ایک عرصہ ہوا میں نے کوئی کالم نہیں لکھا۔ ایک تو عالمی اخبار کی رات دن کی ذمیداریاں اور پھر یہ سوچ کر کالم کی طرف دل اور دماغ راغب نہیں ہوتا کہ کالم نگاروں کی منڈی میں جہاں ہر کس وناکس روزانہ کالم لکھتا ہے اور کچھ لوگ تو ایک دن میں دو دو تین تین کالم لکھتے ہیں ایک میرے نہ لکھنے سے کونسا قحط پڑ جائے گا اور یوں بھی مجھ جیسے لوگ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے قلم سے وفا کے جرم میں جیسی جیسی سزا بھگت رہے ہیں انکے ذکر کی یہ جگہ بھی نہیں اور شاید موقع بھی نہیں
اب آپ یہ پوچھیں کہ جب ایک عرصے سے کالم نہیں لکھا تو ان کونسی قیامت ٹوٹ پڑی کہ لکھنا پڑ گیا؟ جی واقعی ٹوٹی تو قیامت ہی ہے لیکن ابھی صور اسرافیل نہیں پھونکا گیا تاہم آثار قیامت ایسے واضع ہیں کہ دیکھنا چاہے تو اندھا بھی دیکھ سکتا ہے
اس کائنات کا خمیر ہی کائنات بنانے والے نے آمد و رفت سے گوندھا تھا۔ ہر لمحے کوئی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے اور کسی کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ۔ ہزاروں لاکھوں لوگ پیدا ہوتے اور ہزاروں لاکھوں مرتے ہیں لیکن کچھ مرنے والے ایسے ہوتے ہیں جنکے ساتھ بہت سے دوسرے لوگ، بہت سے شعبے اور بہت سے رویے بھی مر جاتے ہیں
ایسی ہی ایک موت اکیس نومبر دوہزار اٹھارہ بروز بدھ ہوئی جب فہمیدہ ریاض کی موت کی خبر نے کچھ دیر کے لیئے گُنگ کر دیا۔ مرتے تو سب ہیں اور مرنا بھی سب کو ہے۔ لیکن فہمیدہ کسی پیشگی موت کے اشارے بغیر ہی گزر گئیں۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنی کلاس فیلو اور عزیز دوست شہناز پروین سحر سے استفسار کیا تھا کہ فہمیدہ کے بارے میں کوئی اطلاع ہے؟ شہناز نے صرف یہ جواب دیا کہ اسکی طبیعت درست نہیں رہتی اور وہ زیادہ کہیں آتی جاتی نہیں ہے

فہمیدہ ریاض کے بارے میں کیا سابقے لاحقے لکھوں کہ ہم کسی کی تعریف کے لیئے بس اسکے مرنے کا انتظار کرتے ہیں۔ ادب کا شعبہ خاص طور پر ایسا منافقوں کی اکثریت کا شعبہ ہے جہاں ہر شاعر غالب اور میر کا باپ ہے
فہمیدہ ریاض ایک دبنگ خاتون تھی۔ وہ ایک عورت جو ضیاالحق جیسے آمر مطلق سے ٹکرا جائے اور جلاوطنی کے سات برس بھارت میں گزار دے لیکن آمریت کے سامنے سر نہ جھکائے، جو اپنی تخلیقات میں عورت کی وہ بات کرے جو اس معاشرے کی عورت خود اپنے بارے میں کرنے سے گھبرائے، وہ عورت جو انسانی اقدار اور انسانی حقوق کی بات کرے۔ اسکی موت پر سب سے زیادہ سرد مہری اسی کے قلم قبیلے نے ظاہر کی
عزیزم علی اکبر ناطق نےفیس بُک پر اپنے پیج پر ادیبوں شاعروں کی سنگ دلی پر قلم اٹھایا اور بے حسی کا نوحہ لکھا جسے لفظ بہ لفظ یہاں تحریر کر رہا ہوں۔ علی اکبر ناطق نے لکھا
یا اللہ مجھے لاہور میں موت نہ دینا ۔
رات فہمیدہ ریاض لاہور میں وفات پا گئیں ۔
آج لاہور عسکری1 میں 4 بجے اُس کا جنازہ تھا ۔
جنازے میں کُل ادیبوں اور شاعروں کی تعداد 3 تھی
ایک مَیں خود
دوسرے امجد اسلام امجد
اور تیسرے تحسین فراقی صاحب
باقی چالیس یا پچاس لوگ وہاں کی مسجد کے نمازی تھے ۔
خدا کی قسم لاہور کے ادیبوں اور شاعرں کی 99 فیصد تعداد منافق اور احساسِ کمتری میں مبتلا ہے اور یہ کامریڈ برادری تو فکری طور پر مفلس اور بانجھ ہے ہی ، نفسیاتی اور دلی طور پر بھی جہنمی ہے۔
ایک بھی آدمی وہاں پُرسے کو یا دفنانے کو موجود نہیں تھا ۔
کم از کم اسلام آباد کے ادیب شاعر لاہورکے شاعروں سے کہیں زیادہ اہلِ ظرف ، غیرت مند ، باوقار، وضع دار اور وفادار ہیں کہ وہاں کسی جنازے پر اِس قدر مفلسی نظر نہیں آتی ، چاہے ادیب کسی بھی پائے کا ہو اور یہ تو پھر فہمیدہ ریاض تھی
اللہ اکبر
…………..
