صنفِ نازک اور صنفِ کرخت اور ان کا عملی دائرہء کار

6
2295
ہر وہ بات جس کی طرف سے مرد سخت لاپرواہی اور غیر ذمہ داری دکھاتے ہیں اس سے بچاؤ کے لیے خواتین کو ہی پابند کر دیا جاتا ہے۔ لباس ایسا ہو ویسا نہ ہو۔ اکیلی باہر نہ نکلو۔ آخر بھرے شہر میں انسانوں کی آبادی ہے کوئی بھیڑیے تو ہیں نہیں جو چیر پھاڑ جائیں گے۔ انسان ہی ہیں ناں۔ لیکن افسوس کہ زیادہ تر  اشرف المخلوقات ہونے کی تہمت لییے ہوتے ہیں  ۔مرد جو اگر چاہیں تو غیرت و شجاعت کا مرقع بن جائیں ورنہ اغو اکار ڈاکو اور لٹیرا۔ مگر پھر افسوس کہ غیرت کا  مرقع  تو  وہ  صرف   اپنے گھر کی خواتین کے لیے ہوتے ہیں۔
ا سی طرح مرد کو کنبے کا کفیل کہا گیا ہے ۔ لیکن جب وہ خواتین کو ضروریات کے لیے ترساتا اورذلیل بھی کرتا ہے تو اس کا حل  یہ نکالا جاتا ہے کہ عورت کومالی طور پہ خود مختار ہونا چاہیے۔ جبکہ عورت مالی خود مختاری نہیں مالی بے فکری چاہتی ہے۔  اور ایک اچھا شوہر تمام زندگی اس کو یہ سہولت دینے کی کوشش کرتا ہے۔
 ایک خاتونِ خانہ یا ہاؤس وائف یعنی  ایک عورت میں ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ایک سلجھی ہوئی خاتونِ خانہ  سلیقے اور قناعت سے کمیوں کو بھی دور کر لیتی ہے۔ ایک اچھا مرد عورت کی سوچوں اور خوبیوں کو سراہتا ہے نہ کہ نظر انداز کر کے سوچ پر  پہرے بٹھاتا ہے۔ ایک اچھی عورت بہترین وزیر ہوتی ہے جو گھریلو امور میں اپنے خاوند کو نہ صرف با خبر رکھتی ہے  بلکہ صائب مشورے بھی دیتی ہے۔ جس طرح مرد کاکام صرف کما کر لانا ہی  نہیںبلکہ باقی گھریلو امور میں بھی مدد کرنا بھی ہے جیسے کہ بچوں کی تربیت   اور گھر کی دیگر ضرور ت میں عورت کا ہاتھ بٹانا ۔ سودا سلف لا کر دینا خریداری کروانا بچوں کواسکول جانے کے سلسلے میں اگر ممکن ہو تو مدد کرنا۔ بیوی کے احساسات اور پسند نا پسند کا خیال کرنا۔ بال بچوں کیتکلیفا ور بیماری میں میسّر ہونا۔ اس کے رشتہ داروں سے اخلاق سے پیش آنا۔اسی طرح خاتون کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ایک روایتی خدمت گار جسے عرف عام میں ماسی کہتے ہیں اس کی طرح صرف کھانا پکانااور گھ کی جھاڑو پوچی ا ور کپڑے دھونے کو ہی بیوی ہونے کی معراج نہ سمجھے بلکہ میاں کی سوچوں خیالا ت اور احساسات کو بھی سمجھنے والی ہو۔ پسند نا پسند کا خیال رکھنےو الی ہو۔ بیماری دکھ اور تکلیف میں اس کا ساتھ دینےو الی ہو۔ ا سکے والدین اور بہن بھائیوں سے حسنِ سلوک کرے ۔ الغرض گھر کو جوڑنے کے لیےسب سے اہمجزو پیار اور محبت ہے جو گوند کا کام کرتا ہے۔
ایک گھریلو خاتون جسے کمانے کی فکر نہیں ہوتی اس پہ ایک الگ ہی نکھا ر اور آسودگی نظر آتی ہے۔ان مغربی ممالک میں جب ہمارے یہاں کی کوئی گھریلوخاتون گھر سے باہر نکلتی ہے اس کا ایک الگ ہی وقار ہوتا ہے۔ تجربہ ہے کہ جب کبھی کہیں جیسے مثلاً ڈاکٹر کےآفس جاتی ہے تو گوری ڈاکٹرز بھی ایک طرح سے رشک سے دیکھتی ہیں کیونکہ وہ آ سودگی اور اطمینان و سکون جو ایک گھریلو خاتون کے چہرے اور عادات سے عیاں ہوتا ہے،جاب کرنے وال خواتین کو کم ہی میسّر ہوتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ جاب کرنےو الی خواتین  کی جب میٹرنٹی لِیو ختم ہوتی ہے تو ان کو سرد آہیں بھرتے دیکھا گیا ہے۔ ان کے لیے جاب سے ایک دن آف عید ہوتی ہے
