لو آپ اپنے دام میں ۔ زاہد علی عسکر

0
874

یادشِ بخیر ! کچھ روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ سعودی حکمران سلمان بن عبدالعزیز کی بادشاہت امریکی فوج کی حمایت کے بغیر دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی اور سعودی عرب کو اپنے دفاع کیلئے بھی امریکہ کو ادائیگی کرنا ہو گی۔ امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سعودی عرب پر یمن میں بچوں کو نشانہ بنانے اوراپنے ہی ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہونے کا الزام ہر زبان زد عام ہے ایک جانب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سعودی عرب کے خلاف یمن پر حملے اور اس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے انکوائری کروانے کی قراداد منظورکی گئی تو دوسری جانب سعودی عرب کو اپنے ملک میں شیعہ آبادی کے علاقوں میں عوام کے حقوق سلب کرنے کیلئے ہر اُٹھنے والی آواز کو بذریعہ طاقت دبانے پر بھی دنیا بھر میں تنقید ہو رہی ہے ، ایسے حالات میں سعودی شاہی خاندان کو اپنے انتہائی مظبوط حلیف ملک امریکہ کی جانب سے ایسے بیان کا سامنا یقیناًکسی دھچکے سے کم نہ تھا ،ابھی ٹرمپ کے مذکورہ بیان کی چہ میگیوئیاں ختم بھی نہیں ہوئی تھیں کہ جارحانہ عادت سے مجبور ٹرمپی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف ایک اور بیان داغا گیا جس کی باز گشت سے ایک جانب عالمی میڈیا گونج رہا ہے تو دوسری جانب اس بیان سے مشرق وسطٰی کی سیاست کا اُونٹ بھی قدرے کروٹ بدلنے کوتیار دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بیان ایک سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معمہ بنی خبر سے متعلق ہے جس میں مذکورہ صحافی کو قتل کرنے کی خبر قرینِ قیاس قرار دی جا چکی ہے تاہم ابھی سعودی حکام کی جانب سے اس امر کی تردید کی جا رہی ہے ،امریکی صدر ٹرمپ کے نئے بیان کے مطابق اگرجمال خاشقجی کا قتل میں ریاض حکومت کا ہاتھ ہوا تو بقول اُنکے سعودی عرب کو اسکی سزاء دی جائے گی، اور اُنکے عندئیے کے مطابق یہ سزاء سعودی عرب پر پابندیوں کے حوالے سے ہو سکتی ہے ۔سعودی عرب پر الزام ہے کہ اُس نے استنبول میں قائم اپنے سفارتخانے میں یہ کارنامہ انجام دیاہے۔تاہم اُسکی تردید کو درخوراعتناء نہ گردانتے ہوئے امریکہ کے بعد برطانیہ اور فرانس کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب اس قتل کو تسلیم کرلے گا کیونکہ عالمی طور پر بالخصوص اپنے جگری دوست امریکہ کے دباؤ کے باعث سعودی حکومت کیلئے اب یہ قتل ہضم کرنا شاہد ممکن نہ ہو۔اور شاہد یوں وہ یہ معاملہ اپنے کسی اہلکار پر ڈال کراس مُعمہ کو حل کر کے امریکہ سے اپنے بگڑتے ہوئے تعلقات کو بھی بچانے میں کامیاب ہو جائے ۔
عالمی حالات کے تناظر میں ٹرمپ کا تازہ بیان جہاں سعودی شاہی خاندان کیلئے حیرت انگیزہے وہیں مشرق وسطٰی کے سیاست پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور یہ باور کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں اگر امریکہ کی گھن گرج یونہی سعودی حکومت کے خلاف جاری رہی تو سعودی عرب کو بھی کھیل کے نئے زوائیے چنتے ہوئے اپنے کارڈز تبدیل کرنے پڑیں گے بشرطیکہ کہ امریکہ اپنی سابقہ روش کے تحت اپنے بیانات میں نرمی نہ برتے ، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اپنے ہی دوست ممالک کے خلاف ایسے امریکی بیانات صرف زبانی جمع خرچ کے سوا کبھی کچھ ثابت نہیں ہوئے جوامریکہ اپنے دوست ملک کی کسی بھی کمزوری پر بلیک میل کر کے دباؤ ڈالنے کیلئے استعمال کرتا ہے اور اسی بلیک میلنگ سے وہ’’ ڈو مور‘‘ کی اپنی خواہش اور مطالبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی روش اختیار کرتا ہے ۔