کوئی انکار کر سکتا ہے کہ حکومتی پالیسیوں پر تاجروں کے تحفظات تھے اور ہیں کہ نوٹس پر نوٹس اور پکڑ دھکڑ کے اقدامات نے انہیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے پر مجبور کر دیا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے اور صنعت کا چلتا ہوا پہیہ یکدم رک گیا نیب نے اپنے اختیارات کو لامحدود دائرے تک پھیلا دیا کہ اس کے افسران ایف آئی اے اور ایف بی آر کی حدود میں بھی داخل ہونے لگے صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چوٹی کے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی میٹنگ بلا لی بڑے تحمل کے ساتھ ان کے تحفظات سنے اور ان تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے انہیں ملک کی بہتری کے لئے بلا خوف سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کا کہا ساتھ ہی حکومت مخالف سیاسی طاقتوں سے دور رہنے کا بھی اشارہ دے دیا –
مذکورہ ملاقات کے دو پہلو سامنے آئے ایک صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے نیب ، ایف آئی اے اور ایف بی آر کی کی جانے والی کارروائیوں کے حوالے سے تحفظات اور دوسرا آرمی چیف کی جانب سے سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقہ کو حکومت مخالف سیاسی طاقتوں سے دور رہنے کا اشارہ – ان دونوں معاملات کا براہ راست ایک انتہائی اہم ریاستی ادارے فوج سے تعلق سمجھ سے باہر ہے کہ فوج جیسے اہم ادارے کی ذمہ داری تو ملکی سرحدوں کی حفاظت اور قدرتی آفات یا ملک میں امن و امان کی صورتحال اگر سول اداروں کے کنٹرول سے باہر ہو رہی ہو تو سول انتظامیہ کی درخواست پر ان کی مدد کرنا ہوتا ہے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے دیگر اداروں سے تحفظات دور کرنا فوج کی ذمہ داری کیسے ٹھہرا دی گئی کہ ایسے معاملات تو منتخب سیاسی اور جمہوری حکومت کی ہوا کرتی ہے پھر ایک سیاسی اور جمہوری حکومت نے یہ کیسے گوارا کر لیا کہ اپنے دائرہ کار میں فوج کو شمولیت کی دعوت دے دی اگر تو یہ حکومت کے کہنے پر ہوا تب بھی سراسر غلط اور بغیر حکومت کے کہنے کے ہوا تو مزید غلط کہ اس سے کوئی اچھا پیغام نہیں گیا کل کلاں ڈاکٹرز ، انجینئرز، اساتذہ اور دیگر محکموں کے ملازمین بھی اپنے اپنے مسائل اور معاملات کے حل کے لئے فوج جیسے اہم ادارے کی طرف دیکھنا شروع کر دیں گے جس سے نہ صرف منتخب حکومتیں شدید بحران کا شکار ہو جائیں گی بلکہ فوج جیسے اہم ریاستی ادارے کا عوامی تاثر بھی متاثر ہو سکتا ہے جو کہ ہوا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اسے حکومت کی حمایت اور دیگر جماعتوں کی مخالفت میں دیکھا اور اہم ریاستی ادارے کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنے کی باتیں ہونے لگیں اور ادارے کے ترجمان کی طرف سے ان باتوں کے جوابات بھی آنے لگے جو کہ سراسر غلط سمت کی جانب گامزن ہونے کی نشاندہی ہے –
