میں آج بھی ان پرانی کتابوں کے خزانے پر فخر کرتا ہوں ۔ سلیم کاوش

0
871

میں جتنا عرصہ لاہور میں رہا میری پسندیدہ جگہیں پرانی کتابوں کی فروخت کے بک سٹال یا فٹ پاتھ تھے۔
انجنئرنگ اور سائنس کی کتابوں کیلئے نیشنل بک فانڈیشن اور علمی و ادبی کتابوں کے لئے ماورا پبلشرز کا ” کلئرنس سیل کاونٹر” اور انار کلی کے مخصوص فٹ پاتھ تھے جہاں میں گھنٹوں گذار دیتا۔
یہ وہ مقامات تھے جہاں میں اور کتابیں ایک دوسرے کی دسترس میں ہوتے تھے ۔

وہیں مجھے اساتذہ کے شعری مجموعے اور کئی گمنام لیکن نہایت اچھے شعرا کی نادر کتابیں بھی
ملیں۔ وہیں خالد شریف صاحب کی “نا رسائی” تک رسائی ملی اور پھر سید رضی ترمذی کی “یادوں کا موسم” بھی دیکھا ، شاہین حنیف رامے کا شعری مجموعہ بھی وہیں ملا۔

انار کلی میں بانو بازار کی فروٹ چاٹ بہت مشہور تھی اور آج بھی ہو گی۔ یہ بازار وہ جگہ ہے جہاں انار کلی میں داخل ہونے والا ہر زائر شرارتا” جاتا اور اس کی چاٹ تبرکا” کھاتا” ہے۔ اور یہ عمل مکررا” کماتا ہے۔

میں وہاں کبھی نہیں جاتا تھا۔ مجھے بے ہنگم بھیڑ سے الجھن ہوتی تھی۔

مردوں کی شیطانیت میں ملی پسینے کی بو اور عورتوں کے زائد المیعاد ہوتے میک اپ اور پسینے کی ملی جلی انوکھی لیکن ناقابل برداشت مہک مجھے اس بازار میں داخلے سے ہمیشہ روکتی رہی اور میں نفیس طبع شریف شخص مروتا” رکتا رہا۔

زندگی میں دو دفعہ ضرور گیا۔
ایک دفعہ اپنی بہنوں کے ساتھہ جب میری شادی کے لئے میری دلہن کے ملبوسات کی تیاری کا مرحلہ تھا اور دوسری دفعہ شاید اپنی دلہن کے اصرار پر چاٹ کھانے۔ اس کے علاوہ کبھی نہیں گیا۔

میرے یونیورسٹی کے دوستوں اور باقاعدہ زائرینِ بانو بازار نے میرے دونوں دفعہ کے سفر پر زوردار قہقہ لگایا اور اسے بے سود قرار دے دیا تھا۔
کہتے “بانو بازار میں کوئی پاگل ہی گھر والوں کے ساتھہ جاتا ہے”

انہیں یہ بھی پتا تھا کہ میں فروٹ چاٹ کے پیسے کتابوں پر خرچ کرنا زیادہ پسند کرتا ہوں۔

میں آج بھی ان پرانی کتابوں کے خزانے پر فخر کرتا ہوں ۔ اگر ماورا کا کلئرنس سیل کاونٹر اور انارکلی کے یہ فٹ پاتھ نہ ہوتے تو میرے پاس نادر اور سستی کتب کا یہ گرانقدر خزانہ کبھی نہ ہوتا۔

میں نے جب سے اپنی کتاب “متاعِ اشک” چھپوائی بہت پذیرائی ملی ۔ بہت لوگوں تک پہنچی ۔
بہت سے قدردانوں نے لاہور، لندن، فرینکفرٹ، ڈارم شٹڈ اور شکاگو میں اس پر پروگرام کئے۔
سب کو “متاعِ اشک” بہت تکریم سے پیش کی ، بہت تعریف اور توصیفی کلمات بھی کمائے ۔

یہ سب لوگ خاص ہیں
بہت قابل قدر ہیں
میرا مان اور عزت ہیں
پھر بھی لگتا ہے کوئی کمی ہے
اور وہ کمی شاید ایک عام شخص کی ہے جس تک میں نہیں پہنچ سکا۔
جس تک متاع اشک نہیں پہنچ سکی۔
وہ کمی سلیم کاوش کی ہی شکل میں پوشیدہ اس کم مایہ نوجوان طالب علم کی ہے جو اپنی مختصر جمع شدہ پونجی بانو بازار کی فروٹ چاٹ کی بجائے خالد شریف کی نارسائی اور سید رضی ترمذی کی یادوں کے موسم کے ساتھہ سلیم کاوش کی “متاع اشک” پر بھی خرچ کرے یا پھر وہ جیب میں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہیں بیٹھہ کر پڑھے۔

اس نوجوان کی فٹ پاتھ پر بیٹھہ کر “کتاب پڑھنے کی محبت” کسی صاف شفاف بک شیلف میں “کتاب رکھنے کی محبت” سے کہیں زیادہ ہے۔

سلیم کاوش

SHARE

LEAVE A REPLY