ٹرمپ کے اوپر تلے دیئے گئے پہلے اور دوسرے بیان کے مافی الضمیر پراگر غور کیا جائے تو یہ واضح ہو تا ہے کہ سعودی شاہی خاندان کی حفاظت کے باعث امریکہ سعودی عرب سے تیل اور دیگر معانیات اپنی شرائط پر حاصل کرتا رہا ہے اوراب وہ اپنے مفادات کے مذید حصول کیلئے اس وقت بھی اپنی شرائط کو موثر بنانا چاہتا ہے چنانچہ اپنے مفاد کا حصول اُسکے پہلے بیان اور اس غرض کی تکمیل کیلئے سعودی عرب کی کمزوری پر بلیک میل کرکے دباؤ ڈالنااسکے دوسرے بیان میں واضح طور پر پرکھا جا سکتاہے ۔سعودی عرب بھی امریکی اسلحہ کا بڑا خریدار ہے اور حال ہی میں روس سمیت دیگر قوتوں سے سعودی عرب کے بڑھتے تعلقات اور معاہدات بھی امریکہ کیلئے تشویش کا باعث ہیں جس پر بھی یہ امریکی تنبیہہ کارگر ثابت ہو سکتی ہے جبکہ اس کے برعکس مشرقِ وسطٰی میں سعودی عرب کی جانب سے امریکہ بہادر کی شہہ پر کھول رکھے مختلف محاذ جس میں سعودی عرب کے ایران ، شام ، یمن اور دیگر ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں کے تناظر میں امریکہ کے اس بیان سے سعودی عرب کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔اس لیے سعودی عرب کے پاس بھی یہ سنہری موقع ہے کہ وہ خطے میں اپنی رقابتوں کو ختم کرنے کیلئے ٹرمپی بیانات کواپنی سیاسی پالیسی پر نظر ثانی کا محور بنائے اور امریکہ بہادر پر انحصار کے بجائے خطے کے ہمسایہ ممالک سے روابط استوار کر کے اپنی پوزیشن کو عالم اسلام اور مشرق وسطٰی کے ممالک میں مظبوط بنائے اس ضمن میں سعودی عرب کا حریف ملک ایران پہلے ہی آپس کے اختلافات کو ختم کر کے ایران اور سعودی عرب کے باہم مل کر امریکہ کے تحقیرامیز بیان پر جواب دینے کی پیش کش کر چکا ہے گویا سعودی عرب کے پاس ٹرمپ کے بیانات پر حیل و حجت تلاش کر کے اپنی تحقیر پر صرفِ نظر کرنے کے بجائے خود کو مظبوط ، باوقار اور خود محتار اسلامی ریاست ثابت کرتے ہوئے امریکہ کو داندان شکن جواب دینے کا آپشن بھی موجود ہے مگر یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب سعودی بادشاہ امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے خود انحصاری کی سیاست اپنائے اور امریکی چیلے اسرائیل سے اپنے تعلقات کا دامن چھڑائے ایسی صورتحال میں عالمی سیاست بالعموم اور مشرقِ وسطٰی کے سیاسی اونٹ کی کروٹ تبدیل ہونے میں کو ئی حرف مانع نظر نہیں آتا۔
سعودی عرب کی سیاست اور شاہی خاندان کے طور طریقوں پر نظرجمائے ناقدین جانتے ہیں کہ آج بھی سعودی عرب کا بادشاہی نظام دنیا بھر کے جمہوری اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین کا منہ چھڑا رہا ہے مگر امریکہ سمیت دنیا کی دیگر جمہوری طاقتوں کو سعودی عرب میں آمریت کا کسی طور پر احساس نہیں ہوتا ، بادشاہت کے حق اور مخالف علاقوں میں ترقیاتی کام، تعلیم، روزگار ، اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی میں زمین آسمان کا فرق کسی کو نظر نہیں آتا ’’جان کی آمان‘‘ نہ مانگنے والے اپنے اور عوامی بنیادی انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے پرکس طرح تہہ تیغ کر دئیے جاتے ہیں اس پر تمام انسانی حقوق کے چیمپیئز کی آواز گنگ ہیں، جسکی تازہ مثال جمال خاشقجی ، گذشتہ دو ماہ قبل انسانی حقوق کی علمبردار ایک خاتون اسرا الغمگام اورگذشتہ برس مذہبی سکالر شیخ نمر کو عوام حقوق کی جدو جہد کی پاداش میں سزائے موت دینا ہے ۔