انتہائی محترم ریاستی ادارے کے بارے میں گو کہ پہلے بھی سیاست دان باتیں اور تحفظات کا اظہار کرتے رہتے تھے لکھنے اور بولنے والے بھی بات کرتے مگر فوج کا نام لئے بغیر اسٹیبلشمنٹ کہہ کر ڈنگ ٹپا لیا کرتے مگر نواز شریف نے اپنی عدالت عظمی سے نااہلی کے بعد خلائی مخلوق کے نئے نام کے ساتھ بات شروع کر دی جو کہ قطعا مناسب طریقہ نہیں تھا کہ نواز شریف اس ملک کے تین بار وزیر اعظم رہ چکے تھے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تین بار وزارت عظمی کے منصب پر فائز رہنے والے کو اگر کوئی تحفظات یا شکایات تھیں تو فوج کی سینئیر قیادت کے ساتھ بیٹھ کر ان کا اظہار کیا جاتا اور باہمی گفت و شنید سے معاملہ کو حل کیا جاتا مگر اس جانب دونوں اطراف سے قطعا کوئی توجہ نہ دی گئی اور معاملات بگڑتے چلے گئے –
گذشتہ تقریبا چودہ ماہ سے مولانا فضل الرحمن کی جماعت جمعیت علماء اسلام کو حکومتی حلقے ذرہ برابر بھی اہمیت دینے کو تیار نہ تھے بلکہ الٹا جناب وزیر اعظم سے لے کر ان کی جماعت کے چھوٹے سے چھوٹے کارکن نے اپنے ہر بیان ، انٹرویو اور تقریر میں مولانا فضل الرحمن کی تضحیک کو اپنا فرض اولین جانتے ہوئے وہ کام کر دکھایا کہ تحمل مزاج مولانا بھی جذبات کی رو میں بہہ گئے اور حکومت سے آزادی کے لئے مارچ کا اعلان کر دیا ایسے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت وقت ہوش کے ناخن لیتی اور اپنی جانب بڑھتے شعلوں پر مٹی ڈالتی مگر سیاسی نابالغوں نے مٹی کی جگہ تیل اور ڈیزل کا استعمال اس زیادتی کے ساتھ کیا کہ پہلے سے لگی آگ کے شعلے مزید بلند ہوتے گئے ایسے میں وطن کے محافظوں کے ترجمان نے بیان داغ دیا کہ ہم منتخب حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں اس بیان نے جلتی پر مزید تیل کا کام کیا اور مولانا فضل الرحمن، مفتی کفائت اللہ ، حافظ حمد اللہ، حافظ حسین احمد، محمود خان اچکزئی، میر حاصل بزنجو اور کئی دیگر نے کھل کھلا کر فوج کے سیاسی معاملات پر گفتگو پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لیا جائے تو یہ تحفظات یکدم تو ابھر کر سامنے نہیں آئے بلکہ انتخابات کی شام تقریبا چھ بجے مختلف حلقوں کی جانب سے ان تحفظات کی نشاندہی ہونا شروع ہو گئی تھی کہ اگر کچھ پولنگ اسٹیشن پر گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹ بیٹھ نہیں پائے اور کچھ پولنگ اسٹیشن پر گنتی کے بعد پولنگ ایجنٹ یا امیدوار کو فارم 45 سے محروم رکھا گیا تو یہ انتخابات کے لئے وضع کردہ ضوابط کی صریحا خلاف ورزی تھی ضرورت اس امر کی تھی کہ جلد از جلد ان تحفظات کو دور کیا جاتا مگر حکومت وقت نے ایک پارلیمانی کمیٹی تو ضرور بنا دی مگر کمیٹی نے آج چودہ ماہ گزرنے کے باوجود اپنے کام کا آغاز تک نہیں کیا یوں تحفظات کا لاوا اندر ہی اندر ابلتا رہا جو آج پھٹنے کو آ گیا ہے-
آج حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں اشد ضرورت ہے کہ سینٹر رضا ربانی اور محترم چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی اس تجویز پر فوری عمل کیا جائے کہ حکومت، اپوزیشن ، عدلیہ اور افواج پاکستان کی اعلی قیادت ایک میز پر سر جوڑ کر بیٹھے اور ایک دوسرے کے تحفظات پر کھل کھلا کر گفتگو کرے کہ دلوں کے اندر موجود لاوا وہیں پر ٹھنڈا ہو جائے ورنہ یہ لاوا اگر ابلنا شروع ہو گیا تو نا قابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے خیالات پر پہرے بٹھانے اور زبانوں پر تالے لگانے سے مسائل حل نہیں ہوا کرتے گفت و شنید سے بڑے بڑے پیچیدہ مسائل کا حل نکل آیا کرتا ہے کہ مشاورت میں برکت ہوتی ہے جلدی کیجئے کہ جلتی پر مٹی ڈالنے کا وقت ہوا چاہتا ہے…!













