انسان اس دنیا میں انسان بننے کے لیے بھیجا گیا,فائزہ عباس

0
976

لکاسب و حبیب اللہ ۔ ۔ ۔اکثر اس جملے کو لکھا دیکھتے ہیں، پڑھتے اور سنتے ہیں جسکے معنی ہم لیتے ہیں کہ جو کوئی بھی کسب حلال کرے یعنی رزق حلال کمائیں وہ سب رب کے دوست ہیں ۔ ۔ ۔ جبکہ یہ پہلو بہت الگ ہے اس حقیقی پہلو سے کہ جو در حقیقت اس کے معنی و مفہوم ہیں،

“… انسان اس دنیا میں انسان بننے کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ ۔ ۔”
جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم انسان بن کے آئے ہیں، رب نے انسان کو وہ تمام خصوصیات، لوازمات اوزار عطا فرمائے ہیں کہ جنکے زریعے وہ “انسان” بننے کے درجے کو پا سکتا ہے، رب نے ملائکہ، میں نور اور حیوانات میں شہوت، اور غضب یعنی ایک رحجان رکھا ہے جبکہ انسان کے پاس دو رحجانات ہیں مثبت اور منفی مثبت نور ہے اور منفی غضب اور شہوت ہے اب قوت” انتخاب ” وہ عصا ہے، وہ طاقت ہے کہ جس کے زریعے سے وہ ان میں سے کسی ایک کو انتخاب کرتا ہے اور اب جو شے بھی وہ انتخاب کرتا ہے اسی کو پروان چڑھاتا ہے اور اس کا زیادہ یا کم ہونا اس کی زات کو افقی، یعنی زمین سے زمین کا سفر یا عمودی یعنی زمین سے بلندی کے سفر پہ روانہ کرتا ہے، اور اس باعث وہ ہر لحظہ ایک جنگ اور تضاد کا شکار رہتا ہے اب وہ جیسے ہی نیکی، یا اچھائی کو چنتا ہے قرب خدا کی خاطر وہ بلندی کے سفر کو اختیار کرتا ہے اور مثبت رحجان کم ہونے لگتا ہے اس کو کمزور کر دیتا ہے، اسی طرح جب شہوت، ہوس، غضب و برائ کو چنتا ہے تو فورا سے پستی کے گڑھے میں گرنے لگتا ہے کیونکہ زات کے تضاد میں افقی سفر کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کی پہاڑ پہ چڑھنا اور زرا سا پھسلا نہیں زمین پہ آ دھمکا اور برائ کا سفر ایسے ہی ہے جیسے کی پہاڑ سے اترنا لمحوں میں طے ہوتا ہے پستی کا سفر ۔ ۔ ۔

اب جو شے انسان کو کسب کرنی ہے وہ نور ہے، یک پہلو ہونا ہے جیسے کہ ملائکہ اور حیوانات یک پہلو ہوتے ہیں انکے اندر تضاد نہیں جیسے بنا دیے گئے ہیں انہیں ویسے ہی رہنا ہے جب کہ انسان چاہے تو افقی سفر کی نا ختم ہونے والی نورانی، پاکیزہ، بلند ترین منزلوں کو اپنے ارادے اختیار اور اخلاص عمل کی عصا سے طے کر سکتا ہے کیونکہ افقی سفر کبھی نہ ختم ہونے والا سفر ہے اور انسان کو یہ یک طرفہ پہلو جو کہ نور، بلندی، طہارت، پاکیزگی، بھلائ اور خیر ہے اس کو کسب کرنا ہے یعنی اپنے اندر اب وہ نور کو کسب کرتا ہے یا کہ زلت و پستی کو کہ اندھا، بہرہ، گونگا بن کر برباد کر بیٹھے دو جہاں میں خود کو یہ اسکے انتخاب پہ ہے وہ ہر پل یہ دو راستوں میں سے ایک کو کسب کر رہا ہے اور رب کا حبیب وہ ہی ہے جو نور، طہارت، پاکیزگی اور رب کی عطا کردہ ملکوتی صفات کو کسب کرنے کی جی جان سے کوشش کرے کیونکہ اس کے وجود کا حسن اور اسکی حقیقی طاقت یہی ہے یہی در حقیقت میعار شجاعت ہے کہ خود کو ” کسب کرے، خود کو نہ کہے…” ہر منفی، بری، شیطانی احساس کو نہ کہے، خود کے سامنے خود ہی ڈٹ جائے، خود کو زرا بھی موقعہ نہ دے کہ شیطانی وسوسے اور حیلے اس کو نور اور بلندی سے اتار کر غلاظت، ظلم، ہوس کی گندی نالیوں میں لا پھینکیں، سو اپنی زات کو کسب کرنا درحقیقت وہ ھدف نورانی ہے جو رب نے انسان کو دے رکھا ہے اور انسان کو اس ھدف تک پہنچ کر اپنے وجود کے انسان کو کسب کرنا ہے،

اور کسب وہی کر سکتا ہے جواس تضاد، اس جنگ کی جانب سنجیدگی سے متوجہ ہو، اور خود کو کسب کرنے کی واسطے خود کی” ہستی سے شناسائی ” بیحد اہم ہے کیونکہ انسان بے ھدف مخلوق نہیں ہے،

اسکا ھدف۔ ۔ ۔
“… لقا اللہ، خلیفۃ اللہ، مقام انسانیت… ” کا سفر افقی ہے اور اگر رب نے یہ تضاد انسان میں نہ رکھا ہوتا تو پھر فرشتوں یا حیوانات اور انسان میں فرق ختم ہو جاتا، انسان کے ہونے کی وجہ ہی نہ بچتی کیوں کہ پھر انسان یا حیوان ہوتا یا فرشتہ اور بنا تضاد کے انسان بننے کے مراحل. طے ہو ہی نہ سکتے تھے اس لیے اس تکامل کے سفر کو بہت سنجیدگی سے طے کرنا ہو گا جبھی وہ اپنی منزل پہ کامیابی سے پہنچ سکتا ہے ۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY