احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت

0
972

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں خواجہ حارث نے واجد ضیا سے سوال کیا کہ کیا وہ عربی سمجھ لیتے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں نے وہاں کچھ وقت گزارا ہے اس لیے تھوڑی بہت سمجھ لیتا ہوں۔

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک نےکی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا۔

سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے واجد ضیاء پر جرح جاری رکھی۔دوران سماعت واجد ضیاء نے عدالتی اجازت کے بعد سپریم کورٹ سے حاصل کیے گئے سربمہر والیم ٹین سے ایم ایل ایز پڑھ کر جواب دیئے۔

واجد ضیاء نے بتایا کہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کا مکمل نام ہل ماڈرن انڈسٹری فارمیٹل اسٹیبلشمنٹ ہے، تاہم 31 مئی 2017 کو سعودی عرب کو ایم ایل اے بھجواتے وقت انہیں کمپنی کا مکمل نام معلوم نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایم ایل اے ‘ایچ ایم ای’ سے متعلق لکھا، ہل ماڈرن انڈسٹری فار میٹل اسٹیبلشمنٹ سے متعلق نہیں۔

واجد ضیاء نے بتایا کہ دستاویزات کے مطابق یہ کمپنی اسٹیل بزنس سے متعلق ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کو بھجوائے گئے ایم ایل اے میں ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کا کوئی بزنس ایڈریس نہیں لکھا گیا اور ایڈریس کے طور پر صرف جدہ لکھا گیا۔

سربراہ پاناما جے آئی ٹی نے بتایا کہ 3 جون کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے، جنہیں شامل تفتیش کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے حسین نواز کی طرف سے فراہم کی گئی اضافی معلومات کی تصدیق کے لیے سعودی حکومت کوخط نہیں لکھا اور نہ ہی ان کی طرف سے دیئے گئے کمپنی کے رجسٹریشن نمبر کی تصدیق کرائی گئی۔

واجد ضیاء کے مطابق حسین نواز کی طرف سے پیش کردہ بعض دستاویزات عربی زبان میں بھی تھیں۔ خواجہ حارث نے واجد ضیاء سے سوال کیا کہ آپ عربی سمجھ لیتے ہیں؟

جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ‘میں نے وہاں کچھ وقت گزارا ہے، اس لیے تھوڑی بہت سمجھ لیتا ہوں۔

واجد ضیاء نے مزید کہا کہ دستاویزات کے مطابق یہ کمپنی اسٹیل کے کاروبار سے منسلک ہے۔

واجد ضیاء نے مزید بتایا کہ حسین نواز کی طرف سے دی گئی قرض کی دستاویزات بھی تصدیق کے لیے سعودی عرب نہیں بھجوائیں اور نہ ہی جے آئی ٹی نے حسین نواز سے تفتیش میں پوچھا کہ کمپنی ان کی ذاتی ملکیت ہے یا کسی کے ساتھ پارٹنرشپ پر۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے حسین نواز کے ریکارڈ کیے گئے بیان کا درست ریکارڈ عدالت میں پیش کیا؟

جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ حسین نواز کی تمام 5 پیشیوں کا مکمل درست ریکارڈ پیش کیا گیا ہے۔

عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی۔

SHARE

LEAVE A REPLY