراثی “میراث” ہے جس میں پانچ مرثیے بعنوان “مقصد تخلیق انسان” ، “اہل حق” ، “استقامت” ، “اہل ظرف” اور “حُسن” شامل ہیں۔ ڈاکٹر اسد اریب اس مجموعہ مراثی کے بارے میں کہتے ہیں
“ان مرثیوں میں قمر زیدی نے شہادتِ حسینؑ کے واقعات کو اپنا مرکز ضرور بنایا ہے لیکن وہ اپنے ہدف تک پہنچتے پہنچتے ، الہیات ، اخلاق، تربیت نفس اور روحانی تصرفات کا ایسا منظر جمع کرلیتے ہیں جس کا ہر رخ زندگی کو اپنا آئینہ نما نظر آتا ہے۔ ہمارے عہد کے مرثیوں کو انیسویں صدی کے تناظر واقعات میں اجزاے خیال و سماجی عمل کے اعتبار سے یقینا ایسا ہی مختلف الحال ہونا چاہیے جیسے یہ میراث کے مرثیے ہیں”
جناب قمر زیدی کا دوسرا مجموعہ مراثی ” ولا ” ہے جس میں پانچ مرثیے بعنوان “معیار” ، “بیٹی” ، “تدبیر” ، “شعور” اور “ردا” شامل ہیں . ان میں سے قمر زیدی صاحب کا معرکہ آرا مرثیہ بعنوان ” بیٹی ” در حال سکینہ بنت الحسین علیہ بہت مقبول ہوا جس کے کچھ بند حاضر ہیں
جائز ہے ، بجا ، کیجیے بیٹے کی تمنا
لیکن کبھی بیٹی کو اضافی نہ سمجھنا
کافی نہیں یہ بھی کہ بس آمنا ، صدقنا
خالق کی عنایات سے دامن نہ جھٹکنا
رحمت ہے فقط دختر و خواہر ہی نہیں ہے
بیٹی نہ ہو جس گھر میں وہ گھر ، گھر ہی نہیں ہے
وہ لوگ بھی کیا لوگ تھے اسلام سے پہلے
آلام دیا کرتے تھے آرام سے پہلے
بیٹی کی ولادت ہو تو ہر کام سے پہلے
دفنا دیا کرتے تھے اسے شام سے پہلے
تہذیب کو آداب کی تابندگی دی ہے
اسلام نے بیٹی کو نئی زندگی دی ہے
آقا کا جو اسلوب پئے فاطمہؑ پایا
حیدر کا وہی ڈھب پئے زینبؑ نظر آیا
شبیرؑ نے آبا کی روایت کو بڑھایا
بیٹی کو سدا جان ِ پدر کہہ کے بلایا
بیٹی کی محبت کا نمونہ تھی سکینہؑ
شبیرؑ در ِ حُب تھے مدینہ تھی سکینہؑ
میری آخری معلومات تک قمر زیدی کے 26 مرثیے ابھی غیر مطبوعہ ہیں مگر جلد ہی “حدیثِ کربلا” کے نام سے شائع ہو کر کتابی شکل میں آئیں گے۔ کچھ سال قبل بفضلِ خدا ‘خرد’ کے عنوان سے مرثیہ نو تصنیف تکمیل پا گیا جس کا ابتدائیہ پیش خدمت ہے
وہ جس کا نام خدا ہے ، وہ جس کی ذات احد
رہی ہے شاملِ احوال اُس غنی کی مدد
خرد کو ملتی رہی ہے درِ نبی سے رسد
ملے گی اُن کے ہی در سے قبولیت کی سند
پھر آج بزمِ عزا میں ادب سے آیا ہوں
یہ مرثیہ پئے تسکینِ قلب لایا ہوں
سوال تھا کہ پئے افتخار کیا کیجے
خدا کا شکر سرِ بزم غم ادا کیجے
جو ہو سکے تو محمّدؐ سے یوں وفا کیجے
غمِ حُسین میں پلکیں بھگو لیا کیجے
بشر کے ظرف سے احساس کا تقاضہ ہے
حدیثِ کربلا اسلام کا خُلاصہ ہے
خرد کچھ اور یہاں یے تو اور کچھ ہے وہاں
خرد ہے مثلِ منادی ، جنوں ہے رازِ نہاں
خرد ہے شور مچانا ، جنوں ہے ضبطِ فغاں
جنوں یقیں ہی یقیں ہے ، خرد گماں ہی گماں
خرد ، جنوں کی لغت میں خلل دماغ کا ہے
جنون ظلمتِ شب میں لہو چراغ کا ہے
جنوں ہے حُر کا سنبھلنا ، خرد یزید مثال
خرد ہے ناک پہ غصّہ ، جنوں فروغِ جلال
جنوں جمالِ فراواں ، خرد وبال وبال
خرد خباثتِ رُشدی جنوں بلند اقبال
جنوں کسی کو کبھی دکھ نہیں دیا کرتا
دماغ گھاٹے کا سودا نہیں کیا کرتا
جنوں ہے بانگِ درا یا ہے ارمغانِ حجاز
خرد ہے ہیبتِ غزنی ، جنون زلفِ ایاز
خرد کو چاہیے ہر بات میں ثبوت ، جواز
جنوں نماز مسلسل ، جنوں جبینِ نیاز
جنوں ازل سے ہی بے رہ روی سے باہر ہے
خرد مفاد میں بھٹکا ہوا مسافر ہے
خرد دلیل کی محتاج ہے علل کی غلام
جنوں ضمیر کی آواز ، اتّباعِ امام
جنوں وفا کی سحر ہے ، خرد ہے عشق کی شام
خرد یزید کی تابع ، جنوں حسین کا نام
خرد کا ایک محرّک ، مفاد ہوتا ہے
جنوں کے پیشِ نظر اجتہاد ہوتا ہے
پروردگار سے دعا ہے کہ جناب قمر زیدی کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے ایک بار سورہ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص کی تلاوت کی گزارش ہے
ترتیب و انتخاب و پیشکش :
ذیشان زیدی