 ایک بار ایک میاں بیوی کو جو  ویلفئیر  لیتے تھے ان  کو ویلفیئر آفس میں اَپ ڈیٹ کے لیے بلوایا گیا کہ اگر کوئی جاب ملی ہو تو بتایا جائے۔ تاکہ اس کے مطابق وضیفے میں کمی بیشی کی جائے۔ میاں کو ملازمت گئی تھی مگر اتنی نہیں تھی کہ وہ ابھی پورا گھر چلا سکے۔   لیکن خاتون نے بتایا کہاس ابھی نہیں ملی تھی۔ تو ان کو اس سورت حال میں کورسز کرنے یا کسی ادارے میں رضاکارانہ کام کرنے کو کہاجاتا ہے۔ جیسا کہ بوڑھے لوگوں کے ہومز کو و وزٹ کرنا یا  کسی لائبریری میں وقت دینا ہوتا ہے۔ اس خاتون نے کہا کہ میرے گھر پہ چار بچے ہیں جن کاکھانا پکانا، کپڑے دھونا گھر کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے۔ چھوٹا بچہ ساڑھے پانچ سال کا ہے  اس کو اسکول چھوڑنا اور لانا  بھی کام ہے۔  یہ بھی تو اسی معاشرے کے افراد ہیں ان کی بھی نگرانی کی ضرورت ہے۔ وہ آفیسر خاتون کہنے لگی نہیں تمہیں یہ سروس  گھر کی آسودگی میں نہیں کرنی باہر نکلو۔
یعنی وہ آفیسرخاتون گھر میں رہنے کو آسودگی خیال کرتی تھی۔  اور حیرت یہ تھی کہ ایک بچے سے زیادہ اہم گھر سے باہر نکل کر معاشرے کا حصہ بننا سمجھا جاتاہے۔ جبکہ ماں کے فرائض وہ ہیں کہ جن پر پورے معاشرے کی بنیاد پڑتی ہے۔ لیکن آج کل ماں کے مقدس رتبے کو کیریئر وومن اور  ماڈ گرل میں تبدیل کرنے کی سر توڑ کوشش ہو رہی ہے۔ اس طرح نہ صرف خواتین کو گھر کی آسودگی سے محروم کیا جارہا ہے۔ بلکہ بچے بھی بےماں ہوتے جارہے ہیں۔ اگر وہا سیا نہ کریں تو نرسریز کی مالی منفعت کیسے ہو۔ یہ ایک بہت بڑی انڈسٹری ہے۔ سب مایا نگری ہے۔
میری والدہ ایک بار لندن کی کسی جیولری شاپ سے ڈائمنڈ کی انگوٹھیاں لے رہی تھیں۔ ایک ابا جان نے دلوائی ایک بھائی جان نے دلوائی۔  دونوں نے مل کر چند ایک اور بھی دلوائیں جس میں سےا یک امی جان نے میرے لیے رکھ لی۔ اس وقت میری شادی نہیں ہوئی تھی۔ ایک دادی جان کے لیے لی۔ ایک آنےو الی بہو کے لیے۔ تو شاپ کیپر جو ایک گوری خاتون تھی امی جان کو رشک سے دیکھ رہی تھی۔ پوچھنے لگی آپ جاب کرتی ہیں؟ امی نے کہا کہ کبھی نہیں کی تو کہنے لگی تم کتنی خوش قسمت ہو۔
آج کل لوگ عورتوں اور گھروں کو ہی کیوں بدلنا چاہتے ہیں؟ آدمیوں کو کیو ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تیار نہیں کرتے؟ اور پھر ہر چیز پیسہ ہیں نہیںَ باہمی اعتماد بھروسہ ا ور عزت سب سے اہم ہے۔ یہ ہی نہیں دیکھنا چاہیے کہ شوہر ہمیں کیا دیتا ہے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم اس کی زندگی آسان بنانے کے لیے کیا تعاون کر سکتی ہیں۔ اس کو کولہو کا بیل یا پیسوں کی ٹکسال نہیں سمجھنا چاہیے۔ مشکل وقت بھی ا یثار کےساتھ نہایت خوش اسلوبی سے کٹ جاتا ہے ۔ بلکہ یادگار رہتا ہے۔ ۔ بڑے بزرگ بتاتے اور نصیحت کرتے تھے کہ اگر کسی وجہ سے شاپنگ کا بجٹ نہیں تو اس وقت گھر کی “باطنی صفائی” کر لو۔ یا نئے جوڑے کی ضرورت ہو تو کسی پرانے پہلے جوڑے میں ہی جدت کر لی جاسکتی ہے۔ افسوس کہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ان ممالک میں آکر بعض خواتین ویلفئیر لگو اکر شوہر کو چھوڑ دیتی ہیں۔ یعنی میاں کی صرف کما ئی مطلوب تھی۔ ورنہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ بعض خواتین بڑی بے زاری سے بتاتی ہیں ۔ میاں کو پراٹھا بہت پسند ہے ہرو قت پراٹھا بنانے کو کہہ دیتے ہیں۔ ارے بھئی شکر کرو کہ گھر کی چیز کھانے کو کہہ رہا ہے باہر دوستوں کے ساتھ ہوٹلنگ پہ پیسہ نہیں اجاڑتا۔ اور پرا ٹھا بنانا تو بہت آسان ہے کوئی مشکل چیز کی فرمائیش بھی ہوسکتی تھی۔