علی اکبر ناطق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے لندن میں بیٹھ کر پاکستانی ٹی وی چینلوں پر فہمیدہ کے آخری سفر کی منٹ ڈیڈھ منٹ کی فوٹیج دیکھی اور علی اکبر ناطق کی تحریر کی تصدیق ہوئی، مرد شاعر ادیب یہی تھے، آئی اے رحمان اور حسین نقی شاعروں ادیبوں میں نہیں خواتین میں بھی ایک دو ہی چہرے نظر آئے جو ادب کی دنیا سے تھیں باقی انکی ذاتی دوست تھیں۔ ظلم تو یہ ہے کہ لاہور میں موجود سرکاری ادبی اداروں کے سربراہوں میں سے یا نام نہاد ادیبوں شاعروں کی بہت بڑی تعداد میں سے مذکورہ لوگوں کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا۔
شاعروں ادیبوں کی ایک غالب اکثریت کی یہی منافقت ہے جس پر ہم جیسے چند سر پھرے لوگ برسوں سے لکھ رہے ہیں اور یہ ایسے بے شرم ہو چکے ہیں انکو شاید اپنی موت یاد نہیں۔
مجھے آج محسن نقوی کا جنازہ اور الحمرا میں ہونے والا ریفرنس بھی یاد آ رہا جسکی صورت حال بھی ایسی ہی تھی۔ میں ان دنوں لندن سے لاہور گیا تھا اور کئی برس بعد محسن نقوی سے ملاقات اپنی ہم کار ستار سید کے ہمراہ ہوئی اور بس یہی آخری ملاقات تھی۔ قتل ہونے سے کچھ دیر پہلے اس نے مجھے فیصل ٹاون میرے گھر چھوڑا اور واپس اپنے گھر پہنچا تو قاتل کی گولیوں نے اسکو ہمیشہ کے لیئے خاموش کر دیا۔ محسن کے جنازے میں بہت مختصر لوگ تھے اور پھر الحمرا میں جب اسکا ریفرنس ہوا تو بس تیس پینتیس لوگ تھے۔ حنیف رامے صاحب نے صدارت کی، اسٹیج پر احمد ندیم قاسمی تھے اور گفتگو کرنے والوں میں میرے علاوہ فیروز کنول بھی تھے اور حاضرین میں نسرین انجم بھٹی اور چند دوسرے ساتھی تھے۔ ان نام نہاد بڑے شاعروں ادیبوں میں سے ایک بھی نہیں تھا جو محسن کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے تھے

اس بار بھی علی اکبر ناطق کی تحریر پڑھ کر برسوں پہلے کا وہ منظر میری نظروں میں گھوم گیا۔ اس مرتبہ بھی
عام شاعر ادیب تو ایک طرف سرکاری ادبی اداروں کے سربراہوں کو خاص طور پر لاہور میں موجود ایسے سرکاری عہدے داروں کو کیا فہمیدہ ریاض کے انتقال کی خبر نہیں ملی؟
اب یہ منافق لوگ جھوٹے بیان دیتے نہیں تھکیں گے کہ ایک خلا پیدا ہو گیا جو پُر نہیں ہو گا۔۔۔۔جھوٹے ہیں یہ لوگ۔۔۔۔۔۔ قلم فروش ہیں، ضمیر فروش ہیں۔ انکا احتساب کون کرے گا۔ لیکن جنکو کرنا ہے وہ ایک غزل پڑھنے کے لیئے یا سفارش پر بیرون ملک جا کر مشاعرہ پڑھنے کی وجہ سے بولیں گے نہیں۔اپنے شعروں اور نثر پاروں میں انسان دوستی کا سبق دینے والوں اور محبت کی کہانیاں سنانے والوں کا اپنا کردار بس یہی ہے، میں اسی لیئے برسوں سے اس منافق قلم قبیلے سے عملی طور پر دور ہو چکا ہوں کہ جنکے قول وفعل میں ،جنکی تحریر اور عمل میں میلوں کا فاصلہ ہو انکے درمیان رہ کر خود کو اور اپنی سوچ کو نجس کرنے کا کیا فائد۰؟
صفدر ھمٰدانی
لندن