اگر کوئی بیرون ملک سے آواز اُٹھے بھی تو سعودی شاہ اور اُس سے زیادہ اُس کے وفادار سعودی عرب میں مداخلت قرار دے کراس آواز کو بھی دبا دیتے ہیں حالانکہ اس نوعیت کے واقعات اگر کسی دوسرے ممالک میں رونما ہوں تو متعصب انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکیدارایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ وہ اس کو بہانہ بنا کر اُس ملک پر چڑھ دوڑیں ، بے شمار مثالیں اس ضمن میں پیش کی جا سکتی ہیں،بذاتِ خود سعودی عرب ماضی اور حال میں خطے کے بعض ممالک پر اسی قسم کے الزام عائد کر کے اُس کے اندورنی خلفشار اوربیرونی حملوں کی حمایت میں پیش پیش رہاہے ۔اوراس ضمن میں ۳۹ ملکوں کی فوج بھی بنارکھی ہے جس کو وہ استعمال تو اپنے مقاصد کیلئے کرنا چاہتا تھا مگر درپردہ اُسکو جن طاقتوں کی حمایت حاصل رہی ہے وہی آج سعودی عرب کو باور کرانے چلیں ہیں کہ اُنکی حمایت کے بغیر بادشاہ سلمان کی حکومت دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی یا وہ جمال خاشقجی کے معاملے پر سعودی عرب کو سزاء دے سکتی ہیں،یعنی اگر یوں کہا جائے کہ جیسے کبھی کبھی شطرنج کے گھوڑے اپنے ہی بنائے ہوئے بادشاہ پر چڑھ دوڑتے ہیں ، بعینہہ آج امریکہ نے بھی اپنے ہی بنائے ہوئے بادشاہ پر چڑھائی کا عندیہ دے دیا ہے اگرچہ یہ چڑھائی ابھی لفظوں تک محدود ہے مگر کون جانے امریکہ بہادر کب اپنے لفظوں کو معتبر بنا کر دیوانے کا ایک خواب کو پورا کرنے کی حرکت کر بیٹھے کیونکہ اُس سے کچھ بعید نہیں ایسے عالم میں کیا کسی اور مقاصد کیلئے قائم کثیر الملکی فوج سعودی عرب کے دفاع کا بیڑا اُٹھائے گی ؟یہ امر اپنی جگہ اہم سہی کہ سعودی عرب اہل اسلام کی مقدس سرزمین ہے جسکی طرف اُٹھنے والی ہر نگاہ کو عالم اسلام کور کرنے کی بھر پور صلاحیت اور ہمت رکھتی ہے مگرسعودی عرب کی خطے کے ممالک اور اسلامی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد زیادہ مظبوط نہ ہونے کی بنا پر اوراسکے اتحادی اسلامی ممالک کے بھی امریکہ سے دشمنی مول نہ لینے کی پالیسی کے باعث امریکی صدر ٹرمپ کے اوپر تلے داغے گئے تحقیرامیز بیانات سعودی عرب کیلئے ایک الارمنگ حیثیت ضرور رکھتے ہیں اس لیے سعودی حکومت کو صرف جمال خاشقجی کے قتل کو تسلیم کرکے معاملے کو دبا نہیں دینا چاہیے بلک بادشاہ سلامت کو دوسری چوائس کے طور پردیگر اسلامی ممالک کیلئے کھڈا کھودنے کی پالیسی کو ترک کرکے خطے میں اپنی پوزیشن کو مظبوط بنانے کیلئے برادر اسلامی ممالک سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر غور کرنا چاہیے جس کیلئے ضروری ہے کہ وہ ان ممالک کو کمزور کرنے کیلئے عالمی طاقتوں کے پھیلائے گئے جال سے ہاتھ کھینچے ، اسلامی کانفرنس تنظیم کو حقیقی معنوں میں عالم اسلامی کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے قابل بنانے میں موثر کردار ادا کرے ، اپنے ملک میں عوام کے حقوق کی یکساں فراہمی کو یقینی بنائے ، تیل اور دیگر سعودی وسائل سے مغرب کو مستفید کرنے کے بجائے اسلامی بلاک کی ترویج و ترقی اور نظم و ضبط کیلئے بروئے کار لائے اور سب سے اہم عالم اسلام کی دشمن اسرائیل جیسی غاصب حکومت سے تعلقات فی الفور ختم کر کے فلسطینی مسلمانوں کی جد و جہد کو کامیاب بنانے کیلئے اُنکی اخلاقی ، سیاسی ، اور سفارتی مدد کرئے۔ گو کہ ہمیں معلوم ہے کہ سعودی عرب کے شاہی حکمران اپنی پرتعش زندگی پر حقیقی اسلامی و عوامی حکمران بننے کے خیال کوکبھی فوقیت نہیں دینگے اور جمال خاشقجی کا معاملہ کسی نہ کسی طور رفع دفع کروا کر اپنی سابقہ روش اور سیاست کو ہی جاری رکھنے میں عافیت جانے گے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر اس الارمنگ صورتحال سے سعودی عرب نے اب بھی سبق نہ حاصل کیا تو اُسکی صورتحال بھی امریکہ کے اُن دوست ممالک سے زیادہ مختلف نہ ہو گی جن کے وسائل سے مکمل طور پر فیض یاب ہونے کے باوجود امریکہ کا پیٹ نہیں بھرا اور اب بھی اس نے اِن سو کالڈ دوست ممالک کو ’’ڈو مور‘‘ کے مطالبے کا شکار کر رکھاہے ۔
استنبول میں جمال خاشقجی کی پراسرار گمشدگی کا معمہ اگر سعودی حکام کی جانب سے قتل کے اعتراف پر حل ہوا تو یہ یقیناًسعودی حکمرانوں کا انسانی حقوق کی خلاف ورزی پرمبنی فعل ہو گا جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ مگر دوسری جانب اس امر کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا کہ امریکہ نے اس معاملہ پرہی سر کیوں اُٹھایا ،کیا اُسے واقعی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر افسوس ہے؟ حالانکہ سعودی حکمرانوں کے حوالے سے یہ کوئی نئی بات نہیں ، اس سے قبل امریکہ سعودی عرب کے یمن پر حملے میں بچوں کو نشانہ بنانے پر کیوں نہیں بولا، قطیف اور بحرینی علاقوں میں سعودی انسانیت سوز کاروائیوں پر لب کشائی کیوں نہیں کی، یا پھر سرکردہ سعودی شخصیات چاہے وہ مذہبی سکالرز ہوں یا ہومن رائٹس ایکٹویسٹ اُنکے قتل پر خاموش کیوں رہا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ امریکہ کو سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کوئی ہمدردی نہیں بلکہ وہ صرف سعودی عرب کو اس معاملے پر بلیک میل کر کے اپنی ’’ڈو مور‘‘ کی ہوس کا شکار بنانا چاہتا ہے کیونکہ بقول ٹرمپ وہ سعودی بادشاہ پر پہلے ہی واضح کرکے چکے ہیں کہ اُن کو اپنی بادشاہت بچانے اور اپنی حفاظت کیلئے امریکہ کو ادائیگی کرنا ہو گی،لہذا خاشقجی ہو کہ اسرا الغمگان یا شیخ نمر امریکہ سمیت دنیا بھر کی انسانی حقوق کے چپمپئنز کو سعودی عرب کی بادشاہت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے کوئی سروکار نہیں،اگر سرو کار ہے تو اُپنی پالیسی کے تحت بلیک میل کرکے اپنے مفادات کا مذید موثر حصول ہے جس کیلئے وہ سعودی عرب کو اُس کی اُن تمام کاروائیوں پر بلیک میل کرنے کا راستہ اختیار کرنے پرگامزن ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جس کے تحت سعودی عرب ان طاقتوں کواپنے مفاد کی خاطر خطے کی صورتحال بگاڑنے میں نہ صرف استعمال کرتا رہا ہے بلکہ اُس کی شہہ پر امریکہ اور اُسکے ہمواریوں کو مشرق وسطٰی میں قدم جمانے کا حوصلہ بھی ملاہے ،لیکن کیا یہ بات بادشاہ سلامت کو سمجھ میں آئی گی، شاہد آجائے مگر دیر سے، لیکن سعودی سیاست کے ناقدین کی سمجھ میں ایک بات ضرور آگئی ہے کہ ’’ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا‘‘
زاہد علی عسکر

SHARE

LEAVE A REPLY