آج کل خواتین کی مردوں سے برابری پر زور یا پھر پدرسری نظام پر بہت اعتراض کیا جاتا ہے۔ جبکہ یہ ایک مسلّم حقیقت ہے کہ کسی بھی گروپ یا جماعت کو چلانے کے لیے ایک سپریم ہیڈ ہوتا ہے۔ ا س کے بغیر کوئی ادارہ چل نہں سکتا۔ زندگی کے نظام پہ قابو اسی کے مرہونِ منت ہے۔ایک اسکول کی کلا س میں ایک وقت میں ایک ہی ٹیچر ہوتا ہے، ا سکی مدد کرنے والا مانیٹر کہلاتا ہے۔ گاڑ ی چلانے کے لیے ایک ڈرائیور ہوتا ہے۔ اگر گاڑی بڑی ہو جیسے بس تو ساتھ میں کنڈکٹر بھی ہوتا ہے۔ بلکہ آج کل تو کنڈکٹر کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ صرف ایک ہی انچارج ہوتا ہے۔ ایک گاڑی بیک وقت دو اشخاص نہیں چلا سکتے ۔ وہیل پر ایک ہی انچارج ہوتا ہے۔ اس سے محفوظ سفر جاری رہتا ہے ۔ گھر بھی ایک یونٹ ہے۔ ا س کا بھی ایک سپریم ہیڈ ہوتا ہے۔ کسی ایک کو تو ہونا تھا۔ مرد قویٰ میں مضبوط ہے تو اسے سمجھ لیا گیا بنا دیا گیا یا انسانی فطرت میں ہی  یہ تھا یا پھر مرد خود بن گیا۔بہرحال کنبے کا ذمہ دار مرد ہی کو گردانا گیا ہے۔ اگر عورت کو بنا دیا جائے تو پھر بھی  طاقت کے حصول کی یہ جنگ جاری ہی رہے گی۔ مرد اورعورت یا میاں بیوی ایسے ہی ہیں جیسے کوئی پرنسپل اور نائب۔ میاں کی مشاورت سے بیوی بھی گھر کے فیصلے لے سکتی ہے۔ کامیاب میاں بیوی وہی ہیں جو باہم مشورے سے چلتے ہیں۔ میاں بیوی میں “تَیر مَیر” اور دوسراہٹ گھر کی بنیادیں کمزور کرتی ہے، گھر معاشرے کی وہ اکائی ہے جو مضبوط ہو تو ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ جس گھر میں صبح سویرے  ہی میاں بیوی دونوں ملازمت پر نکل جاتے ہیں وہ گھر سرائے بن جاتا ہے۔ گھر نہیں مکان رہ جاتا ہے، اور ویک اینڈ پر کنبہ مہمانوں کی طرح ایک دوسرے سے ملتا ہے۔ ہونا یہ چاہیےکہ بچے جب سکول یاکالج سے گھر آئیں تو والدین میں سے ایک گھر پر موجود ہو ۔ تب ہی گھر گھر لگتا ہے۔ چنانچہ ہر فرد ہر  جنس ہر صنف کا اپنا ایک کردار ایک  الگ دائرہ کار ہے، کسی کا کردار کم تر نہیں۔ ہر کوئی اہم ہے۔
میرے خیال میں اگر ہم فیملی سسٹم یعنی خاندانی نظام قائم رکھنا چاہتے ہیں اور مغرب کی طرح اس سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتے تو لڑکوں کے تعلیمی نصاب میں لڑکوں کو ایک ذمہ دار گھر کا سربراہ بننے کی تربیت کا مضمون ضرور ہونا چاہیے، جس میں بتایا جائے کہ سربراہ ہونا ذمہ داری ہے نہ کہ خدمات مراعات اور اجارہ داری قائم کرنے کے لیے کوئی منصب۔ نیز لڑکیوں کو بتایا جائے کہ گھریلو معاملات میں ان کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے جتناکہ مرد کا ۔ بلکہ گھر کا نیوکلیئس اورمرکز وہ ہیں۔
طاہرہ مسعود کینیڈا
SHARE

6 COMMENTS

LEAVE A REPLY