سردی کی یہ پہلی بارش ,سعدیہ کوکب قریشی

0
1060

سردی کی یہ پہلی بارش اور برھا کے دن
ساری رینا جیا جلے رے ساجن تورے بن
کا سے کہوں اس دل کی بتیاں سکھی نہ کوئی سہیلی
ساجن بھی جا دور بسے ہیں جیون راہ اکیلی
ڈالی ڈالی پھول کھلیں گے صبحیں ہوں گی روشن
من آنگن میں دیپ جلیں گے جب آئیں گے ساجن
اگلے برس کی پہلی بارش مورے ساتھ بتانا
ساجن توہے موری قسم ہے پھر مت لوٹ کے جانا
ہجرت میں تڑپت ہے کوکب نیناں نیند سے خالی
ساجن جھولی میں سر رکھ دو سو جائے متوالی

سعدیہ کوکب قریشی
ایبٹ آباد
پاکستان

SHARE

LEAVE A REPLY